ہاتھی کی سونڈ جیسی لمبی اور ناجائز تجاوزات کی حد تک پھیلی ہوئی ناک یا توسچ مچ ایسی ہی تھی یا پھر بغیر فلٹر اور اناڑی پن سے جس طرح یہ شاہکار تصویر بنا کر فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی تھی اس سے وہ ناک کم اور ہیبت ناک زیادہ دکھائی دے رہی تھی۔ عام طور پر مونچھیں ناک اور ہونٹوں کے درمیان ہوتی ہیں مگر یہ تصویر ناک کے اتنے قریب اور کچھ اس زاویے سے بنائی گئی تھی کہ ناک کے پیچھے منہ کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا اور بس ناک ہی ناک دکھائی دے رہی تھی جس کے اندر تک کسی جنگل کی طرح مونچھوں کا ایک گھنا سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ جبکہ ناک کی بیرونی سطح کسی ایسی ہموار اور کالی پیلی زمین کا منظر پیش کر ہی تھی جس پر اولے پڑنے سے چھوٹے چھوٹے گڑھے بن جائیں۔ کسی انسان کے بے ڈھنگے پن یا اس کی ہیئت کذائی پر ہنسنا یقینا ایک ناپسندیدہ فعل ہے مگر فیس بک پر سکرول کرتے ہوئے جیسے ہی مذکورہ بالا ناک کی یہ تصویر اور اس کے نیچے فیس بکی مسخروں کے طرح طرح کے کمنٹس میرے سامنے آئے۔ بے اختیار ہنسی کے فوارے کے ساتھ میرے اپنے دل و دماغ میں بھی اس ناک سے متعلق خطرناک، دردناک، عبرت ناک، افسوسناک، شرمناک، ہیبت ناک حتیٰ کہ خبر ناک جیسے کتنے ہی نامعقول الفاظ اور طرح طرح کے اُلٹے سیدھے خیال آئے اور پھر آتے ہی چلے گئے۔ کاش میں لفظوں کے ذریعے اس ناک کی ہوبہو تصویر بنا کر آپ کو بھی اپنے ساتھ اس کیفیت کا ہمنوا بنا سکتا جس کے باعث ابھی تک میرے لیے اپنی ہنسی پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال پر مجھے وہ لطیفہ یاد آ رہا ہے جس میں ایک انتہائی دُبلا پتلا اور کمزور شخص ڈاکٹر کے پاس گیا اور اپنی بیماری سے متعلق پوچھنے پر ڈاکٹر سے کہنے لگا ’’ڈاکٹر صاحب پہلے آپ وعدہ کریں آپ میری بیماری کا سُن کر ہنسیں گے نہیں‘‘۔ جواب میں ڈاکٹر نے کہا ’’میں ایک مسیحا ہوں اور میرا کام مریضوں کا علاج معالجہ ہے بھلا میں کسی مریض کی بیماری پر کیوں ہنسوں گا‘‘۔ یہ سُن کر اس شخص نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اُٹھا دیا جو اس قدر باریک اور پتلی تھیں کہ انہیں دیکھ کر بے اختیار ڈاکٹر کی ہنسی چھوٹ گئی۔ مریض نے ڈاکٹر سے گلہ کرتے ہوئے کہا ’’ڈاکٹر صاحب دیکھیں آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ میری بیماری پر ہنسیں گے نہیں‘‘۔ ڈاکٹر نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے مریض سے کہا ’’میں معافی چاہتا ہوں اچھا آپ یہ بتائیں آپ کا مرض کیا ہے‘‘۔ مریض نے دوبارہ اپنی پنڈلیاں ڈاکٹر کو دکھاتے ہوئے کہا ’’ڈاکٹر صاحب پچھلے چند دنوں سے میری پنڈلیاں سوج گئی ہیں‘‘۔ پتا نہیں اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مریض کیا علاج یا حال کیا ہو گا اس بارے صرف راوی ہی نہیں بلکہ سندھ، ستلج اور جہلم بھی خاموش ہیں۔ مگر ناک والا یہ قصہ جس کی بابت میں آپ کو بتا رہا ہوں اگر ڈاکٹر صاحب نے کسی کے بہکاوے میں آ کر بعد میں اسے ڈیلیٹ نہ کر دیا تو ابھی تک ایک کھلی کتاب کی طرح پوری آب و تاب کے ساتھ فیس بک پیج پر موجود ہے۔ دراصل قصہ کچھ یوں ہے کہ سیالکوٹ شہرسے ایک ڈاکٹر صاحب نے فیس بک پر کمپنی کی مشہوری کے لیے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر وقار انور کے نام سے اپنا پیج بنا رکھا ہے۔ اس پیج پر ڈاکٹر صاحب اپنے فالورز کی رہنمائی کے لیے چھوٹی موٹی بیماریوں اور اُن سے بچائو کے متعلق مختلف پوسٹ اور ویڈیوز بنا کر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ مگر اللہ جانے اچھا خاصا نیکی اور سمجھداری کا کام کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی اچانک کیا مت ماری گئی کہ انہوں نے اپنے فالورز کی رہنمائی کرتے کرتے اپنے ناک کی ایک خوفناک قسم کی کلوزاپ تصویر لگا کر اُلٹا اپنے فالورز سے یہ رہنمائی مانگ لی کہ ’’میرے ناک پر چھوٹے چھوٹے دانے ہیں ان کو کیسے ختم کیا جائے پلیز رہنمائی فرمائیں‘‘۔ بس پھر اس کے بعد رہے نام اللہ کا جتنے منہ اتنی باتیں اور جیسے منہ ویسی باتیں ہر کسی نے اپنی ہمت اور بساط کے مطابق ڈاکٹر صاحب کی ایسی ایسی رہنمائی کی کہ ڈاکٹر فردوس عاشق، علی امین گنڈا پور اور ایم کیو ایم کے بانی
الطاف حسین جیسے سیاسی رہنمائوں کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ ڈاکٹر صاحب کے فالورز نے ان کو اس طرح دل کھول کر مشورے دئیے جیسے لوگ دل کھول کر گالیاں دیتے ہیں۔ پتا نہیں ڈاکٹر صاحب نے انجانے میں خود سے مانگے ہوئے ان قیمتی مشوروں میں سے کسی مشورے پر عمل کیا ہو گا یا نہیں البتہ ایک بات کا مجھے قوی یقین ہے کہ اس تجربے کے بعد ڈاکٹر صاحب ’’کھوچل میڈیا‘‘ کے پلیٹ فارم پر کسی سے مشورہ لینا تو دور کی بات شاید آئندہ کسی کو مشورہ دیں گے بھی نہیں۔ البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ بغیر کسی غرض کے ڈاکٹر صاحب کو بڑھ چڑھ کر ان مفت مشورہ دینے والوں میں کسی رنگ نسل اور زبان کے تعصب کے بغیر وطن عزیز کے تقریباً ہر علاقے کے لوگ پیش پیش ہیں جو اس بات کی علامت بھی ہے کہ اس پرچم کے سائے تلے واقعی ہم ایک ہیں۔ ان میں سے چند ایک قیمتی مشورے آپ بھی ملاحظہ کریں ممکن ہے ان میں سے کوئی ایک آدھ مشورہ آپ کے کام کا بھی نکل آئے۔ ’’ایسا ناک ہی نہ رکھو جس پر دانے نکلیں، ناک سے ہر وقت گیسیاں کیا کریں، فکر نہ کریں میں نے مالٹے میں بھی ایسے نشان دیکھے ہیں ان سے خوبصورتی اور بڑھ جاتی ہے، گندم والی گولی دودھ کے ساتھ لینے سے سارا مسئلہ حل ہو جائے گا، شکر کریں بواسیر نہیں ہوئی ورنہ وہ والی تصویر لگانا پڑتی، ایڑھیاں رگڑنے والے جھانویں سے رگڑو نشان ختم ہو جائیں گے، اچھی کمپنی کا پینٹ کرا لو دانے چھپ جائیں گے، ایک چمٹا لے کر اس کو چالیس منٹ تک آگ پر رکھ دیں پھر پورے دس منٹ چمٹے سے ناک کو قابو کر لیں ناک ٹھیک ہو جائے گی، میں اس قسم کے ناک کی تصویر اپ لوڈ کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں، پوٹین بھر کر اچھی طرح رگڑائی کرائیں، تھوڑا فاصلے سے تصویر لیتے ہم تو کچھ اور ہی سمجھ رہے تھے، جمشید دستی کی طرح ناک سے زمین پر لکیریں نکالیں، جہاں دانہ نظر آئے وہاں اینٹ مارو، استغفراللہ اس طرح کی ناک بھی ہوتی ہے، ظالم یہ ناک ہے یا دو نالی بندوق، سریا گرم کر کے اس میں ڈال دیں، آپ کہاں ملو گے میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں میں نے ایک پسٹل لیا ہے وہ چیک کرنا ہے، اسے لاہور لے جائیں، ایک دیسی مرغی خریدو اور صبح شام ناک مرغی کے آگے رکھا کرو، یہ دانے ہمارے محلے کے ایک لڑکے کو بھی تھے آج اس کا چالیسواں ہے‘‘۔
کھوچل میڈیا!
09:09 AM, 30 Jun, 2025