عوام کی مفلوک الحالی کا کچھ کریں

09:05 AM, 1 Jul, 2026


پاکستان سفارتی میدان میں عظیم فاتح کے طور پر اپنا آپ منوا چکا ہے۔ امریکہ ایران جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد حتمی جنگ بندی کے معاملات طے کرنے میں مصروف ہیں۔ اسرائیل لبنان اور امریکہ بھی مل بیٹھ کر معاملات طے کر چکے ہیں۔ کہیں کہیں ہلکی پھلکی بمباری بھی ہوتی رہی ہے۔ جنگ بندی فارمولے کی تشریح پر اختلاف کے باعث ٹھاہ ٹھاہ بھی ہو جاتی ہے لیکن مجموعی طور پر معاملات امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کھل گئی ہے۔ ایران پر پابندیاں ختم ہو رہی ہیں، اس کے منجمد اثاثے بحال ہوئے جا رہے ہیں۔ ایران کی تعمیر نو کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ پاکستان کی جے جے ہو رہی ہے، ماشااللہ۔
اندرون ملک حکومت اور عوام کے درمیان عدم اعتماد بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جنگ بندی کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ عامة الناس خوش تھے، پاکستان کی سفارتی فتوحات پر۔انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ جونہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوں گی ویسے ہی انہیں ریلیف مہیا کر دیا جائے گا۔ ویسے ہمارے حکمران قیمتیں بڑھاتے وقت قیمتیں بڑھانے سے پہلے اس طرح کا اعلان نہیں کرتے تھے ادھر قیمتوں میں اضافے کی خبر آتی تھی ادھر وہ پاکستان میں قیمتوں میں اضافہ کر دیتے تھے حالانکہ ہمارے ہاں 28دنوں کا بفر سٹاک موجود ہوتا ہے یعنی 28دنوں کی طلب کو پورا کرنے کا سٹاک موجود ہوتا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں نے قیمتیں بڑھانے میں کوئی بھی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔ قیمتیں بڑھانے کے بعد تاویلیں پیش کرتے تھے۔ حکومت ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی تھی۔ جنگ کی آڑ میں انہوں نے پٹرولیم لیوی بڑھا کر وصولیاں کیں اور ٹیکس وصولیوں کے اہداف کو کسی نہ کسی حد تک پوری کرنے کی سعی کی۔ اب عوام توقع کر رہے ہیں کہ جنگ کے خاتمے اور عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ انہیں ملے گا لیکن حکمران اس حوالے سے بہت زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آرہے ہیں۔ 28فروری 2026ءجب جنگ شروع ہوئی تو عالمی منڈی میں پٹرول 72ڈالر فی بیرل تھا اور ہمارے ہاں پٹرول کی فی لٹر قیمت 252روپے تھی۔ اب عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 70 ڈالر سے بھی نیچے جا چکی ہے اور جب یہ کالم چھپے گا تو قوی امید ہے کہ یہ قیمت اور بھی نیچے جا چکی ہو گی لیکن ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت ابھی تک 300 روپے فی لٹر کی سطح پر ہے۔ عوام ابھی تک 50روپے فی لٹر حکمرانوں کے خزانے میں ڈال رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت نے ریفائنری ایسوسی ایشن کی درخواست پر قیمتوں میں کمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کے منافع میں کمی نہ ہو۔ عوام کا کیا ہے وہ تو کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔
بجٹ 2026-27ءمیں بھی حکومت کچھ اسی قسم کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اضافہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ افراط زر سے کہیں کم ہے۔ مہنگائی کی شرح سے کم اضافہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔ گویا لوگوں کی آمدنیاں، سرکاری ملازمین بشمول حاضر سروس و ریٹائرڈ کی آمدنیوں میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ حکمرانوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ پنجاب حکومت نے تو پنشنروں کے ساتھ اور بھی زیادہ ظلم کا رویہ اختیار کیا ہے۔ پنشنوں میں 3.5فیصد اضافہ مذاق نہیں بلکہ ان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ گویا ریٹائرڈ ملازمین انسان نہیں ہیں۔ سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ اب پٹرول کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں قیمتوں کی کمی کے حوالے سے کمی نہ کر کے حکومت نے عام شہری کو بھی مایوس کر دیا ہے۔ لیکن حکومت کو اس حوالے سے کوئی خاص فکر نہیں ہے۔ وہ تو سفارتی محاذ پر اپنی فتوحات کے نشے میں مخمور نظر آرہی ہے۔ اسے عوامی مشکلات اور مسائل سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ انڈی پنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کے حوالے سے حکمرانوں کا رویہ ہمارے سامنے ہے۔ پوری قوم توانائی بحران میں جکڑی ہوئی ہے۔ بجلی کے بلند ترین ریٹس نے نہ صرف عوام کو بلکہ پوری معیشت کو جکڑا ہوا ہے۔ بجلی کی بلند ترین قیمتوں کے باعث پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے۔ بلند پیداواری مصارف کے باعث اشیا کی قیمتیں بلندی پر ہیں مہنگائی کا باعث ہیں۔ بلند مصارف پیداوار کے باعث برآمدات مہنگی ہیں اور عالمی مارکیٹ میں ہماری اشیا مقابلہ نہیں کر پاتی ہیں، نتیجتاً ہماری برآمدی آمدنی بڑھ نہیں پا رہی ہیں۔ ہمارا توازن تجارت عدم توازن کا شکار رہتا ہے۔ یہ سب کچھ نالائقی کا ہی نہیں بلکہ حکمرانوں کی نیتوں کا بھی کمال ہو سکتا ہے۔ تاثر یہی ہے کہ ہمارے حکمران بدنیت اور عوام دوست نہیں ہیں۔ حکمرانوں کے بیانات پر نہ جائیں، ان کی میٹھی میٹھی باتیں اپنی جگہ لیکن عملاً کیا ہوا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔ ملک قرضوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے ، ٹیکس آمدنی کا نصف سود اور اصلی زر کی ادائیگی میں اٹھ جاتا ہے۔ دفاع اور این ایف سی کے تحت صوبوں کو ادائیگی کے بعد کچھ باقی نہیں بچتا ہے۔ نتیجہ مزید قرض لینے کی 
صورت میں نکلتا ہے۔ کاروباری ریاستی اداروں کو زندہ رکھنے کے لئے بھی اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں، ایسے ادارے جنہیں نفع اندوزی کے لئے قائم کیا گیا تھا آج انہیں زندہ رکھنے کے لئے پلے سے خرچ کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ حکمرانوں کی نالائقی کا نتیجہ ہے۔ سرکلر ڈیٹ یعنی شعبہ توانائی کا گردشی قرضہ ایک جونک کی طرح چمٹا ہوا ہے۔ یہ حکمرانوں کی نااہلی اور بدنیتی کا شاہکار ہے۔ ہمارا نظام کہنے کو تو جمہوری ہے، حکمران عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہے۔ ووٹ کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے۔ محاورہ تو ”دو وقت کی روٹی“ کا ہے لیکن عملاً اب ایک وقت کی روٹی کا حل بھی مشکل ہوتا چلا گیا ہے۔ نصف سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے جا چکی ہے۔ کے پی اور بلوچستان میں دہشت گرد اور علیحدگی پسند تنظیموں نے غدر مچایا ہوا ہے۔ افغانستان کے ساتھ ہم عملاً جنگ کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔ قومی سیاست میں بھی پائیدار استحکام نظر نہیں آرہا ہے۔ تحریک انصاف اور ہمنوا جاری نظام کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ وہ نظری و فکری اعتبارسے نظام کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔ ایسے میں ہم صرف سفارتی میدان میں عظیم فتح کا جشن منا کر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ پائیدار معاشی ترقی کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا۔

مزیدخبریں