بانی کی صحت اور خطرناک منصوبہ 

09:04 AM, 31 Jan, 2026

جیل میں عمران خان کی صحت کی خرابی کے حوالے سے بھی بات کریں گے لیکن پہلے 8فروری کی ہڑتال کے حوالے سے نورین نیازی نے جس خطر ناک منصوبہ پر عمل کرنے کا کہا ہے اس پرچند گذارشات ۔ 8فروری کو ہڑتال کے حوالے سے تحریک انصاف اب تک جو Hype Create کر چکی ہے اور جو تیاریاں کر رہی ہے اس کے بعد بھی اگر یہ ہڑتال کامیاب نہیں ہوتی تو یہ تحریک انصاف کی سیاست کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ثابت ہو گا ۔ اس لئے کہ 8فروری سے دو تین ماہ قبل اس کی کال دے دی گئی تھی اور یہ کال صرف تحریک انصاف کی جانب سے ہی نہیں بلکہ تحریک تحفط آئین کی جانب سے بھی اس کی حمایت اور کامیابی کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ ایک موقعہ پر علیمہ خان نے کہا تھا کہ کہ یہ کال تحریک انصاف نہیں بلکہ تحریک تحفظ آئین کی جانب سے دی گئی ہے لیکن وہ کسی سیانے نے کہا تھا کہ :
کھلتا کسی پہ کیوں ، مرے دل کا معاملہ 
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
محمود خان اچکزئی نے تو اس ہڑتال کے لئے صرف لاہور کا دورہ کیا ہے لیکن محترمہ علیمہ خان اور سہیل آفریدی تو اس ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے لاہور اور کراچی سمیت خیبر پختون خوا کے ہر شہر کا دورہ کر رہے ہیں اور پھر خان صاحب کی بہن نورین نیازی نے کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے8فروری کو انھیں انتہائی خطر ناک اقدام کرنے کی ہدایت کر دی ہے اور کہا ہے کہ کرنا ہے تو کوئی بڑا کام کرو اور تربیلا ڈیم سے ملک بھر میں سپلائی ہونے والی بجلی کو بند کر دو ۔ بجلی کی بندش کا ہڑتال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ یہ سیدھا سیدھا کاروبار مملکت میں دخل اندازی ہے ۔ عام طور پر تحریک انصاف یہ پروپیگنڈا کرتی ہے کہ ان پر بڑی سختی ہو رہی ہے لیکن پاک بھارت جنگ کے دوران تحریک انصاف کی قیادت جس ملک دشمن پروپیگنڈا کو پھیلاتی رہی اور محترمہ نورین نیازی نے جس طرح تربیلا ڈیم سے ملک بھر میں سپلائی ہونے والی بجلی کو بند کرنے کا کہا ہے تو اس پر بھی اگر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوتی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو یاد کر کے سمجھ جائیں کہ سختیاں کیا ہوتی ہیں اور کسی سے صرف نظر کر کے نرمیاں کیا ہوتی ہیں ۔ ہڑتال کو کامیاب ثابت کرنا مشکل ہو گا ۔ اس لئے کہ ایک تو اس دن اتوار کی ویسے ہی چھٹی ہے دوسرا لاہور میں جس جوش و خروش کے حوالے سے اس دن بسنت منائی جائے گی تو وہ ہڑتال کے تاثر کو بالکل ختم کر دے گی ۔ لاہور کی حد تک سڑکوں پر تو شاید اتنی ٹریفک نہ ہو کہ انھوں نے بسنت میں دھاتی ڈور کی وجہ سے تین دن موٹر سائیکل چلانے پر پابندی لگا دی ہے ۔
 اب بات کرتے ہیں عمران خان کی جیل میں طبی حالت کی ۔ عرض ہے کہ شیر آیا شیر آیااور اب ایک چھوٹا بے ضرر سا شیر آ ہی گیا ہے ورنہ تو جب بھی حکومت خان صاحب سے ملاقات پر پابندی لگاتی ہے تو یہ خان صاحب کی حالت کو بگاڑ دیتے ہیں ۔ پہلے جب اس طرح کہا جاتا تھا تو بین الاقوامی سطح پراس کا نوٹس لیا جاتا تھا جس کی وجہ سے حکومت پر بھی دباﺅ آتا تھااور آپ کو یاد ہے کہ اس حوالے سے امریکن سینیٹرز اور یورپی یونین کی جانب سے بھی بیانات آتے رہے ہیں ۔ آنکھ میں بلاکیج تو بڑی چھوٹی بات ہے خدا معاف کرے کچھ عرصہ پہلے تو ایک افغان وی لاگر نے ان کی زندگی کا چراغ ہی گل کر دیا تھا جسے بعد میں انڈین میڈیا نے خوب ہوا دی اورتحریک انصاف کے یو ٹیوبرز اور وی لاگرز کہاں پیچھے رہنے والے تھے وہ بھی اس گھناﺅنے پروپیگنڈا کا حصہ بن گئے اور مقصد اس پوری مہم کا سوشل میڈیا پر views حاصل کر کے ماسوائے ڈالر کمانے کے اور کچھ نہیں تھا ۔ اس لئے کہ وہ بالکل صحت مند اور تندرست تھے ان تمام حقائق کی بنیا پر اب دنیا بھی اس بات کو سمجھ چکی ہے کہ یہ صرف Pressure Tacticsہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اسی لئے اب دنیا اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیتی اور کیا آپ کو حیرت نہیں کہ اس بار واقعی خان صاحب کی آنکھ کا مسئلہ بنا ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر تا دم تحریر کوئی رد عمل نہیں آیا لیکن اس سارے معاملہ میں حکومتی کردار انتہائی احمقانہ رہا ۔ سوشل میڈیا اور پھر الیکٹرانک میڈیا پر اس حوالے سے جو جس کے منہ میں آ رہا تھا وہ کہے جا رہا تھا لیکن حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مکمل خاموشی رہی اور میڈیا کی جانب سے کوشش کے باوجود بھی کسی حکومتی ترجمان نے اس معاملہ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا جس سے بلا وجہ افواہ سازی کے میدان میں لوگ اپنی پسند کی کہانیاں بنا کر پیش کرتے رہے ۔ خدا خدا کر کے جمعرات کو کہیں جا کر عطا تارڑ نے میڈیا کو بتایا کہ خان صاحب کو پمز لے جایا گیا تھا ۔خدائے پاک عمران خان کو صحت کاملہ عطا فرمائے لیکن تحریک انصاف والوں سے گذارش ہے کہ خدا نے اگر انھیں بہترین صحت سے نوازا ہے تو یہ اس ذات پاک کا بڑا کرم ہے اور جس طرح ککڑ کڑائیاں وہ بھی دیسی گھی میں کھا رہے ہیں تو اس عمر میں یہ سب ان کا معدہ اگر برداشت کر رہا ہے تو پھر سمجھ جائیں کہ ان کی حالت بالکل ٹھیک ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ کم از کم خان صاحب کے ذاتی معالج کی ان سے ملاقات کرا دیں تا کہ ان کی صحت کے حوالے سے اب بھی جو افواہیں گردش کر رہی ہیں ان کا قلع قمع ہو سکے۔

مزیدخبریں