پاکستان پر حملہ؟ پارٹی ہائی جیک، مخصوص نشستیں

09:06 AM, 30 Jun, 2025

12 روزہ اسرائیل ایران جنگ تھمی ہے ٹلی نہیں، اسرائیل کو وہ زخم لگے ہیں جن کے مندمل ہونے میں وقت لگے گا۔ ایران سخت جان حریف ثابت ہوا اور نفسیاتی طور پر فاتح قرار پایا۔ تہران میں جشن، تل ابیب میں سوگ، ٹرمپ نے جنگ بندی کرا دی، اس سے قبل ایران کو پیشگی اطلاع دے کر اس کی تین ایٹمی سائٹس پر بنکر بسٹر بموں سے حملہ کر دیا، 15 دن تک مداخلت نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا ایک دن بعد توڑ دیا۔ پیشگی اطلاع پر ایران نے 18 ٹرکوں میں ایٹمی سامان نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، ایران کا ایٹمی پروگرام اور اثاثے برقرار، ٹرمپ کا نوبل پرائز خطرے میں پڑ گیا۔ ’’جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا‘‘ بے اعتبار ٹھہرے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ملاقات میں جنگ کے دوران لگے گہرے زخم دکھائے۔ 80 عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ جنگی اخراجات 67 ارب 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا، ٹرمپ پہلے برہم ہوا پھر مایوس، بقول افتخار عارف ’’شام آ رہی ہے ڈوبتا سورج بتائے گا تم اور کتنی دیر ہو ہم اور کتنی دیر‘‘ مالی خسارے کی تلافی ہو سکتی ہے۔ لیکن گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ امریکا اپنے اس ناجائز بچے کو ’’بدمعاش‘‘ کی شکل میں پیش کر کے علاقہ کے عرب ملکوں سے ’’بھتہ‘‘ وصول کرتا تھا۔ بدمعاش کا ناقابل تسخیر ہونے کا تصور ختم ہو گیا۔ خطے کا منظر نامہ ابھی دھند میں لپٹا ہے۔ نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ ایران دوست دشمن کو پہچاننے لگا۔ 700 جاسوس گرفتار کیے گئے۔ اکثریت بھارتیوں کی تھی۔ جنہوں نے چاہ بہار میں قائم اڈے سے ایرانی فوجی قیادت اور 14 ایٹمی سائنس دانوں پر حملے کر کے انہیں شہید کیا امریکا اور اسرائیل مل کر بھی ایران کو ختم نہیں کر سکے لیکن آنکھوں میں خوابوں کی چبھن باقی ہے۔ خبریں آ رہی ہیں کہ مودی اور نیتن یاہو نے مل کر پاکستان پر حملے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سرنڈر مودی پر دنیا بھر میں تھو تھو ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں ذلت برداشت کرنا پڑی۔ ٹرمپ نے دھتکار دیا۔ روس نے ہاتھ کھینچ لیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اجیت دودل نے پہلگام حملہ پر حمایت حاصل کرنا چاہی، خواجہ آصف نے چت کر دیا۔ تنظیم کے اعلامیہ میں پہلگام واقعہ کی مذمت کے الفاظ شامل کرانے کی کوشش بھی ناکام رہی۔ دس میں سے 9 مندوبین نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی جس پر بھارت نے اعلامیہ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ عالمی رسوائی کے بعد مودی نے سندھ طاس معاہدہ معلطل کر کے پاکستانی کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی اس دھمکی پر اگست ستمبر میں عمل درآمد کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ پانی بند کیا تو جنگ ہو گی۔ پاکستان نے اس سلسلہ میں ثالثی کی عالمی عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر پاکستان کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے اپنے عبوری فیصلہ میں کہا ہے کہ دونوں فریقوں کی رضا مندی کے بغیر معاہدہ معطل یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی قواعد و ضوابط یہی ہیں مگر مودی کو جو بذات خود کسی قاعدے قانون کے تحت پیدا نہیں ہوا ایک بار پھر پاکستان سے جوتے کھانے کا شوق چرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے دونوں ازلی دشمن اگست ستمبر میں حملہ آور ہوں گے لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ اس بار انہیں ٹرمپ بھی نہیں بچا سکے گا۔ پاکستان پوری طرح تیار، فوجیں الرٹ، آخری حملہ، آخری وار، آخری زخم۔ مودی بچے گا نہ ہندو توا کا تصور، آزاد بھارت وجود میں آئے گا۔
اڈیالہ جیل کے مستقل قیدی خان کا کیا حال ہے؟ مایوسی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ کوئی خیر کی خبر نہیں مل رہی چند گھنٹوں میں تین جھٹکے، آئندہ دنوں میں چار کا خطرہ، گنڈا پور نے منع کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور کرا لیا۔ خان کے پلے کیا بچا۔ علیمہ باجی انتہائی مایوس، جیل سے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بولیں ’’باہر موجود قیادت نے خان کو مائنس کر دیا پارٹی ہائی جیک ہو گئی، گنڈا پور نے کنٹرول سنبھال لیا۔ چند روز قبل ہتھیار لے کر اسلام پر حملہ کرنے اور ٹھوکنے کی دھمکی دی تھی۔ گزشتہ دنوں ٹی وی چینل پر ناخوشگوار لہجہ میں کہا۔ ’’3 لاکھ بنگلہ دیشی سڑکوں پر آ کر تختہ الٹ سکتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں، اس بار حتمی احتجاج میں ناکام ہو گئے 
تو آئندہ 6 ماہ تک کچھ نہ ہو سکے گا۔ 3 لاکھ افراد نکل آئے تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔ گنڈا پور بڑھکوں کیلئے مشہور ہیں جانے کس احتجاج کی باتیں کر رہے ہیں۔ خان نے تو احتجاج موخر کر دیا ہے۔ 3 لاکھ افراد کہاں سے آئیں گے۔ 20 کالوں میں تو آ نہیں سکے۔ گنڈا پور 26 نومبر کو کے پی سے 25 ہزار لے آئے تھے ان میں 10 ہزار سے زیادہ افغان مہاجرین شامل تھے۔ اس دن جو کچھ ہوا حضرت زندگی بھر اسے بھلا نہیں سکیں گے۔ تیسرا جھٹکا مخصوص نشستوں سے محرومی کی شکل میں لگا۔ 440 وولٹ کا کرنٹ، پارٹی کے وجود کو خطرے کا سامنا، سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے بارے میں نظر ثانی درخواستیں منظور کرا لیں۔ 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم جس میں نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا انوکھا پہلو اجاگر کیا گیا تھا۔ ’’آتے ہیں غیب سے یہ مضامین نئے نئے‘‘ پہلے پانامہ سے اقامہ نکلا، میاں نواز شریف نا اہل قرار پائے خان نے کہا نا اہل شخص پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتا ہے۔ خود نا اہل ہوئے تو جیل میں بیٹھے بیٹھے پارٹی کے پیٹرن انچیف بن گئے۔ ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘ 12 جولائی کے فیصلے میں جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کے لیے درخواست ہی نہیں دی تھی اسے نشستیں دان کر دی گئیں، 27 جون کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بنچ نے نظر ثانی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں اتحادی جماعتوں کو دینے کا فیصلہ سنا دیا۔ پی ٹی آئی کے 39 ارکان کے بارے میں فیصلہ بھی آ گیا۔ مختصر فیصلہ میں الیکشن کمیشن کو 15 روز میں نشستوں کی تقسیم اور حلف برداری مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس فیصلہ کے بعد پی ٹی آئی ارکان کے تتر بتر ہونے اور خیبر پختونخوا میں مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی اتحادی حکومت بننے کے امکانات کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی نے فیصلہ مسترد کر دیا فائدہ؟ مخصوص نسشتیں ملنے کے بعد ن لیگ اکثریتی پارٹی بن گئی۔ اتحادی حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل، روز روز کی بلیک میلنگ سے نجات ملی۔ اتحاد قائم رہے گا۔ خان مشتعل ہیں۔ ذرائع کے مطابق جیل میں انار کے جوس سے بھرا جگ زمین پر دے مارا، ’’ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں‘‘ 27 ویں ترمیم آ رہی ہے فیض حمید کیس کا فیصلہ آنے والا ہے۔ 9 مئی کے فیصلے 14 اگست تک ہو جائیں گے خیبرپختون خوا ہاتھ سے گیا۔ سیانے کہتے ہیں ’’سیاست اور پارٹی ختم گردن سے سریا نہیں نکلا۔‘‘

مزیدخبریں