چینی چونا

09:13 AM, 30 Jul, 2025

جب سے وطن عزیز معرض وجود میں آیا ہے اس پر کسی نہ کسی مافیا کا قبضہ رہا، کبھی چینی مافیا، کبھی آٹا مافیا، پھر کھاد مافیا، بجلی مافیا، پیٹرول مافیا انہوں نے کسی نہ کسی شکل میں واردات ڈالی۔ قوم سے اربوں روپے لوٹے اور بلا خوف و خطر حج عمرے کی ادائیگی یا سوئٹزر لینڈ ٹور کے لیے روانہ ہو گئے۔ ہر دور کی حکومتوں نے ان کی شدید الفاظ میں مذمت کی، انہیں کڑی سے کڑی سزائیں دینے کا اعلان کر کے قوم کو تسلی دی، اگلا سال آیا انہوں نے پھر سے کسی نئے انداز میں واردات ڈالی۔ حکومت نے مذمت اور سخت سزاؤں کا اعلان کیا پھر معاملہ دفن ہو گیا۔
آج سے کچھ سال پہلے لاہور کی اکبری منڈی میں ایک بہت بڑا تاجر ہوا کرتا تھا اس کا نام مشتاق احمد تھا وہ اس قدر با اثر تھا کہ ملک میں چینی، گھی، چاول، دالیں حتیٰ کہ کوئی بھی جنس لے لیں مشتاق احمد کے مکمل کنٹرول میں ہوتی تھی۔ پاکستان میں موجود تمام شوگر مل مالکان کے موبائل فونز میں مشتاق احمد کا نمبر موجود ہوتا تھا۔ غلط نہ ہو گا اگر یوں کہہ لیا جائے کہ وہ چینی کی منڈی کا بے تاج بادشاہ تھا۔ جب بھی چینی کی قیمتوں میں کوئی رد و بدل کرنے کی ضرورت پیش آتی تو شوگر مل مالکان اسے دعوت پر بلاتے، دستر خوان کو لذیذ پُرتکلف اور مہنگے کھانوں سے بھر دیا جاتا، کھانے کے بعد مشتاق احمد کو ٹارگٹ دیا جاتا کہ سارے ملک میں چینی کی قیمت میں دس یا بیس روپے اضافہ کرنا ہے تو اس کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا تھا (رولا ای کوئی نہیں سرکار سمجھ لو کم ہو گیا)۔
پھر وہ اپنا بزنس پلان ترتیب دیتا پاکستان کے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، پشاور کا انتخاب کیا جاتا اور وہاں چینی کی سپلائی 50 فیصد کم کر دی جاتی کچھ دن گزرتے 20 فیصد مزید کم کر دی جاتی یہاں تک کہ طلب اور رسد میں فرق کی وجہ سے چینی نایاب ہو جاتی۔ اسی دورانیے میں مل مالکان بڑے بڑے سٹاک جمع کر لیتے۔ مشتاق احمد سے ہر شہر کے بڑے تاجر رابطہ کرتے تو وہ انہیں چینی کی نئی قیمت بتا دیتا جیسے ہی تاجر برادری اور عوام 10 یا 20 روپے اضافی قیمت قبول کر لیتے چینی کی سپلائی بحال ہونا شروع ہو جاتی۔ یوں ہفتہ دس دن میں مل مالکان اور مشتاق احمد پھر سے نئے کروڑوں روپے اکٹھے کر لیتے۔ یوں وہ مشتاق احمد سے مشتاق چینی کے نام سے مشہور ہو گیا۔
ملائیشیا میں 2015 میں چکن کی قیمتیں آسمانوں پر چلی گئیں۔ پولٹری فارمرز نے اتحاد قائم کیا اور قیمتیں بڑھانے اور اس پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔ عوام نے حکومت کو شکایات کیں۔ ملائیشیا کی گورنمنٹ ہمارے جیسی نہیں تھی، انہوں نے فوراً ایکشن لیا، ممبران پارلیمنٹ کی زیر نگرانی ایک ٹیم تشکیل دی گئی، پولٹری یونین سے ملاقاتیں شروع ہوئیں، بہت دفعہ ان سے میٹنگ ہوئی یونین نے قیمتیں کم کرنے سے انکار کر دیا۔ حکومت کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں، آخرکار حکومت نے ان سے لڑنے کا فیصلہ کر لیا اور ایک منظم تحریک شروع کی۔ اپنے میڈیا کے ذریعے برائلر گوشت کے نقصانات اور متبادل گوشت خرگوش، بطخ، مچھلی کی خوبیاں بیان کرنا شروع کیں۔ پہلے ہی ہفتے چکن کی طلب میں بیس سے پچیس فیصد کمی آ گئی۔ چند دن گزرے کہ چکن مارکیٹ کریش کر گئی۔ ابھی ایک مہینہ ہی گزرا ہو گا کہ چکن فارمرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مذاکرات کے لیے منتیں کرنا شروع کر دیں۔ یوں ایک ہی ماہ میں قیمتیں اصل جگہ پر واپس آ گئیں۔ ملائیشین ایک قوم بن گئے انہوں نے مافیا سے ٹکر لے کر انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔ اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ کیوں نہ ہم پہلے مرحلے میں چینی کے استعمال پر پچاس فیصد کٹ لگا دیں اور دوسرے مرحلے میں چینی کی جگہ گڑ اور شکر لے آئیں۔ اگر ہم صرف ایک ماہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ شوگر مل مالکان دوبارہ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ تمام شوگر مل مالکان جنہوں نے حکومت سے معاہدہ کیا تھا کہ ہم ملک میں نہ تو چینی کی قلت پیدا ہونے دیں گے اور نہ ہی قیمت میں اضافہ ہونے دیں گے، ہمیں چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے جس سے ملکی زر مبادلہ میں بھی اضافہ ہو گا۔ اور حکومت نے یہ لالی پاپ قبول کر لیا اور اب حکومت نے ان سب کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے ہیں، جناب وزیراعظم کیا ایسا کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا؟ اور آ پ کو کیوں لگ رہا ہے کہ شوگر مل مالکان ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ وہ کبھی نہیں بھاگیں گے کیونکہ پاکستان کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں وہ اس طرح ظلم کریں، ایک دو ماہ میں غریب عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکالیں اور پھر آزادانہ زندگی بھی گزار سکیں بہرحال کچھ نا ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔
جناب وزیراعظم ان لوگوں کے خلاف سخت سزائیں تجویز کریں، ان کے خلاف ناقابل ضمانت دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائیں۔ اگر عوام کی جیبوں پر اربوں کا ڈاکہ دہشت گردی، لوٹ کھسوٹ، بھتہ خوری اور ڈکیتی کے زمرے میں آتا ہے تو انہیں سی سی ڈی کے حوالے کر دیں یا تو سی سی ڈی ان کے ساتھ وہ سلوک کرے جو بدمعاشوں اور ڈکیتوں کے ساتھ کر رہی ہے یا پھر آپ انہیں بھاری جرمانوں کی سزائیں دلوائیں تو شاید آپ کا یہ قدم فائدہ مند ہو جائے۔ اس لیے براہ کرم کچھ بھی کریں مہنگائی کی چکی میں پستے بے بس اور لاچار عوام کو سہولت ضرور پہنچائیں۔ کوئی ایسا دائمی فارمولا بنا دیں کہ دوبارہ صدیوں تک کوئی شوگر مل مالک، بڑے ٹریڈر، ذخیرہ اندوز اور ان کو سپورٹ کرنے والے بڑے لوگ عوام کو چینی چونا لگانے کی جرأت نہ کر سکیں۔

مزیدخبریں