مودی کا جنگی جنون اور علاقائی امن

09:12 AM, 30 Jul, 2025

بھارت پر اس وقت ’’ہندوتوا‘‘ کا علم بردار ایک ایسا مسلمان دشمن اور توسیع پسند جنونی ٹولہ برسر اقتدار ہے جسے پاکستان اور مسلمانوں کا وجود ایک آنکھ نہیں بھاتا، جس کے دل و دماغ میں مہا بھارت کا خناس سمایا ہوا ہے اور جو دہشت گردی اور شورش کو ہوا دے کر ہمسایہ ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی روش پر گامزن ہے۔ عالمی برادری نے تو نریندرا مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں کا حال ہی میں نوٹس لینا شروع کیا ہے جبکہ پاکستان کو اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی بھارت کے معاندانہ طرزِ عمل کا سامنا ہے۔ اکتوبر 1947 میں بھارت نے تقسیم ہند کے طے شدہ فارمولے اور تمام تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی حقائق کے برخلاف وادیٔ کشمیر کے ایک بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ دسمبر 1971ء میں ننگی جارحیت کے ذریعے پاکستان کو دو لخت کر دیا۔ ماضی قریب میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شورش برپا کرنے میں بھی بھارت ہی ملوث تھا اور آج کل بلوچستان میں مٹھی بھر علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی بھی وہی کر رہا ہے۔ 5 اگست 2019ء کو اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا، اس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے مذموم منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل شہریت کے متنازع ایکٹ کے ذریعے بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کے سر پر شہریت سے محرومی کی تلوار لٹکا دی گئی تھی۔ اس قانون کے تحت مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں، بھیلوں، دلتوں، قدیم مقامی مذاہب کے پیروکاروں نیز تامل اور نکسل افراد کو بھی بے وطن قرار دے دیا گیا۔ بھارت کی فسطائی قیادت کی شہ پرگئو رکھشا کے نام پر انتہا پسند ہندو ہجوموں کے ہاتھوں نہتے مسلمانوں کے قتل کے واقعات آئے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوتوا کے فلسفے پر یقین نہ رکھنے والوں کیلئے بھارت میں زندہ رہنا محال ہو گیا ہے۔ اس فلسفے کی سب سے بڑی پرچارک دہشت گرد ہندو تنظیم ’’راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ‘‘ ہے جس کا سیاسی بازو بھارتیہ جنتا پارٹی کی صورت اس وقت نئی دہلی کے راج سنگھاسن پر براجمان ہے۔ اس تنظیم کے اکابرین نازی جرمنی کے آمر مطلق ایڈولف ہٹلر کے نسلی برتری کے نظریے کے پیروکار ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور اس کے دست ہائے راست وزیر داخلہ امیت انیل چندراشا اور اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدیتیا ناتھ نے اپنے انتہا پسند اور مسلمانوں کے تئیں شدید تعصب پر مبنی نظریات کو چھپانے کا کبھی تکلف نہیں کیا۔ یہ ٹولہ خود کو جنوب مشرقی ایشیا کا تھانے دار تصور کرتا ہے اور بزعم خویش یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ بھارت کے اندر یا اس خطے میں وہ جو چاہیں، کر سکتے ہیں اور کوئی ان سے جواب طلب نہیں کر سکتا۔ اسی سوچ کے تحت بھارت نے پاکستان کے علاوہ چین اور نیپال کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ شروع کر رکھی ہے۔ بھارت نے تو آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور اس کیخلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ بھارت کی حالیہ جارحیت کا پاکستان نے جس منہ توڑ انداز میں جواب دیا اس نے اس خطہ میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم کر دی ہے۔ پاکستان کی بہادر افواج نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے اور دشمن بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔ اب دشمن یہ جان گیا ہے کہ اگر پاکستان کو شکست دینا ہے تو اس کی فوج کیخلاف پراپیگنڈہ شروع کر دو، لہٰذا ہمیں محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بھی امریکہ اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا اور ان میں توازن کو برقرار رکھنا ہو گا۔ دونوں عالمی طاقتیں پاکستان کی اہمیت وبرتری کو تسلیم کرتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے مصالحت کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین جنگ رکوائی اور اس جنگ میں بھارت کے کئی جنگی جہاز تباہ ہوئے۔ اب دنیا پاکستان اور بھارت کو برابری کی سطح پر دیکھ رہی ہے اور یہ سب ہماری بہادر مسلح افواج کی بدولت ہے۔ عالمی برادری اب یہ بات سمجھ رہی ہے کہ ہندوئوں کی بالادستی کے نظریے، ہندوتوا کی حامل مودی حکومت کی نازی پالیسیوں جیسی متکبرانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کے باعث ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
بھارت دراصل اندرونی خلفشار سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے بھی علاقائی امن کودائو پر لگاتا ہے۔ بھارت کے اندر جاری دو درجن سے زائد علیحدگی پسند تحریکوں اور 16 ریاستوں میں بھارت بیزاری کی لہر کے باعث وہاں داخلی عدم استحکام میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ غلط معاشی پالیسیوںکی وجہ سے اقتصادی صورتحال بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کی روش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور ایک متحدہ بھارت کے تصور پر عوامی اعتماد روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔ بھارتی آئین کی بنیاد سیکولر ازم پر رکھی گئی تھی مگر یہ مودی کے دور اقتدار میں خواب و خیال ہو کر رہ گیا ہے۔ انہی اندرونی مسائل سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مودی سرکار پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف اشتعال انگیزیوں میں مصروف ہے۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ پاکستانی معیشت کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھنے والے منصوبے سی پیک کے خلاف بھارت نے ماضی میں کئی سازشیں کی ہیں۔ امریکہ اس خطہ میں بھارت کو چین کے مدمقابل لانا چاہتا تھا لیکن بھارت کی حالیہ سبکی کے بعد اس نے شاید اپنی پالیسی بدل لی ہے۔ یوں بھی امریکہ نئی ابھرتی ہوئی عالمی فوجی و معاشی طاقت عوامی جمہوریہ چین کے اثر و نفوذ کے آگے بند باندھنے کیلئے بھارت کو اپنے مہرے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعلق بھارت کے خیالات و عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اس تناظر میں ہم مودی حکومت کے جنگی جنون اور توسیع پسندی سے صرفِ نظر کے ہرگز متحمل نہیں ہو سکتے۔ اپنی طرف سے ہمیں حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے کہ علاقائی امن برقرار رہے تاہم بھارت پر مسلط اس انتہا پسند اور نسلی برتری پر یقین رکھنے والے ٹولے کی طرف سے کسی بھی قسم کی امکانی جارحیت سے نبرد آزما ہونے کیلئے خود کو ہمہ وقت تیار رکھنا چاہیے۔ یاد رکھیں! یہ ٹولہ صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور ضرورت پیش آنے پر ہمیں اپنی علاقائی خودمختاری اور حاکمیت اعلیٰ کے تحفظ کیلئے طاقت کے استعمال میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم نے پہلے بھی اسے منہ توڑ جواب دیا اور آئندہ بھی دیں گے۔

مزیدخبریں