بڑھتی آبادی کے مسائل کے حل کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ضروری ہے، میاں عامر محمود

05:39 PM, 30 Jul, 2026

اسلام آباد: بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ ملک میں بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بزنس کمیونٹی کے قریب آکر ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ کاروباری طبقے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومتی ادارے ان کے مسائل تک براہ راست رسائی نہیں رکھتے۔ اگر حکمران عوام اور کاروباری برادری کے درمیان رہ کر مسائل کا جائزہ لیں تو ان کے حل کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب انتظامی لحاظ سے ایک بڑا صوبہ ہے، جبکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات بہتر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ ماضی میں مختلف علاقوں کی انتظامی حیثیت تبدیل کی گئی، بہاولپور کو پنجاب میں شامل کیا گیا جبکہ خیرپور کو سندھ کا حصہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر صوبے نے وقت کے ساتھ اپنی حدود میں تبدیلیاں کیں، اس لیے اب انتظامی ضروریات کے مطابق فیصلے کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے، جبکہ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور پاکستان کو بھی اپنی ترقی کی رفتار بہتر بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور 40 فیصد بچوں کو مناسب خوراک میسر نہیں، ایسے حالات میں مستقبل کی افرادی قوت کی تیاری ایک بڑا چیلنج ہے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں اب بھی پولیو موجود ہے، جس کے خاتمے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے انتظامی یونٹس میں اضافہ کیا اور ترقی کے عمل میں بہتری لائی۔ پاکستان میں بھی نئے صوبوں کے قیام کے لیے مختلف تحریکیں چلتی رہی ہیں، تاہم نئے صوبے سیاسی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بنائے جانے چاہئیں۔

میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس بڑھانے سے اخراجات میں اضافہ ضروری نہیں بلکہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہے۔ زیادہ انتظامی یونٹس قائم ہونے سے صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے سابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب بہترین کام کیا۔

مزیدخبریں