بھارتی دہشت گردی، کشمیری بچے بینائی سے محروم

09:39 AM, 31 Jul, 2026

بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار، پیلٹ اور آنسو گیس حملوں سے سیکڑوں بچے بینائی سے محروم، بھارتی فوجی کارروائیوں میں 1 لاکھ 8 ہزار سے زائد کشمیری بچے یتیم ہوئے۔ جبکہ 2010 کے بعد بھارتی فوج کے پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کے حملوں سے سیکڑوں کشمیری بچے بینائی سے محروم ہو گئے۔ بھارتی فوج کے جعلی مقابلوں میں کم عمر کشمیری بچے شہید اور بہت سے بھارتی کالے قوانین کے تحت جیلوں میں قید ہیں۔ آزادی پسند رہنماو¿ں نے عالمی اداروں سے بھارتی فوج کے ظلم کا شکار کم سن بچوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی منفرد سیاسی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کو تبدیل کرنے کی منظم کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں اپنے بیانات میں کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے اقدامات بالخصوص دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کا مقصد علاقے کے مسلم اکثریتی کردار اور منفرد شناخت کو تبدیل کرنا تھا۔ بھارت علاقے میں غیر مقامی لوگوں کو بسا کر، ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیوں اور دیگر انتظامی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس طرح کے اقدامات کا مقصد کشمیریوں کی منفرد شناخت کو ختم کرنا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ان کے حق خودارادیت کو کمزور کرنا ہے۔ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کے امن، استحکام اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے دور رس نتائج ہوں گے۔ علاقے کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کشمیریوں کے سیاسی اور ثقافتی تشخص پر براہ راست حملہ ہے۔ کشمیر کے منفرد تشخص کا تحفظ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ سول سوسائٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ علاقے کی موجودہ صورتحال کا نوٹس لے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جموں و کشمیر کے بارے میںاقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور کشمیری عوام کے حقوق، شناخت اور آبادیاتی سالمیت کا تحفظ کریں۔ انہوں نے خطے میں آبادی کے تناسب اور ثقافتی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی پالیسیوں پر بھارت کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون اور متنازع علاقے کے حوالے سے کیے گئے بین الاقوامی وعدوں کی خلاف ورزی ہیں۔
تحریک آزادی سے خوفزدہ مودی سرکارایک بار پھر معصوم کشمیریوں پر ٹوٹ پڑی، مودی سرکار کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کیلئے ظلم و جبر کی ہر حد عبور کر رہی ہے۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں پولیس اہلکار کے قتل کے بعد ہزاروں کشمیریوں کو زیرِ حراست لے لیا۔ مودی سرکار نے املاک کو بھی گرانا شروع کر دیا۔ بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پر چھاپوں میں تقریباً 3500 کشمیریوں کو گرفتار کر لیا۔ ترک نیوز ایجنسی ٹی آر ٹی نے بھی قابض فورسزکی جانب سے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیریوں کی گرفتاریوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلگام حملے کے بعد بھی بھارت سرکار کی طرف سے ایسی ہی صورتحال دیکھی تھی۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری اور گھروں کی مسماری کی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں۔ بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور جبر میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ مودی حکومت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
تحریکِ آزادی کی آواز کو دبانے کے لیے مودی سرکار کے اقدامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی کارروائیوں، گرفتاریوں اور چھاپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ بھارتی فورسز نے اننت ناگ واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن شروع کیا، جس پر سیاسی رہنماو¿ں اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ضلع اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز نے مقبوضہ وادی میں کریک ڈاو¿ن تیز کر دیا ہے۔ متعدد علاقوں میں سرچ آپریشن کیے گئے، جبکہ کئی افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض مقامات پر رہائشی املاک کو نقصان پہنچانے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ کارروائیوں کے دوران متعدد افراد گرفتار کیے گئے، تاہم ان دعوو¿ں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ بھارتی حکام کا مو¿قف ہے کہ سکیورٹی کارروائیاں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور شدت پسند سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں اور حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائیاں دیکھی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کارروائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور گھروں کو نقصان پہنچانے کے اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عوام میں مزید بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی خطے کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کی جا رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری موجودہ صورتحال پر سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

مزیدخبریں