کوپن ہیگن کی مثال سے سیکھیں !

09:06 AM, 1 Jul, 2026

کوپن ہیگن کا موسم لاہور کے بر عکس سرد اور مہربان تھا جب 1962ءمیں ڈنمارک کی حکومت نے ایک فیصلہ کیا۔ شہر کے دل میں واقع ”سٹروئیگٹ“ نامی سڑک، جہاں دہائیوں سے گاڑیاں رواں دواں تھیں، اسے پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کرنا تھا۔ ارادہ نیک تھا، خواب خوبصورت تھا۔ مگر ڈنمارک کے منصوبہ سازوں نے ایک کام ایسا کیا جو ہمارے ہاں اکثر نہیں ہوتا، انہوں نے سڑک بند نہیں کی، پہلے آزمایا۔ دو سال کے لیے اسے تجرباتی طور پر پیدل مارکیٹ بنایا گیا۔ دکانداروں سے پوچھا گیا، رہائشیوں سے رائے لی گئی، متبادل راستہ اور پارکنگ کا انتظام کیا گیا۔ جب نتائج آئے تو فروخت پانچ گنا بڑھ گئی، لوگ خوش ہوئے، شہر زندہ ہو گیا۔ تب 1964ءمیں اسے مستقل طور پر پیدل سڑک قرار دیا گیا۔ آج وہی سٹروئیگٹ یورپ کی طویل ترین پیدل شاپنگ مارکیٹس میں سے ایک ہے اور کوپن ہیگن شہری منصوبہ بندی کی دنیا میں ایک مثال کے طور پر جانا جاتا ہے۔
میں یہ کہانی کیوں سنا رہا ہوں؟ کیونکہ پنجاب کے کئی شہروں میں ایک ایسا ہی خواب رو بہ عمل ہے۔ راولپنڈی صدر ہو،گوجرانوالہ کا سیٹلائٹ ٹا¶ن یا ملتان کی برانڈ مارکیٹ حکومتِ پنجاب پیدل مارکیٹس کا منصوبہ لے کر آئی ہے۔ یہ خواب غلط نہیں، نیت نیک ہے۔ کون نہیں چاہتا کہ ہمارے بازار بھی یورپ کی طرح خوبصورت اور پیدل دوست ہوں، استنبول کے استقلال ایونیو جیسے، جہاں روزانہ تیس لاکھ لوگ پیدل چلتے ہیں اور بارہ ہزار گاڑیوں کی پارکنگ بھی ساتھ موجود ہے۔مگر یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے، اور یہ سوال نیت پر نہیں، طریقہ کار پر ہے۔
ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ منصوبہ پہلے بنتا ہے، اور پھر اچانک ایک دن دکاندار کو پتا چلتا ہے کہ اس کی دکان کے سامنے سڑک بند ہو چکی ہے۔ نہ کوئی مشاورت، نہ متبادل پارکنگ، نہ ٹریفک پلان۔ راولپنڈی صدر کی مثال لے لیجیے۔ کاروباری حضرات بتاتے ہیں کہ پیدل مارکیٹ بنانے کا پہلے اعلان نہیں، بلکہ پہلا نوٹس تھا جو انہیں ملا اور وہ بھی نفاذ کا، مشاورت کا نہیں۔ کئی ماہ گزر گئے، متبادل پارکنگ کا کوئی بندوبست نہ ہو سکا اور درجنوں دکانداروں نے اپنی آمدنی میں پچیس سے ساٹھ فیصد تک کمی دیکھی۔ یہی کہانی گوجرانوالہ کے سیٹلائٹ ٹا¶ن کی بھی ہے، جہاں تاجر برادری کی انجمن سے کوئی رابطہ کیے بغیر بازار کئی مہینوں کے لیے بند رہا۔
اب ذرا سوچیے، اگر کوپن ہیگن کی حکومت نے 1962ءمیں یہی کیا ہوتا، سڑک بند کر دی ہوتی، کسی سے کچھ نہ پوچھا ہوتا تو کیا آج سٹروئیگٹ دنیا کی مثالی پیدل مارکیٹس میں شمار ہوتی؟ استنبول میں بھی یہی اصول اپنایا گیا: پچاسی فیصد راستہ سایہ دار بنایا گیا، پارکنگ کا مکمل منصوبہ ساتھ تیار کیا گیا، اور دکانداروں کی آمدنی میں چالیس فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ ہمارے اپنے لاہور میں، 2019ءمیں لبرٹی مارکیٹ کو جزوی طور پر پیدل مارکیٹ بنانے کی کوشش کی گئی، مگر پارکنگ کے بغیر یہ تجربہ چھ ماہ میں ناکام ہو گیا اور دکانداروں نے پینتیس فیصد آمدنی میں کمی کی شکایت کی۔ سبق صاف ہے: انفراسٹرکچر پہلے، پابندی بعد میں۔
پنجاب کا موسم یورپ جیسا نہیں مئی جون، جولائی میں درجہ حرارت چالیس ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے، مون سون میں سڑکیں دریا بن جاتی ہیں اور سردیوں میں سموگ سانس روک دیتی ہے۔ اگر پیدل مارکیٹ صرف کھلے فٹ پاتھ پر بنائی جائے، بغیر چھتری، بغیر سایہ دار راہداری اور نکاسی آب کے مناسب انتظام کے، تو دوپہر کے اوقات میں خریدار وہاں سے غائب ہو جائیں گے۔ عالمی تحقیق یہی بتاتی ہے کہ چالیس ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت والے شہروں میں بغیر سایہ دار پیدل علاقوں میں دوپہر کا رش ساٹھ سے ستر فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
اور یہیں ایک اور ستم بھی، جو شاید اس منصوبے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ایک طرف بازاروں کو خوبصورت اور پیدل دوست بنانے کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف انہی بازاروں کو جلد بند کرنے کا حکم بھی جاری ہو رہا ہے۔پہلے آٹھ بجے اور اب نو بجے۔ اگر اس فیصلے کو محض عقلی اور انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے دہکتے ہوئے موسم میں خریدار دوپہر کو گھر سے نکل ہی نہیں سکتا۔ شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک، جب سورج ڈھل رہا ہوتا ہے اور موسم قابلِ برداشت ہوتا ہے، تب جا کر پنجاب کی اربن ریٹیل سانس لیتی ہے۔ پورے دن کا ساٹھ فیصد کاروبار اسی وقفے میں ہوتا ہے۔ اربن ریٹیل دراصل ڈومیسٹک کامرس کا انجن ہے اور سب سے زیادہ پیداواری وقت میں اسے بند کر دینا، پوری سپلائی چین کو ہلانے کے مترادف ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ریٹیل کے کاروباری اوقات ہفتے کے پہلے چار دن رات دس بجے تک اور ویک اینڈ پر بارہ بجے تک کھلے رہنے دیں، تاکہ پاکستان میں کاروبار سانس لے سکے۔
یہاں ایک تضاد نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ ایک طرف حکومت چاہتی ہے کہ بازار خوبصورت اور رات گئے تک رونق والے ہوں، جیسا کہ دنیا کے کامیاب شہروں میں ہوتا ہے۔ دوسری طرف وہی بازار نو بجے زبردستی بند کرا دیے جاتے ہیں، عین اس وقت جب رونق شروع ہونی چاہیے۔ استنبول اور کوپن ہیگن کی مثالیں صرف سڑکوں کی تعمیر کی نہیں، وقت کے انتظام کی بھی ہیں۔ وہاں شام اور رات کا وقت کاروبار کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے، بند کرنے کا نہیں۔ خوبصورتی اور پابندی ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔
حکومتِ پنجاب کے ان دونوں منصوبوں کی نیت کی قدر ہے، مگر ایک گزارش بھی ہے۔ وہ گزارش مخالفت نہیں بلکہ شراکت داری کی دعوت ہے۔ پیدل مارکیٹس کا منصوبہ بننے سے پہلے متعلقہ تاجر تنظیموں سے پوچھ لیجیے، ٹیبل پر بٹھائیے، متبادل پارکنگ اور موسم کے مطابق سایہ دار انتظام ساتھ بنائیے اور ایک علاقے میں نوے دن کا تجرباتی منصوبہ بنا کر نتائج دیکھیے جیسا کہ کوپن ہیگن نے دو سال میں کیا۔ اور ساتھ ہی، کاروباری اوقات کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر متعین کیجیے، تاکہ خوبصورت بازار شام کو بھی زندہ رہ سکیں۔
شہر صرف اینٹوں اور سڑکوں سے نہیں بنتے۔ شہر ان لوگوں کی رضامندی سے بنتے ہیں جو ان میں زندگی گزارتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔ اور شہر تب ہی سانس لیتے ہیں جب انہیں سانس لینے کا وقت بھی دیا جائے۔

مزیدخبریں