"فرنٹ لائن ڈیفنڈرز، "ایمنسٹی انٹرنیشنل"، "دی ابزرویٹری"اور فورم ایشیاءکی جانب سے پاکستان پر زور آزمائی کرتے ہوئے خط لکھا گیا ہے کہ ریاست پاکستان ماہرنگ غفار اور دیگر خود ساختہ انسانی حقوق کا لبادہ لئے انتشاری تنظیموں کے سربراہان اور کارکنوں کو فی الفور رہا کریں۔ یہ تمام تنظیمیں جب بلوچستان میں فتنتہ الہندوستان اور فتنتہ الخوارج کے جانب سے دہشتگردی ہوتی ہے ان کی جانب سے خاموشی انکے ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔ حالیہ پاکستان پر بھارتی جارحیت کی مذمت نا کرنا بھی ان کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے نام لیوا ہے، ڈاکٹر ماہرنگ غفار، بیبو بلوچ وغیرہ کے حق میں سامنے آتی ہے، مگر جب بلوچستان میں دہشتگردی ہوتی ہے اس پر یہی ماہرنگ غفار وغیرہ خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر احتجاج تو درکنار مذمت تک نہیں کرتے، ان تنظیموں کی اس پر خاموشی اختیار کرنا ایک یکطرفہ ذہنیت کی عکاسی نہیں کرتا تو اور کیا کرتا ہے؟۔
کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، گلزار امام شنمبے، سرفراز بنگلزئی جیسے علیحدگی پسندوں کے پریس کانفرنسز میں بھارتی انتشار پھیلانے کو کئی مرتبہ ایکسپوز کیا گیا، اس کے علاوہ حالیہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنسز جس میں بھارت کی پاکستان دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کیے گئے، کیا ان تنظیموں کی اس پر خاموشی اختیار کرنا بنتا ہے؟
لاپتہ افراد پر اس خط میں بات کی گئی ہے، اس وقت ورلڈ پاپولیش ریویو کے ویب سائٹ پر موجود معلومات جنہیں انٹرنیشنل کمیشن آن مسنگ پرسنز کے 2021 کے رپورٹ، گلوبل اکنامی، یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائم سے اخذ کیا گیا ہے۔ کے مطابق سر فہرست امریکا ہے جہاں 2022 تک 521705 لوگ لاپتہ ہیں۔ پھر اسی طرح سے دوسرے نمبر پر انڈیا ہے جہاں ایک گھنٹے میں 88 لوگوں کو غائب کردیا جاتا ہے جس میں بچے، عورتیں اورمرد شامل ہے۔ ہر دن 2130 بندے اور 64851 ہر ماہ غائب کردیئے جاتے ہے۔ تیسرے نمبر پر رپورٹ کے مطابق برطانیہ ہے جہاں 2022 تک لاپتہ افراد کی تعداد 180000 ہے جبکہ درحقیقت وہاں 353000 افراد کی فائلیں موجود ہوتی ہیں جس میں اکثریت بچوں کی ہوتی ہے۔ اس
کے علاوہ اور بھی بہت سے ممالک سے جہاں کے لاپتہ افراد کے سامنے پاکستان کے لاپتہ افراد کی تعداد ذرہ برابر بھی نہیں۔ پاکستان میں اس وقت مسنگ پرسنز کی تعداد جو کہ Commission of Inquiry on Enforced Disappearance میں درج کی گئی ہے وہ مجموعی طور پر 10311 ہے، جن میں سے 8042 یعنی 78 فیصد کیسز نمٹا دیئے گئے ہے۔ جبکہ 2269 یعنی 22 فیصد کیسز زیر التوا ہیں۔ لاپتہ افراد کے ٹوٹل نمبرز میں سے 2798 افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے جبکہ باقی افراد کا تعلق ملک کے دیگر حصوں میں سے ہیں۔ ان 2798 افراد میں سے بھی 2362 یعنی 84 فیصد کیسز کو انکوائری کمیشن کی جانب سے نمٹا دیا گیا ہے، چنانچہ 436 (16 فیصد) افراد کے کیسز ابھی تک زیر التوا ہیں۔ لاپتہ افراد کے کل میزان یعنی 10311 میں سے صرف 2798 کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ 2269 یعنی زیر التوا کیسز پر کمیشن کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ان کیسز میں ذاتی دشمنی، اغواءبرائے تاوان، ذہنی مجذوب، یا پھر بیرون ملک مقیم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے لاپتہ افراد ملک دشمن دہشتگرد تنظیموں کو جوائن کرچکے ہے۔ ان تمام سٹیٹسٹکس کے باوجود بھی آپ کی جانب سے کتنے خطور امریکی صدر کو لکھے گئے ہیں؟ کیا بھارتی وزیراعظم کو آپ انسانی حقوق کا درس دینے کی ہمت بھی کرسکتی ہے جہاں منٹوں کے حساب سے لوگ لاپتہ کر دیئے جاتیں ہیں؟ وہی بھارت جنہوں نے کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے، جہاں لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کو قتل کردیا گیا ہے، جہاں عورتوں کی عصمت دری بھارتی شیوہ بن چکا ہے۔ وہی بھارت جنہوں منی پور، ناگا لینڈ، آسام وغیرہ میں اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے؟ 7 مئی کو جب بھارت نے میزائلوں سے پاکستان کے شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جس میں بچے، مرد عورتیں شہید کردیئے گئے ان تنظیموں کی جانب سے اس پر بھی کوئی انتباہ جاری نہ کرنا ایک غیر منصفانہ عمل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متعصب سوچ ہے، جس کی مذمت پورا پاکستان کر رہا ہے۔
اس وقت اقوام عالم میں مخدوش صورتحال خصوصا غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ اسرائیل کی جانب سے جو ظلم اور درندگی، برتی جارہی ہے، جہاں بچوں کو خون میں نہلایا جاررہا ہو، جہاں عورتوں کو زندہ درگور کیا جارہا ہو، جہاں بزرگوں کو بموں اور گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا ہو، جہاں بھوک و افلاس کے گہرے بادل منڈلا رہے ہوں ، جہاں سانس لینا بھی کسی سزا سے کم نا ہو، اسرائیل کی جانب سے اس حیوانیت پر بھی ان انسانی حقوق کے تنظیموں کی خاموشی اعتراف جرم نہیں تو اور کیا ہے؟ ایسا کیونکر ہے کہ جیسے ساری دنیا کی مصیبتیں پاکستان میں پنپ رہی ہیں اور اسرائیل سے زیادہ ظلم و بربریت پاکستان کر رہا ہے؟ آپ کو امریکہ میں لاپتہ افراد کی گونجتی ہوئی آوازیں سنائی نہیں دیتیں، آپ کو بھارت کی کشمیریوں، بھارت کے اندر اقلیتوں پر ظلم اور بھارت میں لاپتہ افراد کی فریاد سنائی نہیں دے رہی؟ مگر بلوچستان میں لاپتہ افراد پر مبنی ایک خودساختہ ڈرامہ جو ان ممالک کے سامنے رتی برابر بھی نہیں انکے لئے آپ میں انسانی حقوق کی ہمدردی جاگ اٹھتی ہے؟ ماہرنگ غفار جعفر ایکسپریس میں مارے گئے فتنتہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی لاشیں لینے سول ہسپتال اپنے ان کارندوں کے ساتھ آتی ہے اور زور زبردستی سے ان لاشوں کو اٹھا کر چلی جاتی ہے بغیر کسی قانونی کارروائی کے، یہاں آپ کی انسانی حقوق کے تنظیموں کو قانون یاد کیوں نہیں آتا؟ واحد بلوچ(تربت)، نور زمان بلوچ(تربت) اور ندیم نامی شخص جنکا تعلق گوادر سے ہونے کا انکشاف ہوا یہ سب بی وائی سی کے لاپتہ افراد میں شامل رہے ہیں جنہیں ماہرنگ غفار ساتھ لیکر گئی۔ ماہرنگ غفار کا ان دہشتگردوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟۔
پاکستان کو بی وائی سی جوکہ فتنتہ الہندوستان کے ذیلی تنظیموں (بی ایل اے) جو کہ اقوام متحدہ کے دہشتگرد تنظیموں کے لسٹ میں پانچویں نمبر پر ہے کی حمایت کرنے، انکی دہشتگردانہ کارروائیوں کو قانونی حیثیت فراہم کرنے، لاپتہ افراد پر پروپیگنڈہ پھیلانے، احتجاج کی شکل میں انتشار پھیلانے جیسے مسائل پر بی وائی سی کو کالعدم قرار دے۔ اس کے علاوہ بی وائی سی کے حمایت یافتہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے غیر مدلل مذمتوں اور انکے پاکستان کے خلاف حرکات و سکنات کے خلاف اقوام متحدہ میں بھرپور طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے۔ اس وقت یہ تمام تنظیمیں جنہوں نے انسانی حقوق کا ڈھونگ رچایا ہے ملک کی سالمیت کے خلاف ایک خطرہ بن چکے ہے۔ بروقت اور ٹھوس فیصلے وقت کی اہم ضرورت بن چکی، بلوچستان ان تماشوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا دوہرا معیار، چند حقائق و سوالات
09:15 AM, 31 May, 2025