امریکہ پہلے حملے روکے، پھر بات کریں ، ایرانی نائب وزیر خارجہ

02:20 PM, 30 Jun, 2025

تہران: ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکا واقعی مذاکرات چاہتا ہے، تو اُسے سب سے پہلے یہ یقین دلانا ہوگا کہ مزید کوئی حملہ نہیں ہوگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بات چیت اور بمباری ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے ثالثوں کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ وہ ایران سے دوبارہ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہتی ہے، لیکن ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ کیا وہ دورانِ مذاکرات کسی حملے سے باز رہیں گے یا نہیں۔

واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد مسقط میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا چھٹا دور رک گیا۔ صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب 22 جون کو امریکا نے خود ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملہ کر دیا، جس سے کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا۔

مجید تخت روانچی نے کہا کہ ایران پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ ایران کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے سائنسی تحقیق اور ترقی کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی ضرورت ہے، اور اس سے مکمل انکار کرنا کسی صورت قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک یہ کہے کہ ایران کو بالکل بھی یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، اور اگر اس نے نہ مانا تو حملہ کیا جائے گا، تو یہ قانون نہیں، بلکہ جنگل کا اصول ہے۔ ان کے مطابق، ایران اس بات پر بات کرنے کو تیار ہے کہ افزودگی کی سطح کیا ہو، لیکن یہ کہنا کہ مکمل طور پر روک دی جائے، ناقابل قبول ہے۔

مزیدخبریں