کس کو خبر تھی، کس کو یقین تھا ایسے دن بھی آئیں گے
جینا بھی مشکل ہوگا اور ہم مرنے بھی نہ پائیں گے
ہم جیسے برباد دلوں کا جینا کیا اور مرنا کیا
آج تری محفل سے اٹھے کل دنیا سے اٹھ جائیں گے
یہ برباد کرتی، انسانیت کو قتل کرتی جنگیں… انسانوں کو موت کے حوالے کرتیں خواہشات…
ہر طرف حادثات… دریائوں اور سڑکوں پر بہتا خون… دہشت گردی کی آڑ میں انسانیت سوز کھیل… اور یہ کھیل پوری دنیا میں اپنے عروج کی طرف ہے۔
ہر طرف موت ہی موت… بزرگوں، نوجوانوں، بچوں، مائوں، بہنوں کی اموات… اخبارات سے لے کر سوشل میڈیا پر موت کی دردناک داستانیں…
ہر لمحہ موت کا شوق… کہ یہ ایک بہانہ بنتی ہے اور اس بہانے کی کئی شکلیں ہوتی ہیں…
موت جو برحق ہے اس نے تو ایک طے شدہ وقت پر آنا ہے… زندگی کو موت ہی نے فنا کرنا ہے… یہ تو لکھی گئی ہے… مگر وہ موت جو ہم خود سمیٹ رہے ہیں وہ موت جسے ہم خود آواز دیتے ہیں وہ موت جس کو ہم دیکھ رہے ہیں زندگی کے اردگرد گھومتی موت کے پروانے جب انسان خود جاری کرنا شروع کر دے…
کل سوات میں ایک قیامت صغریٰ برپا تھی… جب سیالکوٹ کے ایک ہی خاندان کے 16اور دو کا تعلق مردان سے تھا وہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے… سوشل میڈیا پر ان افراد کو دریا میں ایک اونچی جگہ دیکھا جا سکتا ہے اور پھر اسی منظر میں یہ بھی دیکھا گیا کہ 16افراد جن میں عورتیں اور بچے شامل تھے وہ مدد کو پکار رہے ہیں۔ دریا اپنے زوروں پر ہے اس کی خونی پیاسی لہریں ہر طرف موت کا سماں پیدا کئے ہوئے ہیں… یہ وہ دریا ہے جب اپنے جوش میں ہوتا ہے تو وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس منظر نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ کیا منظر ہوگا جب یہ 18افراد چیخ چیخ کر… رو … رو کر اللہ سے غیبی مدد مانگ رہے ہوں گے، اپنے رب کے حضور التجائیں کر رہے ہوں گے۔
اے میرے مولا… رحم کر… اے مولا… بچالے… معاف کر دے… ہم تیرے گنہگار بند ہیں…
آج ہم تیرے ہی رحم و کرم پر ہیں… ہمیں بچا لے… ان دعائوں کے ساتھ دوسری طرف بل کھاتی موت کی لہریں ان کو باری… باری ہڑپ کرکے اپنی پیاس بجھا رہی تھیں۔
وہ معصوم بچے جوبہتے پانی میں اپنی ماں کو پکار رہے تھے…
وہ معصوم جگر گوشے جو حسرت بھری نظروں سے اپنے والد کو دیکھ رہے تھے… کہ وہ ان کو اپنی بانہوں میں لے لے…موت کی طرف جاتے جاتے انہوں نے کس طرح پکارا ہوگا… آنکھوں میں آنسوئوں کے ساتھ وہ اور کیا کہہ رہے ہوں گے۔ بپھری لہروں کے آگے تو بڑے بڑے بہہ جاتے ہیں یہ تو معصوم بچے تھے۔
انہوں نے کس کس کو صدا دی ہوگی؟…
جب دریا کی خونی پیاسی لہریں ان معصوموں کو نگل رہی تھیں تو آسمان بھی خاموش تھا…
یہ سب لوگ تو کاغان اور دوسری وادیوں میں سیر و تفریح کے لئے گئے تھے اور…
اس سفر پر روانہ ہونے والوں کو کیا خبر تھی کہ یہ ان کا دنیا میں آخری سفر ہے…جوان کو کسی بہانے سوات لے آیا ہے۔
ان کو کیا خبر تھی کہ اب یہ دوبارہ گھروں کو لوٹ کر نہیں آئیں گے؟
ان کو کیا خبر تھی کہ ڈسکہ سے سوات ان کی آنکھوں کے آخری منظر ہوں گے۔
یہ بھی کیا اتفاق ہے کہ جب یہ لوگ دریائے سوات پہنچے تو وہ بالکل خشک تھا اور پانی کا نام و نشان نہیں… گو سوات کے پہاڑوں پر دو دن سے بارشیں ہو رہی تھیں۔ ندی، نالوں میں پانی زوروں پر تھا کہ اچانک پانی کے بہائو نے زور پکڑا… اور وہاں کھڑے یہ 18افراد اپنی طرف پانی کو آتا دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھے اور پھر وہ پاگلوں کی طرح پانی کی طرف دوڑنے لگے تاکہ ویڈیو اور تصاویر اپنے پیاروں کو دکھانے کے لئے بنا سکیں… سیلفیاں اور فوٹو گرافی کرتے کرتے وہ یہ دیکھنا بھول گئے کہ دریا خطرناک موڈ اختیار کر چکا ہے۔ دریا سے باہر بیٹھے لوگ ان کو پکار پکار کر واپس بلا رہے تھے… رک جائو… آگے مت جائو… شاید وہ ان کی آوازیں سن لیتے مگر موت اپنا فیصلہ کر چکی تھی۔ ان پر آخری وقت آ چکا تھا۔ دریائی موجوں نے ان کو نگلنے کا پورا پورا اہتمام کر ڈالا… اچانک پانی کا ایک ریلا اپنے ساتھ کچھ اور ہی فیصلہ کرتے بہہ رہا تھا… اور پھر اچانک وہ ہو گیا جس کا کسی نے تصور نہیں کیا ہوگا۔
میرے سامنے تین تصاویر ہیں… ایک تصویر میں یہ سب لوگ دریا میں ایک ایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں اردگرد پانی ضرور ہے مگر خطرناک نہیں… پھر دوسری تصویر میں دور سے پانی آ رہا ہے اور تیسری تصویر جو ان کی زندگیوں کی آخری تصویر تھی چاروں طرف پانی ہی پانی اپنے زوروں سے زمین کو رگیدتا اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو عبور کرتا… ان افراد کی طرف بڑھ رہا ہے… اور پھر وہ کچھ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہئے تھا… قدرت کا بھی تو ایک منظر ہے کہ دور دور تک سیلابی ریلے کا نام و نشان نہیں ہوتا کہ اچانک دیکھتے دیکھتے خالی دریا یوں بھر جاتا ہے جیسے یہ کبھی سوکھا ہی نہیں تھا…
اور آخری بات…
صوبے کا وزیراعلیٰ جس کا مرشد بے حس ہے نے بجائے وہ سانحہ سوات کی ذمہ داری قبول کرے وہ ڈھٹائی سے کہہ رہا ہے کہ کیا میں وہاں خیمے لگا دوں… شاید یہ لوگ نشہ اقتدار میں موت کو بھول گئے ہیں، ایسے حکمرانوں پر خدا کی لعنت… جس کی حکومت کے ناک تلے موت انسانوں کو نگل رہی ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو…
موت کا رقص اور گنڈاپور کی بے حسی
09:10 AM, 30 Jun, 2025