کسی بھی زندہ معاشرے میں سیاست اصولوں، نظریات اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے گرد گھومتی ہے لیکن ہمارے ہاں سیاست کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں نظام سے زیادہ چہروں کو تقدس کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ جب سیاسی جماعتیں کسی نظریے یا منشور کے بجائے محض ایک فردِ واحد کی ذات کے گرد طواف کرنے لگیں تو جمہوریت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ شخصیت پرستی کا یہ اندھا سحرووٹر سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے انسانوں کو خدا بنا بیٹھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاست کو کسی ایک شخص کی پسند و ناپسند کا یرغمال بنایا گیا ملک نظریاتی دیوالیہ پن کا شکار ہوا اور زوال کی گہری کھائی میں جا گرا۔ تاریخ کی کتب کھنگالیں تو معلوم ہو گا کہ سلطنتیں دشمن کی تلوار سے کم اور اپنی داخلی کمزوریوں سے زیادہ ٹوٹتی ہیں۔ جب ریاست سے زیادہ اقتدار اہم ہو جائے، جب اختلاف دشمنی میں ڈھل جائے اور جب قومی مفاد سیاسی مفاد کے سامنے بے وزن ہو جائے تو زوال خاموشی سے دروازہ کھٹکھٹانے لگتا ہے۔
پاکستان کی سیاست بھی آج ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سب سے بڑا بحران معاشی نہیں، سیاسی رویّوں کا ہے۔ ہمارے ہاں ہر حکومت خود کو نجات دہندہ اور ہر اپوزیشن خود کو قوم کی آخری امید سمجھتی ہے۔ اقتدار بدلتے ہی کردار بدل جاتے ہیں لیکن سیاسی بیانیے نہیں بدلتے۔ کل جو آئین، قانون اور اداروں کی بات کر رہا تھا، آج اس کی ترجیحات مختلف ہیں اور جو کل تنقید کا نشانہ تھا، آج وہی دوسروں پر وہی الزامات دہرا رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاست آگے بڑھنے کے بجائے ایک دائرے میں گھوم رہی ہے۔ اگر ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں جڑیں پکڑنے اور ادارے مضبوط ہونے کے بجائے ہمیشہ اشرافیہ اور چہروں کے گرد سمٹتی رہیں۔ تحریکِ آزادی کا مقصد ایک نظریاتی ریاست کا قیام تھا لیکن آزادی کے بعد سے اب تک ہمارے ہاں سیاست صرف ’لیڈر‘ کے گرد گھومتی ہے۔ چاہے وہ بھٹو ازم کا سحر ہو، نواز شریف کا بیانیہ ہو، یا عمران خان کا مقبول عام رجحان۔عوام کو ہمیشہ نظریے کے بجائے فردِ واحد کی محبت یا نفرت میں تقسیم کیا گیا۔اس شخصیت پرستی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ سیاسی جماعتیں اب جمہوری ادارے نہیں رہیں بلکہ خاندانی لمیٹڈ کمپنیاں یا ایک ہی شخص کے اشارے پر چلنے والے گروہ بن چکی ہیں۔ جب کسی جماعت کا چیئرمین یا قائد ہی سب کچھ ہو تو پارٹی کے اندر میرٹ اور جمہوری سوچ ختم ہو جاتی ہے۔ متبادل قیادت سامنے نہیں آپاتی اور پوری قوم یہ سوچنے پر مجبور کر دی جاتی ہے کہ ”اگر یہ لیڈر نہ رہا تو ملک کا کیا ہوگا؟“ حالانکہ جمہوریت میں طاقت چہرے کے پاس نہیں بلکہ قانون اور نظام کے پاس ہونی چاہیے۔ آج بھی ہماری سیاست نظریاتی بحثوں سے خالی ہے۔ یہاں مہنگائی، تعلیم، اور بیروزگاری جیسے اصل عوامی مسائل پر بات کرنے کے بجائے صرف اس بات پر جنگ لڑی جاتی ہے کہ کون سا لیڈر سچا ہے اور کون سا جھوٹا۔
اس میں شک نہیں کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حُسن ہے مگر اختلاف رائے کا حُسن اخلاق ہے۔ جب زبان تلخ ہو جائے تو دلیل کمزور پڑ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں الفاظ کی شائستگی، برداشت اور مکالمہ مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔ سیاسی جلسوں سے لے کر ٹیلی ویژن مباحثوں اور سوشل میڈیا تک، دلیل سے زیادہ شور سنائی دیتا ہے۔ حالانکہ شور کبھی بھی کسی قوم کا مستقبل نہیں بناتا۔ ریاستیں نعروں سے نہیں پالیسیوں سے چلتی ہیں۔ باشعور عوام کو اس سے غرض نہیں کہ کون سا رہنما زیادہ زور سے بولتا ہے، انہیں اس بات سے مطلب ہے کہ ان کے گھر کا چولہا جل رہا ہے یا نہیں، نوجوان کو روزگار مل رہا ہے یا نہیں، کسان کی فصل کا معاوضہ مناسب ہے یا نہیں، صنعت کار سرمایہ کاری پر مطمئن ہے یا نہیں، اور انصاف عام آدمی کی دہلیز تک پہنچ رہا ہے یا نہیں۔ اگر یہ سوال جواب مانگتے رہیں اور سیاست صرف ایک دوسرے کی کردار کشی میں مصروف رہے تو نقصان پوری ریاست کا ہوتا ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ پاکستان اس وقت ایک نازک خطے میں کھڑا ہے۔ بدلتی عالمی سیاست، معاشی دباو¿، پانی کے بڑھتے ہوئے مسائل، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی کشیدگی ایسے چیلنجز ہیں جن کا مقابلہ صرف ایک مضبوط اور متحد ریاست ہی کر سکتی ہے۔ دنیا ان قوموں کا احترام کرتی ہے جو اپنے داخلی اختلافات کے باوجود قومی مفاد پر متحد رہتی ہیں۔ افسوس کہ ہم اکثر قومی اتفاقِ رائے کے مواقع کو بھی سیاسی برتری کی جنگ میں کھو دیتے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ اقتدار ہمیشہ عارضی ہوتا ہے مگر ریاست ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ کرسی چند برس کی مہمان ہوتی ہے لیکن فیصلوں کے اثرات نسلوں تک جاتے ہیں۔ اسی لیے بالغ سیاسی قیادت وہ ہوتی ہے جو انتخابی فائدے سے پہلے قومی نقصان کا حساب لگائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور قوم شخصیت پرستی کے سحر سے باہر نکلیں۔ چہروں کی پرستش کرنے والی سیاست نے ہمیں سوائے تقسیم، نفرت اور معاشی زوال کے کچھ نہیں دیا۔ اگر پاکستان کو واقعی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو ہمیں سیاست کا رخ بدلنا ہوگا۔ ہمیں سیاسی جماعتوں سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ افراد کے بجائے اپنے منشور اور کارکردگی پر ووٹ مانگیں۔ جب تک ووٹر کسی لیڈر کی شخصیت کے سحر سے آزاد ہو کر اس کی پالیسیوں پر سوال نہیں اٹھائے گا، تب تک چہروں کی یہ بدلی ہوئی سیاست ہمیں اسی طرح اندھیروں میں رکھے گی۔ سیاست کو شخصیت کے حصار سے نکال کر نظریے اور قانون کے دائرے میں لانا ہی ہمارے محفوظ مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔ پارلیمنٹ کو دوبارہ قومی دانش کا مرکز بنانا ہوگا۔ اختلاف کو محاذ آرائی کے بجائے مکالمے میں تبدیل کرنا ہوگا۔ قومی معیشت، تعلیم، صحت، خارجہ پالیسی اور انتخابی اصلاحات جیسے معاملات کو حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ یہی سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ پاکستان آج ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سیاسی کشمکش کی وہی پرانی داستان ہے جس میں اقتدار منزل اور مخالفین کو شکست دینا کامیابی سمجھی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو ریاست، معیشت اور عوام کے مستقبل کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ تاریخ کسی قوم سے یہ نہیں پوچھتی کہ اس کے حکمران کس جماعت سے تعلق رکھتے تھے؛ تاریخ صرف یہ دیکھتی ہے کہ انہوں نے ریاست کو مضبوط کیا یا کمزور۔ پاکستان کو آج ایسے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں اور اقتدار کو خدمت کا وسیلہ سمجھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر استحکام، ترقی اور قومی وقار کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
شخصیت پرستی کے سائے میں دم توڑتی اصولی سیاست
09:05 AM, 1 Jul, 2026