امریکی امداد بند، عالمی ادارہ صحت کو بجٹ بحران کا سامنا

12:32 AM, 30 Mar, 2025

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امریکا کی جانب سے مالی امداد کی بندش کے بعد اپنے بجٹ میں 21 فیصد کمی کی تجویز پیش کر دی ہے۔ ادارے کو مالی مشکلات کے باعث اپنی افرادی قوت اور منصوبوں میں کمی کرنا پڑے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے عملے کو ایک اندرونی ای میل میں آگاہ کیا کہ ادارے کو 2025 میں تقریباً 60 کروڑ ڈالر کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے بجٹ میں کٹوتی ناگزیر ہے۔


جنوری میں دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی صحت کے فروغ کے لیے دی جانے والی امریکی امداد کو روکنے کا فیصلہ کیا۔ امریکا، جو کہ ڈبلیو ایچ او کا سب سے بڑا مالی معاون تھا، کی جانب سے فنڈنگ کی بندش نے ادارے کے مالی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔

ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا کہ امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے ترقیاتی امداد میں نمایاں کمی سے نہ صرف ڈبلیو ایچ او بلکہ پوری بین الاقوامی صحت کے نظام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی حالات نے فنڈز کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے۔


گزشتہ ماہ ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو بورڈ نے 2027-2026 کے لیے بجٹ کو 5.3 ارب ڈالر سے کم کر کے 4.9 ارب ڈالر کر دیا تھا، لیکن اب مزید کمی کرتے ہوئے بجٹ کو 4.2 ارب ڈالر تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔


پچھلے مالی سال (2022-23) کے دوران امریکا نے ڈبلیو ایچ او کو 1.3 ارب ڈالر فراہم کیے تھے، جو ادارے کے کل بجٹ کا تقریباً 16.3 فیصد تھا۔ زیادہ تر فنڈنگ مخصوص منصوبوں کے لیے رضاکارانہ بنیادوں پر دی گئی تھی۔


ٹیڈروس اذانوم گیبریئس کا کہنا ہے کہ بہترین کوششوں کے باوجود ادارہ ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں اخراجات میں کٹوتی اور افرادی قوت میں کمی کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ڈبلیو ایچ او کو اپنی سرگرمیاں محدود کرنا پڑیں گی۔


یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جس کا اطلاق 22 جنوری 2026 کو ہوگا۔

مزیدخبریں