لندن / نیویارک : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کو ایک ماہ کا طویل عرصہ مکمل ہو گیا ہے، جس نے عالمی تیل مارکیٹ میں تاریخ کا بدترین بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ سپلائی چین کے مکمل تعطل سے خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح کو چھونے کے قریب ہیں، جس سے عالمی معیشت کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
معروف امریکی معاشی جریدے ’’بلوم برگ‘‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس بحران نے عالمی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے ،۔ ایشیا سے یورپ تک ایندھن کی شدید قلت کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں، جس سے عالمی سطح پر ترقی کی شرح (GDP Growth) میں نمایاں کمی کا اندیشہ ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کو آئندہ چند ہفتوں میں ڈیزل کے بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کو مفلوج کر دے گا۔
صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) نے اپنے ہنگامی ذخائر سے مزید تیل مارکیٹ میں جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کو روکنا اور عالمی منڈیوں میں پھیلی بے یقینی کو کم کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تیل کی تجارت کا ایک تہائی حصہ گزرتا ہے، کی بندش کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود تاحال کوئی سفارتی حل سامنے نہیں آ سکا ہے۔ اس تعطل نے نہ صرف توانائی کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر مہنگائی کے ایک نئے اور ہولناک طوفان کا راستہ بھی کھول دیا ہے۔
عالمی معیشت پر 'توانائی بم' گر گیا: آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک ماہ مکمل، تیل 200 ڈالر تک پہنچنے کا خطرہ
03:45 PM, 30 Mar, 2026