حکومت نے شوگر سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا

12:21 PM, 30 Jul, 2025

اسلام آباد : پاکستان کی حکومت نے شوگر سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے تجاویز کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ یہ مسودہ اگلے ہفتے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔

نئے تجویز کردہ پلان کے مطابق حکومت صرف ایک ماہ کی چینی کی کھپت کے برابر ذخیرہ رکھے گی، جو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے ذریعے منظم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت چینی کی قیمتوں یا اس کی ترسیل میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی۔

اگر ڈی ریگولیشن کے بعد چینی کی قیمتیں قابو سے باہر ہوئیں، تو حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سبسڈی بڑھا کر کم آمدنی والے افراد کو ریلیف دینے کی کوشش کرے گی۔

حکومتی کمیٹی کی تجویز ہے کہ اگر ملک میں چینی کی پیداوار زیادہ ہو جائے تو اس کی برآمد کی اجازت دے دی جائے گی، جس سے کسانوں کو اچھے دام ملیں گے اور ملک کی معیشت کو فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، شوگر ملز کی صلاحیت بڑھانے کا بھی ہدف ہے۔ موجودہ وقت میں ملز تقریباً 50 فیصد صلاحیت پر کام کر رہی ہیں، جسے بڑھا کر 70 فیصد تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کی چینی کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ اضافی 2.5 ملین ٹن چینی بھی پیدا کی جا سکے گی، جس سے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کرنے کی توقع ہے۔

مستقبل میں چینی کی مارکیٹ کو نجی شعبہ خود ریگولیٹ کرے گا، اور حکومت صرف بفر سٹاک کی حد تک کردار ادا کرے گی۔

ذرائع کے مطابق، اس فیصلے پر تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد حتمی مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس پالیسی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

مزیدخبریں