دھاندلی کا مقدمہ لاہور چیمبرکی موجودہ قیادت نے تیسری مرتبہ جیت کر اپنی انتخابی شفافیت پر مہر ثبت کر دی۔ دیکھا جائے تو پیاف شفقت گروپ، فاﺅنڈر اور ایل بی ایف کو GTEO پھر سیکرٹری کامرس انڈسٹری کی عدالتوں سے یہ واضح پیغام گیا کہ آپ اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکے لہٰذا آپ کی اپیلیں مسترد یعنی آپ الیکشن کا تیسرا مقدمہ بھی ہار چکے لہٰذا اب دوبارہ ری کاﺅنٹنگ ہوگی۔میرے نزدیک مخالفین کی اپیلیں مسترد ہونے کا فیصلہ آنے والے ٹریڈ معاملات پربہت گہرا اثر ڈالے گا اور نئی قیادتوں کے سامنے پرانی لیڈر شپ کی سیاست بھی خطرات کے بھنور میں پھنس چکی ہے۔
بقول سقراط جب تک تم اپنے لوگوں اور اپنی جماعت کے ورکروں جو عرصہ دراز سے تمہارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ان کو بڑا بناﺅ گے تو وہ بڑا بنیں گے تو تمہاری حیثیت اور مقام بھی بڑا ہوگا۔ سقراط کا یہ فلسفہ میرے نزدیک بڑا واضح پیغام ہے کہ جب تم اپنے ورکرز کو اہمیت نہیں دو گے تو پھر جان لو تمہارا حشر وہی ہوگا جو میدان میں ہارنے والے گھوڑے کا ہوتا ہے۔ کھیل یا سیاست کا میدان ہو، ہارجیت کا مزہ تب آتا ہے جب جیتنے والے کے گھر جا کر یہ پیغام دو کہ تم بہتر تھے جیت تمہارا مقدر بنی ہم آپ کو مبارکباد دیتے ہوئے اگلے انتخابات میں پھر آپ کے مدمقابل ہوں گے۔ بڑے انتخابات میں ہارجیت ہوتی رہتی ہے۔ آج وہ اپنی اچھی پرفارمنس پر جیتے ہیں تو آپ ان سے بہتر پرفارمنس دے کر پھر میدان میں اتریں۔ بجائے اچھی روایت ڈالنے کے آپ نے دھاندلی کے الزامات لگا دیئے۔ کہا گیا کہ الیکشن بڑی دھاندلی کے تحت جیتا گیا۔ بیلٹ پیپرز زیادہ شائع کرائے گئے اور یہ الیکشن چوری ہوا.... میرے نزدیک مخالفین بجائے دھاندلی کے الزامات لگاتے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھتے ان سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیںاور ان کی اپنی ہی غلط حکمت عملی اور غلط منصوبہ بندی نے انتخابات شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی ناک آﺅٹ پوزیشن پر لاکھڑا کر دیا۔ ایک طرف بند کمروں میں لڑا جانے والا الیکشن اور بند کمروں میں جوڑ توڑ تو دوسری طرف ورکرز کلاس کا لیڈرشپ کے ساتھ جذبہ انتخاب اور متحد ہونے کا عزم اور پھر انتخابات کے دن اس جذبے کی رنگین تصویر سب نے دیکھی جب اس تصویر کے تمام رنگوں میں جیت کا رنگ نمایاں تھا۔ اس تصویر نے ثابت کر دیا کہ یہ ورکرز کلاس کا الیکشن تھا۔
میرے نزدیک دھاندلی کے الزامات لیکر DGTOکی عدالت میں جانا پہلی شکست کے مقابلے میں یہ اس سے بڑی شکست تھی جب ری کاﺅنٹنگ میں آپ پھر ہار گئے۔ بات یہاں رکی نہیں بجائے دو شکستوں کے بعد نتائج کو تسلیم کرتے اور تاجر برادری کو مثبت پیغام دیتے یہ لوگ دوسری بار سیکرٹری کامرس اینڈ انڈسٹری کی عدالت پہنچ گئے۔ بڑی تگ و دو کے بعد سیکرٹری کامرس نے بھی تمام اپیلیں سننے کے بعد ان کو مسترد کرکے فیصلہ جیتنے والوں کے حق میں دے کر یہ ثابت کر دیا کہ ستمبر 2024ءکے انتخابات بڑے صاف اور شفاف انداز میں ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ایسے مواقع پر جب ہوا چلتی ہے تو وہ سب کچھ بہا کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ اس دن ہوا مخالفین کے حق میں نہیں تھی۔ یہاں انتخابات سے قبل میاں مصباح الرحمان، میاں شفقت، چودھری امجد، شیخ عرفان اقبال، ناصر حمید جیسے لیڈران کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ فاﺅنڈر کا صدر فاﺅنڈر کا پورے چیمبر کے سٹاف کا کنٹرول ان کے ہاتھ میں تھا پھر انتخابات میں کیسے دھاندلی ہو گئی.... یہ بات کم از کم میرے جیسے جاہل انسان کے پلے نہیں پڑتی۔ اگر آپ نے DGTOاور سیکرٹری کامرس کی عدالت میں پانچ الزام لگانے تھے کم از کم ایک ہی ثابت کر دیتے یہاں آپ ایسا بھی نہ کر پائے۔
میرے نزدیک اخلاقی جرا¿ت ٹریڈ سیاست کا حسن ہے اور اس حسن کا تقاضا یہی تھا کہ آپ لاہور چیمبر جا کر مبارکباد کی ایسی روایت ڈالتے کہ تاجروں میں بجائے تفریق کے اتحاد نظر آئے۔ یہ آج وقت اور حالات کی اشد ضرورت ہے۔ چلتے چلتے مختصر سا جائزہ پیش کرتا چلوں....
2024ءلاہور چیمبر کے انتخابات میں پیاف انجم نثار گروپ، پائنیر گروپ اور پروگریسو گروپ ایک طرف تو دوسری طرف فاﺅنڈر، پیاف میاں شفقت اور ایل بی ایف آمنے سامنے تھے۔ انتخابات سے قبل دونوں اطراف سے بڑی انتخابی مہم جوئی ہوئی۔ ایک طرف اپر کلاس تو دوسری طرف ایسوسی ایٹ کلاس کی جیت کے بڑے دعوے بھی ہوئے۔ ایک کہاوت ہے کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے کہیں ایسا ہی عمل فاﺅنڈر کی طرف سے دیکھا گیا جب اچھے بھلے تعلقات اور کئی سالوں سے جڑے اتحاد کو توڑ کر میاں مصباح کے اس فیصلے نے کہ ہم انتخابات بجائے انجم نثار گروپ کے مقابلے میں دوسری پیاف کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ اس اچانک اور بے وقت کے فیصلے نے کم از کم فاﺅنڈر کو دن میں اس وقت تارے نظر آنے لگے جب انتخابات کے روز آنے والے نتائج نے پوری ٹریڈ باڈی کی بساط پلٹ دی اور ٹرپل پی ٹریڈ اتحاد نے کلین سویپ کرتے ہوئے لاہور چیمبر کی ایک صدی کی تاریخ میں یہ ریکارڈ بھی بن گیا کہ کسی ایک گروپ نے کلین سویپ کرتے ہوئے کارپٹ اور ایسوسی ایٹ کلاس دونوں میں مخالفین کو ایک سیٹ بھی نہیں جیتنے دی جیسے ہی انتخابی نتائج سامنے آئے تو فاﺅنڈر پیاف اور ایل بی ایف نے دھاندلی کے الزامات لگاتے DGTOکے آفس کا رخ کیا اس پر وہاں سے دھاندلی کا نہیں صرف ری کاﺅنٹنگ کا فیصلہ آیالہٰذا موجودہ باڈی نے GDTOکے فیصلے پر عملدرآمد کراتے ہوئے ری کاﺅنٹنگ کروائی وہاں بھی مخالفین کو دوبارہ شکست کا سامنا کرنا پڑااور یہ شکست بھی راس نہ آتی اور دوسری سربند پھر سیکرٹری انڈسٹری کی عدالت میں دھاندلی کا مقدمہ پیش کر دیا گزشتہ دنوں سیکرٹری انڈسٹریز نےDGTO کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مخالفین کی اپیلیں مسترد کر دیں۔
اور آخری بات....
اگر ٹریڈ سیاست کو بچانا اور اس کے ماحول کو بہتر رکھنا ہے تو پھر الزماتی انتخابی دھاندلی اور مفاداتی سیاست کو ختم کرنا ہوگا اور برداشت اور ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے عزم کرنا ہوگا جب ہم اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کو نہیں مانیں گے نقصان آپ ہی کا ہوگا۔
ٹریڈ سیاست کا بڑا فیصلہ
09:17 AM, 31 May, 2025