بین الاقوامی سیاست کے افق پر جب بھی جنگ کے سائے گہرے ہوتے ہیں، تب وہی اقوام تاریخ میں سربلند ٹھہرتی ہیں جو محض تماشائی بننے کے بجائے امن کے پیامبر کا کردار ادا کرتی ہیں۔ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا بطور ثالث اور میزبان سامنے آنا نہ صرف ایک سفارتی کامیابی ہے بلکہ ایک ایسے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے جہاں پاکستان عالمی سطح پر امن و استحکام کا ضامن تصور کیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہا¶س کی جانب سے اس امر کی تصدیق کہ امریکی صدر اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان م¶ثر اور نتیجہ خیز گفتگو ہوئی، درحقیقت پاکستان کی سفارتی سنجیدگی اور بالغ نظری کا مظہر ہے۔ یہ محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک ایسے اعتماد کا اظہار ہے جو دنیا کی بڑی طاقتیں پاکستان پر کر رہی ہیں۔ جب عالمی قوتیں کسی ملک کو ثالث کے طور پر منتخب کریں تو یہ اس کی سیاسی ساکھ، عسکری وقار اور سفارتی مہارت کا واضح اعتراف ہوتا ہے۔ یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ ایران کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کی حمایت سامنے آئی ہے اور مجتبیٰ خامنہ ای جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کا مثبت م¶قف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی کوششیں یک طرفہ نہیں بلکہ فریقین کے لیے قابلِ قبول ہیں۔ مزید برآں چین جیسے عالمی طاقت کا پاکستان کے کردار کو سراہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام آباد اب محض ایک علاقائی کھلاڑی نہیں بلکہ عالمی سفارتکاری میں ایک م¶ثر ستون بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان کا یہ کردار کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، مستقل مزاجی اور دانشمندانہ پالیسیوں کا حاصل ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی سیاسی بصیرت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے جہاں داخلی سلامتی کو یقینی بنایا، وہیں عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور پیشہ ور قوت کے طور پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کا افواجِ پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے، اور یہ اعتماد پاکستان کی مجموعی قومی طاقت کو مزید تقویت بھی دے رہا ہے۔ سفارتی محاذ پر یہ پیش رفت اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ ایک طرف فتنہ الخوارج، تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر شدت پسند عناصر ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تو دوسری جانب دشمن قوتیں پاکستان کے مثبت امیج کو داغدار کرنے کے درپے ہیں۔ مگر ان تمام سازشوں کے باوجود پاکستان کی قیادت نے جس حکمت، حوصلے اور بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک قوم کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف ان چیلنجز کا مقابلہ کیا بلکہ دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور باشعور قوم ہے جو امن کو ترجیح دیتی ہے۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ سے لے کر مغربی دنیا تک پاکستان کو ایک مثبت ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو یہ دراصل اس کے قومی بیانیے کی کامیابی ہے۔ پاکستان کا یہ بڑھتا ہوا وقار اس بات کا غماز ہے کہ عالمی برادری اب اسے ایک ایسے ملک کے طور پر تسلیم کر رہی ہے جو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ دوسروں کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ یہ وہی پاکستان ہے جسے کبھی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، مگر آج وہی پاکستان امن کا سفیر بن کر ابھرا ہے۔
یہ صورتحال بھارت اور دیگر مخالف قوتوں کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ افغانستان میں بدامنی ہو یا خطے میں دیگر تنازعات، پاکستان نے ہمیشہ امن و استحکام کی بات کی ہے اور عملی اقدامات سے اسے ثابت بھی کیا ہے۔ اس تمام تر منظرنامے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے کردار کو محض بیانات تک محدود نہیں رکھا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے دنیا کو یہ دکھایا کہ وہ ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد ثالث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر محب وطن پاکستانی کا دل فخر سے لبریز ہے۔
المختصر! یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایران امریکہ کشیدگی کے اس نازک مرحلے پر پاکستان کا ثالثی کردار ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ عسکری و سیاسی قیادت کی بصیرت کا عکاس ہے بلکہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید سفارتی کامیابیوں کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان عالمی امن کا ایک مرکزی ستون بن کر ابھرے گا، اور اس کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
پاکستان کا سفارتی عروج: ایک قابلِ فخر باب
09:01 AM, 30 Mar, 2026