ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے سارے مشرق وسطیٰ کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال میں تیل کی ترسیل میں جو خلل پڑا ہے اس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں بھی اس جنگ کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مختلف اقدامات کر کے توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے کوشاں ہے۔ معاشی پہلو سے قطع نظر، جنگ کے ہنگام پاکستان نے متحرک سفارتکاری اور متوازن خارجہ پالیسی کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ مثبت امر ہے کہ پاکستان نے اس صورتحال میں اپنے ریاستی مفادات کو مقدم رکھا۔ اس نے کسی ایک فریق کی طرف جھکاﺅ ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ جنگ کے بعد جب علاقائی طاقتیں کسی نہ کسی بلاک کا حصہ نظر آئیں ، پاکستان نے غیر جانبدار خارجہ پالیسی اختیار کی۔ پاکستان نے ایران کے نیوکلیئر تنصیبات پر پر ہونے والے حملوں کی کھل کر مذمت کی ۔ اسے بین الاقوامی قانون اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا۔اس مذمت کے باوجود پاکستان نے کسی ایک فریق کی مکمل حمایت کی اور نا ہی جنگ میں مداخلت کی۔ پاکستان نے اپنے قومی مفاد کی طرف توجہ دی اور خود کو براہ راست جنگی محاذ سے دور رکھا۔ اس کی توجہ قومی معیشت پر رہی اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی طرف۔
پاکستان کی کامیابی ہے کہ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے معاملات ٹھیک ہیں۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی خوشگوار روابط ہیں۔ تیسری طرف امریکہ بھی پاکستان کے ساتھ بات چیت میں مصروف رہا۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے سامنے خود کو ایک ثالث کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ پاکستان کی اہمیت کا اندازہ کیجئے کہ جنگ کے ہنگام سعودی عرب، ترکی اور مصر کے اعلیٰ سفارتی نمائندے اسلام آباد آتے ہیں اور جنگ کے اثرات کو کم کرنے کیلئے مذاکرات کرتے ہیں ۔ وہ جو ہم اکثر لکھتے بولتے ہیں کہ جنگ کے بعد بھی فیصلے مذاکرات کی میز پر ہوتے ہیں، پاکستان نے اس کی عملی تصویر پیش کی ہے اور دنیا کو باور کروایا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مذاکرات اور سفارت کاری ہی کے ذریعے مسائل کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اس وقت محاورتا نہیں واقعتا ساری دنیا کی نظریں پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ پاکستان عالمی میڈیا کی نگاہوں کا بھی مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے کہ عالمی میڈیا اپنی خبروں اور تجزیوں میں یہ امکان ظاہر کر رہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار اداکر سکتا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل نے لکھتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی نے خود کو ایک معتدل اور متوازن ریاست کے طور پر پیش کیاہے۔ ایک طرف پاکستان نے ایران کیساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو احترام اور سنجیدگی کے ساتھ قائم رکھا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو فعال رکھ کر ایک گلوبل ڈپلومیسی پوزیشن حاصل کی ہے۔ خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک شاندار پہلو ہے۔ یعنی کسی ایک کی طرف داری کرنے کے بجائے دونوں طرف تعلقات قائم رکھنے کی صلاحیت ہرگز کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
یہ جنگ ساری دنیا کیلئے اس لئے بھی نہایت اہم ہے کہ آبنائے ہرمز کی وجہ سے عالمی تیل کی ترسیل تعطل کا شکار ہوئی ہے۔ جنگ شروع ہوئی تو پاکستان میں بھی تیل کے بحران کی باتیں ہونے لگی تھیں۔ یقینااس جنگ کی وجہ سے پاکستان میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم پاکستان نے عمدہ سفار تکاری کے ذریعے اس مسئلے کا حل بھی نکالا ہے۔آبنائے ہرمزسے کسی اور کے جہاز گزریں یا نہ گزریں، ایران نے پاکستانی پرچم والے دو جہاز روزانہ گزرنے کی اجازت دی ہے۔ اس اقدام سے ہم کسی حد تک تیل اور توانائی کے بحران سے محفوظ رہنے میں مدد ملی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ تیل کی ترسیل مکمل طور پر رک جاتی تو ہم اس وقت کڑے معاشی بحران سے گزر رہے ہوتے۔
یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کو افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کا چیلنج درپیش ہے۔ دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے آئی۔ ایم۔ ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے کی صورتحال دوپیش تھی۔ جس کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری ہونا تھی۔تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ پاکستان نے یہ مراحل نہایت کامیابی سے طے کئے ہیں۔ اس صورتحال میں ہمیں سبق ملا ہے کہ جنگی حالات ہوں یا معمول کی صورتحال، کسی ملک کے لئے صرف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات استوار رکھنا کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات ہونے چاہییں ۔ تاکہ امن و استحکام قائم رہے اور قومی مفاد کا تحفظ کیا جا سکے۔ یہ سبق بھی ہم نے سیکھا اور اس کا عملی مظاہرہ کیا ہے کہ خارجہ پالیسی صرف سیاسی مفادات کا نام نہیں ہے ، ملک کا معاشی استحکام بھی اس سے جڑا ہوتا ہے۔
خوش آئند بات ہے کہ اس مشکل صورتحال میں پاکستان کی خارجہ پالیسی محض بیانات اور اعلانات تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ پاکستان نے عملی طور پر اقدامات کئے ہیں اور دنیا پراپنی دھاک بٹھائی ہے۔بھارت کے رافیل طیارے زمین بوس کرنے کے بعد سے امریکی صدر ٹرمپ پہلے ہی پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریفیں کرتا پھرتا ہے۔ جنگ کی صورتحال میں بھی امریکہ پاکستان کی اہمیت تسلیم کرتا ہے۔ پچھلے دنوں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک ٹوئیٹ کیا اور پیشکش کی کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذکرات کا میزبان بننے کو تیار ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کا ٹویٹ ، ری ٹویٹ کیا تو اسے بھی پاکستان کے کردار کی اہمیت کے تناظر میں دیکھا گیا۔
اللہ کرے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مزید کامیابیاں سمیٹے۔ یہ جنگ بند ہونی چاہیے۔ جنگ کوئی جیتے یا ہارے، اس کے اثرات بد معصوم انسانوں کی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔ امریکہ میں بھی اس جنگ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے نہیں ہے۔ ہزاروں لاکھوں امریکی شہری مختلف ریاستوں میں حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ لوگوں کا موقف ہے کہ امریکہ کو ایک اور جنگ میں نہیں جانا چاہیے اور اسرائیل کی خاطر جنگ نہیں لڑنی چاہییے۔ یہ جنگ خطے کو مزید غیر مستحکم کرئے گی۔ کاش کہ عالمی قوتیں ہوش کے ناخن لیں اور یہ بات سمجھیں کہ دنیا کو جنگ و جدل کی نہیں امن کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی!!
09:06 AM, 30 Mar, 2026