ملک میں اس وقت رنگ بازی اور رنگ سازی کا مقابلہ ہے۔ ایک طرف ہر روزکوئی نئی رنگ بازی میدان میں لائی جاتی ہے تو دوسری طرف وزیراعظم شہبازشریف اتنی ہی قوت اورطاقت سے اس ملک کے ویران معاشی منظرنامے میں کامیابیوں اور بہتری کے رنگ بھرتے جارہے ہیں۔شہبازشریف صاحب کی شخصیت کو ہم سب جانتے ہیں کہ انہیں کام کے علاوہ نہ کچھ آتا ہے اور نہ ہی وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مہینوں کا کام دنوں میں کرنے کی خُو رکھتے ہیں ۔ایک ہی دھن میں مگن ہوتے ہیں کہ جو ذمہ داری ان کے پا س ہے اس میں وہ سب سے ممتاز کیسے نظر آئیں گے اور ممتاز نظر آنے کا وہی فارمولہ ہے جو قائد اعظم نے ہمیں عطا کررکھا ہے کہ کام کام اور صرف کام ۔یہ ہماری بدقسمتی ہی ہے کہ یہاں ممتاز ہونے کے لیے ہمیشہ رنگ بازی کا سہارا لیے جانے کو ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے ایسے میں وزیراعظم شہبازشریف کی صورت ایک رنگ ساز کسی نعمت سے کم نہیں ۔
گوکہ ہمیں معاشی خودمختاری پانے کے لیے مزید شہبازاپروچ کی اشد ضرورت ہے لیکن گزشتہ ایک سال کی شہبازاسپیڈ کی بدولت اب ہمیں کچھ آسانی آتی دکھائی دے رہی ہے۔معاشی میدان میں صورتحال گزشتہ سال سے بہت بہتر ہے۔اس میں شک نہیں کہ مہنگائی ابھی بھی عام آدمی کو پریشان کیے ہوئے ہے رمضان المبارک میں چینی اور مرغی کے گوشت کی قیمت کنٹرو ل کرنے میں حکومت کو وہ کامیابی نہیں ملی جس کا کہ عام آدمی حقدار تھا لیکن اس کے باوجود مجموعی طورپر مہنگائی میں کمی ہورہی ہے اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ مہنگائی کا ٹرینڈ نیچے کی طرف ہے۔اس وقت مہنگائی بڑھنے کی رفتار نوسال کی کم ترین سطح پر چلی گئی ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ شہبازشریف مہنگائی کو نوازشریف کے دور حکومت سے بھی نیچے لے گئے ہیں ۔میری خواہش ہے کہ اس کی رفتار منفی میں چلی جائے تاکہ لوگ غربت کی لکیر سے نہ صرف نیچے گرنا بند ہوں بلکہ اس سے اوپر آجائیں ۔ اگر شہبازشریف اور ان کی ٹیم اسی طرح کام میں مصروف رہتی ہے تو یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کیونکہ جس طرح آئی ایم ایف سے حالیہ معاہدہ ہوا ہے وہ بھی ناقابل یقین ہے۔جب آئی ایم ایف کا وفد یہاں سے ملاقاتیں کرکے جارہا تھا تو معاشی تجزیہ کار کہہ رہے تھے کہ معاہدہ بہت مشکل ہے لیکن دودن پہلے یہ مشکل آسان ہوگئی ۔ آئی ایم ایف نے نہ صرف اسٹاف لیول معاہدہ کرلیا بلکہ پاکستان کو موسمی تبدیلی کی مد میں بھی ایک ارب سے زائد کی رقم کی منظوری بھی دے دی۔اسی آئی ایم ایف رپورٹ نے وزیراعظم شہبازشریف کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی اور یہ بھی بتایا کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو بھی توقع سے کچھ زیادہ رہی ہے۔میرے نزدیک آئی ایم ایف کا جائزہ اس لیے کامیاب رہا کیونکہ وزیراعظم جانتے ہیں کہ اس کے بغیر فی الحال کوئی چارہ نہیں ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف کے رنگ سازی کے اقدامات جاری ہیں اور وہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ حکومت نے نیپرا کو درخواست کر دی ہے اور آئی ایم ایف سے بھی بجلی سستی کرنے کی منظوری حاصل کر لی ہے امید ہے کہ حکومت عوام کو عید کا تحفہ بجلی سستی کرنے کی صورت میں دینے میں کامیاب ہوجائے گی ۔
شہباز شریف کی رنگ سازی صرف معاشی میدان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی میدان میں بھی بے مثال ہے۔ ایک سال میں سعودی عرب کے ساتھ انہوں نے عمران خان صاحب کی رنگ بازی کی وجہ سے بگڑے اور سرد تعلقات کو ’’نِگ‘‘ میں بدل دیا ہے۔ چین کے ساتھ مثالی تعلقات تو پہلے ہی ہیں لیکن ان کو بھی اب شہبازاسپیڈ لگ چکی ہے۔سی پیک دوبارہ فعال ہوچکا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ایس آئی ایف سی اپنی دھن میں لگی ہوئی ہے۔
شہبازشریف پر ایک تنقید ہوتی ہے کہ وہ حکومتی کام کمال کے کرتے ہیں بس ان کو سیاست نہیں آتی ۔ویسے تو وہ سیاستدان ہیں اس لیے یہ کہنا کہ ان کو سیاست نہیں آتی یہ کچھ زیادہ ہوجائے گا کیونکہ وہ وزیراعلیٰ سے وزیراعظم تک پہنچے ہیں تو بغیر سیاست کے تو نہیں پہنچے لیکن میرے خیال میں اگر سیاست صرف رنگ بازی کا نام ہے ۔ہر وقت ’’سیاپے ‘‘ اور رونے پیٹنے،پاکستان کے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے حکومت کو آگے بڑھنے سے روکنے کا نام ہے تو پھر اس ملک میں سیاست کواب ختم ہوجانا چاہئے اور پھر وزیراعظم شہبازشریف سیاست پر توجہ نہ دے کر ٹھیک ہی کررہے ہیں ۔اس ملک کے لوگوں کو معاشی خوشحالی کی ضرورت ہے ۔ غریب کو روٹی چاہئے سیاسی رنگ بازی بہت ہوچکی ۔
ایک طرف یہ رنگ ساز ی ہے تو دوسری طرف ہر وز نئی رنگ بازی سامنے آجاتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر والی رنگ بازی کی گرد ابھی پوری طرح بیٹھی نہیں تھی کہ دودن سے نئی رنگ بازی میدان میں ہے کہ عمران خان صاحب کو نوبل انعام کے لیے نامزدکردیا گیا ہے۔میں نے اس کے فیکٹ چیک کرکے ایک ویڈیو بھی بنائی ہے ۔امن کا نوبل انعام، نوبل انعاموں میں وہ واحد کیٹگری ہے جو کسی کو بھی دی جاسکتی ہے اس کے علاوہ باقی جو ایوارڈ ہیں وہ مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والوں کے حصے میں آتے ہیں ۔اس لیے کچھ بعید نہیں کہ عمران خان صاحب کو بھی کسی وقت یہ انعام مل جائے لیکن جو حالیہ رنگ بازی ہے وہ محض لہو گرم رکھنے کا بہانہ لگتا ہے۔ایک تو یہ کہ یہ نامزدگی کا اعلان ناروے کی جس سیاسی جماعت کے رکن سے کروایا گیا اس کا اپنا یہ کہنا ہے کہ نامزدگی انہوں نے نہیں بلکہ اس نے کی ہے جو یہ کرسکتا ہے۔مطلب جس سے اعلان کروایا ہے اس سے بھی آگے کسی نے یہ کام کیا ہے ۔دوسرا نوبل انعام کی نامزدگی کی بات کرنا صرف ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کی نوبل کمیٹی نہ کبھی تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی تردید۔ اس لیے دنیا میں کوئی بھی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ نوبل کے امن انعام کے لیے نامزد ہوچکا ہے۔تیسرا یہ کہ اس سال کے نوبل انعام کی نامزگی کی تاریخ 31 جنوری 2024 تھی جو دوماہ پہلے گزر چکی ہے۔اب تاریخ گزرنے کے دوماہ بعد اچانک یہ اعلان کرنا رنگ بازی کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ نوبل کے لیے کون کون نامزدہوا اس کا پتہ نامزدگی کے 50سال بعد ہی چلتا ہے جب قوانین کے مطابق نوبل کمیٹی نامزدگیوں کی فہرست پبلک کرتی ہے۔اگر عمران خان صاحب کو اس سال اکتوبر میں یہ انعام نہیں ملتا تو پھر پاکستان کے عوا م کو سن 2075میں پتہ چلے گا کہ کون کون نامزد ہوا تھا ۔اس لیے اکتوبر تک اس رنگ بازی پر پتنگ بازی کرنے کا مارجن پی ٹی آئی کے پاس موجود ہے۔اس کے بعد مزید پچاس سال یہ کہا جاسکتا ہے کہ نوبل انعام ملا نہیں لیکن وہ نامزدتو ہوئے تھے۔۔تو وزیراعظم صاحب رنگ بازوں کو رنگ بازی کرنے دیں آپ اس ملک کیلئے رنگ سازی جاری رکھیں۔
رنگ بازی اور رنگ سازی
09:53 AM, 30 Mar, 2025