لاہور چیمبر کی ایک صدی کی یوں تو بہت سی روایات ہیں کئی صدور آئے کوئی نامزدگیوں کے ذریعے تو کوئی ووٹ کی طاقت سے صدر بنا بڑے دعوے بڑے وعدے جو کچھ ادھورے تو کچھ نے وفا کی مثال قائم کی۔ میرے نزدیک خدا تعالیٰ نے جب کسی بندے سے کام لینا ہوتا ہے تو وہ اپنے ایسے ایسے بندوں سے کام لے جاتا ہے جن کے بارے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ کوئی بڑی تاریخ رقم کی جائیں گے۔ 2024ء کے انتخابات میں کلین سویپ اور ووٹ کی طاقت کا منظر سب نے دیکھا جب ایک تین جماعتی اتحاد32 سیٹیں جیت کر ووٹ کی حکمرانی قائم کر جاتا ہے اور پھر ابوذر شاد صدر لاہور چیمبر لاہور چیمبر کی تاریخ بدل کر حکومتی ایوانوں میں ایک بھونچال کھڑا کرتے ہوئے 19جولائی کو تاجر برادری کی طرف سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرجاتا ہے۔ عام تاثر یہ تھا کہ کئی بار ہڑتالوں کے اعلانات ہوئے، حکومتی اور اپوزیشن کے تاجر اتحادوں نے تاجروں کو ہمیشہ تقسیم کیا وہی ہوا جو ماضی کی روایات تھیں جب ابوذر شاد نے ملک بھر کے تاجروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے پر ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تو اس اعلان کو بھی کاغذی تصور کرتے ہوئے حکومتی وزارتی سطح پر اجلاس ہوئے۔ مطالبات تسلیم کرنے کے وعدے کئے گئے مگر لاہور چیمبر کا صدر اپنے ایثار کے ساتھ کھڑا ہو گیااور اعلان کر دیا کہ اب آر یا پار۔۔۔ اتنا جوش، اتنا ولولہ، اتنا جذباتی ماحول لاہور چیمبر کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا نہ کسی سابقہ صدر نے ریاست کو للکارا۔۔۔ اب نہیں تو پھر نہیں کے اس نعرے نے لاہور تاجر برادری کو یکجا کر دیا کیونکہ یہ اتحاد انتخاب جیتا ہوا تھا لہٰذا انہوں نے اپنے صدر کی ’’کنڈ‘‘ نہیں لگنے دی اور حکومتی اکھاڑے میں بڑے دائو پیچ کھیلے گئے یہی نہیں لاہور چیمبر کی آواز کو کراچی حیدرآباد اور دوسرے چیمبر نے بھی ’’جی آیاں نوں‘‘ کہا اور انہوں نے بھی ہڑتال کا اعلان کر دیا۔۔۔
تقریباً ایک ہفتہ تاجروں اور حکومتی وزراء کے درمیان مذاکرات میں گزر گیا۔ حکومت کا خیال تھا کہ ’’لارا لپا‘‘ لگا کے معاملے کو ٹھپ کر دیں گے مگر لاہور تاجر برادری نے اس بار ایکا کیا ہوا تھا کہ نہیں آر یا پار۔۔۔ اور اس آر پار نے جہاں تاجروں کو یکجا کیا وہاں ان تاجروں کو حوصلہ ملا، سب تاجروں نے اپنے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے اپنے حقوق کے لئے جنگ کا طبل بجا یا وہاں پھر سب نے دیکھا کہ لاہور چیمبر جیت گیا۔ کراچی اور حیدرآباد نے بھی زور لگایا یوں 19جولائی کا دن تاجروں کے لئے جہاں کامیاب نظر آیا وہاں یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر قیادتیں مضبوط ہوں اور وہ بغیر کسی لالچ کے کوئی بڑا فیصلہ کرنے پر آجائیں تو پھر ہر کوئی ابوذر شاد بن سکتا ہے۔ یہاں اس امر کو بھی دیکھتے ہیں کہ جب اس طرح کے فیصلے آتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ دیوانے کا خواب یا سستی شہرت کی ایک چال ہے مگر نہ یہ دیوانے کا خواب اور نہ یہ شہرت کے لئے کوئی چال تھی۔ البتہ لاہور تاجر برادری نے اس دفعہ کی حکومتی چال کو نہیں چلنے دیا وہ وزرا جو دھمکا رہے تھے ان کو سب نے مذاکرات کی میز پر بیٹھتے دیکھا۔۔۔ یہاں ابوذر شاد کے ساتھ ایس وی پی خالد عثمان، وی پی شاہد نذیر کے علاوہ میاں انجم نثار، محمد علی میاں اور علی حسام کو بھی ڈٹ کر مقابلہ کرتے دیکھا یعنی ایک گھرمیں سب متحد تھے کہ ان سب کے پیچھے ووٹ کی وہ طاقت تھی جس نے 2024ء کے چیمبرز کے انتخابات میں اس قیادت پر بھروسہ کیا کہ وہ ان کے موقف کا دفاع کرے گی، اسی ووٹ کی طاقت نے لیڈرشپ کو امید دلائی کہ آر یا پار۔۔۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔
19جولائی کو لاہور بند تھا ، کیمرے کی آنکھ نے کوشش کی کہ وہ کہیں نہ کہیں سے دیکھ سکے کہ فلاں مارکیٹ بند نہیں تھی مگر اس دن لاہور کے شٹر ڈائون تھے، کراچی اور حیدرآباد کے شٹر بند تھے ایک مکمل اور جامع ہڑتال پہلی بار جہاں قیادت مضبوط نظر آئی وہاں تاجر کی جیت نے آنے والے کل کو بھی خبردار کر دیا کہ اب جب بھی ہو گا آر یا پار۔۔۔ اور حکومتی وقت کو بھی یہ بات سمجھ آگئی کہ تاجر ریڑھ کی ہڈی ہیں، اب جو بھی فیصلہ کرنا ہے ان کو اعتماد میں لینا ہو گا ورنہ اب دال نہیں گلنے والی۔۔۔
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
اور آخری بات۔۔۔
گزشتہ دنوں خوبصوت نین نقش والے وی پی لاہور چیمبر شاہد نذیر اپنے آفس میں دوستوں کے ساتھ براجمان تھے، میں نے ہڑتال کے بارے مبارکباد دی اور سوال کیا کہ ایک صدی والے لاہور چیمبر کی تاریخ میں پہلی بار کیسے آپ لوگوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا؟۔۔۔ تو وہ بولے۔۔۔ جس طرح ہم نے 19جولائی کو جیتا۔۔۔ اور حکومت کو بھی اس بات کی سمجھ آگئی ہے کہ تاجروں کے ساتھ مل کر چلنا ہی دونوں کے مفاد میں ہے۔ شاہد نذیر نے جہاں لاہور کا شکریہ ادا کیا وہاں میرے نزدیک 19جولائی کی ہڑتال نے جہاں پورے ملک کے تاجروں کواکٹھا ہونے کا پیغام دیا وہاں لاہور چیمبر نے ایک لائن بھی ڈرا کر لی ہے اور اس کا کریڈٹ بھی صدر ابوذر شاد ان کی پوری باڈی اور لاہوری ووٹر کو جاتا ہے۔
لاہورچیمبر نے اپنی لائن ڈرا کر لی
09:15 AM, 30 Jul, 2025