سرینڈر موذی پاکستان کے متعلق جس طرح کی زبان استعمال کر رہا ہے تو کچھ لوگوں کے خیال میں اس بات کا امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں ہندوستان ایک بار پھر پاکستان پر حملہ کر دے ۔سب سے پہلے تو ایک بات سمجھنے کے لئے نوٹ کر لیں کہ پاکستان یا کسی بھی ملک میں جب کبھی بھی مارشل لاءلگا تو یہ اس وقت تک ممکن نہیںہوا کہ جب تک مارشل لاءلگانے والوں کو بین الاقوامی برادری اور بالخصوص امریکہ سے NOCنہیں مل جاتا تو اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچیں کہ ہندوستان نے اگر دوبارہ پاکستان پر حملہ کرنا ہے تو اس کے لئے اسے بھی بین الاقوامی برادری اور کم از کم امریکا کو اپنے اعتماد میں لینا پڑے گا ۔ بین الاقوامی سطح پر اس وقت جو صورت حال ہے وہ کسی طور بھی ہندوستان کے حق میں نہیں ۔ یہ ایک محب وطن پاکستانی کے طور پر ہماری رائے نہیں بلکہ ایک ناقابل تردید زمینی حقیقت ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران کوئی ایک ملک بھی ہندوستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ پوری دنیا کھڑی تھی حتیٰ کہ چین ، ترکیہ اور آذربائیجان نے تو ہندوستان سے دشمنی مول لے کر بھی پاکستان کی حمایت کی اور سعودیہ ، ایران اور دیگر عرب ممالک بھی ساتھ تھے اور اس کے بعد برطانوی وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان کے دوران کہا کہ ہندوستان نے برطانیہ کو پہلگام واقعہ کے کوئی ثبوت نہیں دیئے ۔ برطانوی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک طرح سے سفارتی آداب کی خلاف ورزی میں آتا ہے کہ کسی ملک کے خلاف اس طرح کا بلیک اینڈ وائٹ طرز کا بیان نہیں دیا جاتا بلکہ سفارت کاری کی دنیا میںہمیشہ گرے ایریاز میں کھیلا جاتا ہے لیکن اس قدر صاف بیان پاکستان کی سفارتی حمایت کا آئینہ دار ہے ۔ دوسری طرف پاکستانیوں کے لئے کہ ایک بڑی خوش خبری کہ عید کے بعد ترکی ، آذربائیجان اور چین کا ایک بڑا مضبوط اتحاد سامنے آنے والا ہے اور اس میں ترکی کی جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی اور آذربائیجان کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے اور اس میں ظاہر ہے کہ ایران اور عرب ممالک کی حمایت بھی شامل ہو گی ۔
اس میں سب سے بڑھ کر چین جیسے دوست کی آہنی دوستی اور اس کی ماڈرن وار ٹیکنالوجی بھی شامل ہو گی اور اس میدان میں چین جو کچھ پاکستان کو دے گا یہ دنیا کے لئے تو ایک حیران کن بات ہو گی لیکن ہر محب وطن پاکستانی کے لئے ایک خوش خبری اور دفاعی لحاظ سے انتہائی اطمینان بخش بات ہے ۔ اس کی تفصیل بھی دے سکتے ہیں لیکن چونکہ فی الحال غیر مصدقہ ہے اس لئے مناسب نہیں لیکن غیر مصدقہ سے مراد اعداد و شمار ہیں کہ کون سے طیارے کتنی مقدار میں اور کون سے میزائل کتنی رینج کے ہیں اور کتنی تعداد میں ہیں اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اس لئے اسے شیئر کرنا مناسب نہیں لیکن یہ بات طے ہے آنے والے دنوں میں پاکستان ،چین ، ترکیہ اور آذربائیجان کا جو بلاک بننے جا رہا ہے اس کے لئے یورپی ممالک ابھی سے فکر مند ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین اور ترکیہ پاکستان کو جو جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی دینے والے ہیں اس سے مستقبل میں پاکستان کا دفاعی نظام نیوکلیئر پاور کی موجودگی میں کیا قیامت ڈھائے گا اس کا اندازہ ہر دفاعی ماہر کو ہے تو ایسی صورت میں سرینڈر موذی اگر جنگ کا شوق پورا کرنا چاہتا ہے تو بڑے شوق سے کرے لیکن مستقبل میں ملنے والی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کے بغیر پاکستان نے ہندوستان کا جو حشر کیا ہے تو اب اگر کسی قسم کی کوئی حماقت کی تو بقول ڈی جی آئی ایس پی آر اس کے بعد پاکستان جو رد عمل دے گا اس کو ہندوستان کی نسلیں یاد رکھیں گی اور یہ ذہن میں رہے کہ ہماری جانب سے افواج پاکستان کے ترجمان ہوں یا میڈیا وہ جھوٹ نہیں بولتے بلکہ بلکہ جو کہتے ہیں اس سے بڑھ کر کر دکھاتے ہیں ۔
اب ایک ایشو رہ جاتا ہے کہ جو ایک عام آدمی کو شاید سمجھ نہ آئے کہ سرینڈر موذی نے انتہائی گھٹیا سطح پر جا کر پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس میں دو باتیں ہیں ایک تو وزیر اعظم پاکستان نے اگر کہا ہے کہ مستقبل میں اس کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے تو پھر ہمیں اطمینان رکھنا چاہئے کہ ایسا ہی ہو گا اس لئے کہ بڑا اعتراض ہوتا تھا اور بڑے خاص انداز میں دفاعی بجٹ پر اعتراض کرتے ہوئے افواج پاکستان کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اس نے سو سونار کی اور ایک لوہار کی کے مصداق جس طرح ہندوستان کو جواب دیا ہے تو یہ افواج پاکستان کے ناقدین کے منہ بند کرنے کے لئے کافی ہے ۔ خیر بات پاکستان کا پانی بند کرنے کی ہو رہی تھی اول تو ہندوستان کے پاس ایسا میکنزم ہی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روک سکے تو آسان الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ مودی سرکار نے ایک بڑی ” چول “ ماری ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں لیکن دوسری جانب چین ہندوستان کے دو دریا کہ جن کا منبع چین میں ہے یعنی دریائے ستلج اور برہما پتر کا کنٹرول چین کے پاس ہے ۔ یہ کس قدر اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف برہما پتر دریا سے بھارت پانی کی تیس فیصد ضروریات پوری کرتا ہے اور چین اسی برہما پتر پر دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بنا رہا ہے تویہ بھی گیدڑ بھبھکی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ۔ اس کے علاوہ افواج پاکستان اور خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دنیا میں جو پذیرائی مل رہی ہے اس کے بعد انڈیا حملے کی جرا¿ت نہیں کرے گا۔
کیا ہندوستان حملہ کرے گا ؟
09:14 AM, 31 May, 2025