ریاست! شفیق ماں یا استحصالی شکاری؟

09:14 AM, 30 Jul, 2025

بچپن میں ایک عجیب سی کہانی سنتے تھے، ایک ایسے قبیلے کی جو پہلے کسی انسان کو قید کرتا، پھر کچھ عرصہ اسے کھلا پلا کر صحت مند بناتا اور آخرکار اسے ذبح کر کے کھا جاتا۔ اس وقت یہ محض ایک وحشیانہ قصہ لگتا تھا، لیکن جیسے جیسے شعور بڑھا، یوں محسوس ہوا کہ یہ کہانی تو دراصل ہمارے سماجی نظام کا عکس ہے۔ آج ہم بھی اسی رویے کا شکار ہیں۔ بس انداز بدلے ہیں، قید کی شکلیں بدل گئی ہیں، اور شکاریوں نے مہذب، آئینی و قانونی لباس پہن لیا ہے۔ ہم ایک ایسے ریاستی نظام میں جی رہے ہیں جو بظاہر ہمیں تحفظ دیتا ہے، آئین ہمیں حقوق دیتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ نظام عوام کو دباتا، تھکاتا، نچوڑتا اور پھر خاموشی سے ان کے وسائل ہڑپ کر جاتا ہے۔ یہ نظام نہ صرف عام شہری سے وسائل چھینتا ہے بلکہ اسے معاشی غلامی کے ایسے جال میں پھنسا دیتا ہے جہاں وہ صرف سانس لیتا ہے، جیتا نہیں۔
حکومت اور اس کے ادارے آئے روز دعویٰ کرتے ہیں کہ مہنگائی میں کمی آ رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق مہنگائی 23.4 فیصد سے کم ہو کر صرف 4.5 فیصد رہ گئی ہے، مگر یہ اعداد و شمار عوام کی زندگی میں کوئی فرق نہیں لا سکے۔ روزمرہ اشیاء ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ آٹا، چینی، دودھ، سبزیاں، گھی اور دالیں گویا کہ ہر چیز کی قیمت عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ مہنگائی کی رفتار بھلے کم ہوئی ہو لیکن عوام کے پیروں تلے آگ اب بھی دہک رہی ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، ایک متوسط گھرانے کا ماہانہ راشن پچھلے ایک سال میں کم از کم 28 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ گویا ایک طرف حکومتی بیانات میں مہنگائی کنٹرول میں ہے، دوسری طرف دکانوں اور بازاروں میں عوام کا حال چیخ چیخ کر کچھ اور کہانی سنا رہا ہے۔ سب سے زیادہ لوٹ مار توانائی کے شعبے میں کی جا رہی ہے۔  پچھلے ہفتے خبر آئی کہ ملک کی آٹھ بڑی بجلی تقسیم کار کمپنیاں 244 ارب روپے کی اووربلنگ میں ملوث پائی گئی ہیں۔ یہ صرف غفلت نہیں، منظم چوری ہے، جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں بجائے اصلاح کے، حکومت بجلی کے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی واپس لے رہی ہے۔ جولائی کے اختتام پر 1.55 روپے فی یونٹ کا ریلیف بھی ختم ہو چکا ہے اور مستقبل میں مزید اضافے کی نوید دی جا رہی ہے۔ اگر آپ کو موقع ملے تو تقسیم کار کمپنیوں کے دفاتر میں غریبوں کو بل ہاتھ میں لیے سینہ کوبی کرتے دیکھیں۔ بجلی چوری کرنے والے طاقتور طبقات کے مجرمانہ فعل کی سزا غریب آدمی کو بھگتنا پڑتی ہے۔
گیس کا حال اس سے بھی بدتر ہے۔ 2800 ارب روپے کا گردشی قرضہ عوام کے کندھوں پر ڈالنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ وزارت توانائی کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ اس کا حل 3 سے 10 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کی صورت میں نکالا جائے گا۔ یعنی عوام سے پہلے بجلی کی چوری، پھر اس کی قیمت وصولی اور اب پیٹرول کے ذریعے دوہرا بوجھ!
ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں اس وقت بھی عالمی منڈی سے کئی گنا زیادہ ہیں، حالانکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 25 فیصد تک کم ہو چکی ہیں۔ مگر پاکستان میں خوردنی تیل مزید مہنگا کر دیا گیا۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق عوام سے فی کلو 175 روپے تک اضافی وصولی کی جا رہی ہے۔ اتنے بڑے سکینڈل پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اسی طرح چینی کی کہانی بھی کم تلخ نہیں۔ پہلے برآمد، پھر درآمد اور عوام کو دونوں صورتوں میں خسارے میں رکھا جاتا ہے۔ شوگر مافیا جس کی اکثریت طاقتور سیاستدانوں پر مشتمل ہے۔ پارلیمان میں موجود یہ خود یا ان کے نمائندے پالیسی کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ اگر میڈیا یا سوشل میڈیا پر شور مچے تو چند بیانات یا ایک بے نام سی انکوائری شروع کی جاتی ہے جسے بعد میں فائلوں کی تہوں میں دبا دیا جاتا ہے۔ اس نظام کی طاقت صرف غریب کا جھونپڑا گرانے، اس کی ریڑھی الٹانے اور اس کی چھوٹی سے دکان توڑنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
گزشتہ دنوں فیک نیوز واچ ڈاگ نے پاکستانی حکومت کے خلاف 38 صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کیا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ صرف ایک سال میں حکومت نے 1.02 کھرب روپے عوام کی جیبوں سے پیٹرولیم لیوی کی آڑ میں نکال لیے ہیں۔ اوگرا کا ادارہ صرف سفارشات دیتا ہے، اصل فیصلے طاقتور ہاتھوں میں ہوتے ہیں جو عوام کے دکھ سے مکمل طور پر بے نیاز ہیں۔ جنہیں شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ ان کی گاڑی میں ڈلنے  والے پٹرول کی فی لیٹر قیمت کتنی ہے؟
عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے۔ یہ محض معاشی زوال نہیں، بلکہ ریاستی نااہلی اور حکومتی بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ریاست واقعی ماں جیسی ہوتی تو کیا اپنے بچوں کو ایسے معاشی جہنم میں دھکیلتی؟
ریاست کے ادارے آج شفیق ماں نہیں بلکہ ایسے استحصالی شکاری بن چکے ہیں جو اپنے ہی عوام کو پہلے فریب دیتے ہیں، پھر جکڑتے ہیں، اور آخرکار ان کے وسائل کو چوس لیتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تبدیلی صرف ووٹ دینے سے نہیں آئے گی، بلکہ شعوری جدوجہد کے ذریعے  حقیقی جمہوری نظام  لانا ہو گا جو قرآن حکیم کے فکر اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم آہنگ ہو۔ جب تک ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ ہمارا اصل ہدف کیا ہے؟ ظلم کرنے والا کون ہے؟ تب تک ہم صرف چہرے بدلتے رہیں گے لیکن نظام وہی رہے گا۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہو گی، نظام کے شعور کے ذریعے کرپٹ اداروں کا احتساب کرنا ہو گا اور ایسے افراد کا انتخاب کرنا ہو گا جو واقعی ریاست کو شفیق ماں بنانا چاہتے ہیں، نہ کہ اسے اشرافیہ کا غلام۔ ورنہ ہم سب اسی قبیلے کا شکار رہیں گے، جو  پہلے سنوارتا ہے اور پھر ذبح کر کے کھا جاتا ہے۔ یا شاید اس سے بھی بدتر۔

مزیدخبریں