واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے "بہت غصے میں اور سخت نالاں" ہیں۔
یہ بیان پیوٹن کی طرف سے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی قیادت پر سوالات اٹھانے کے بعد سامنے آیا۔ کچھ دن قبل، روسی صدر نے یوکرین کو عارضی انتظامیہ کے تحت لانے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ وہاں نئے انتخابات کرائے جا سکیں اور اہم معاہدوں پر دستخط کیے جا سکیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز دھمکی دی کہ اگر روس نے یوکرین میں جنگ کو ختم کرنے کی ان کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی تو وہ روسی تیل پر 25 سے 50 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی نہیں ہوئی تو یہ ٹیرف ایک ماہ کے اندر نافذ کر دیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکا اور روس کے درمیان یوکرین میں خونریزی روکنے کا معاہدہ طے نہیں پایا اور اگر انہیں لگا کہ اس میں روس کی غلطی ہے تو وہ روسی تیل پر اضافی ٹیرف عائد کر دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی روس سے تیل خریدے گا، وہ امریکا میں کاروبار نہیں کر سکے گا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ہفتے روسی صدر پیوٹن سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پیوٹن کو معلوم ہے کہ وہ ان سے بہت ناراض ہیں، لیکن ساتھ ہی کہا کہ ان کا روسی صدر کے ساتھ "بہت اچھا تعلق" ہے اور اگر پیوٹن صحیح فیصلہ کریں گے تو ان کا غصہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔