برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے بارے میںمختصر حلقہ احباب کی اہم اور پیاری شخصیت ، شاگردِ رشید ، عزیزِ گرامی ڈاکٹر ندیم اکرام کے لکھے گئے غیر مطبوعہ مضمون جو ڈاکٹر صاحب نے عرفان صاحب بقیدِ حیات تھے تو” منبع ، شفقت و تربیت و تخلیقیت “ کے عنوان سے انہیں بطور خراجِ عقیدت پیش کیا تھا کا آخری حصہ پیشِ خدمت ہے۔ اس میں ڈاکٹر صاحب عرفان صاحب کی کالم نگاری کے بارے میں لکھتے ہیں ”آپ کی کالم نگاری میں عشروں کے بعد بھی روزِ اول کی ترو تازگی، شادابی اور توانائی برقرار ہے۔ پاکستانی تاریخ کے اوراق کسی طلسم ہوش رُبا سے کم نہیں ۔ اس سب کچھ کو بیان کرنے والا اگر اس میں بہت کچھ کا بلا واسطہ یا بالواسطہ شاہد ہو ، دیانتدارانہ قلم ہو اور بات کرنے کا سلیقہ رکھتا ہو تو پھر ”وہ کہیں اور ُسنا کرے کوئی “کی سی کیفیت پید اہو جاتی ہے ۔ عرفان صاحب کا تجزیہ ملی و سیاسی تاریخ کا قیامِ پاکستان سے تاایں دم، محاکمہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جہاں متحارب لہروں میں کوئی نقطہ اتصال تلاش کرنا جان جوکھوں کا کام ہے“۔
”ایک دور تھا کہ ادب و صحافت لازم و ملزوم تھے ۔ اخبارات میں لکھنے والے یا تو ادیب تھے یا ادب شناس۔ ابو الکلام آزاد، ظفر علی خان، محمد علی جوہر، چراغ حسن حسرت، شورش کاشمیری، نسیم حجازی اور ان جیسے جید افراد نے اپنی ادبی صلاحیتوں سے اخبارات کو جلا بخشی رفتہ رفتہ ادب اور صحافت کا رشتہ کمزور پڑتا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ صحافت مشن سے زیادہ کاروبار بن گئی تو کار پردازانِ صحافت نو اپنی کم مائیگی کو ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ کے زعم میں ارشادفرمایا کہ وہ لکھو جو سیدھا سادہ ہو۔ یوں جس اخباری زبان نے ترویج پائی وہ گپ شپ جب بازاری جملوں کا سا انداز بن گیا۔ پہلے اخباری تحریریں پڑھ کر ایک عام قاری کی ادبی تشنگی کی تشفی ، کسی نہ کسی حد تک ہو جاتی تھی مگر اب وہ بات نہ رہی۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ ادبی انداز و اسلوب کو اپناتے ہوئے جو رکھ رکھاﺅ اور تہذیب و شائستگی دھیرے سے خود بخود تحریر میں خوشبو کی طرح بکھر جاتی تھی، اُس کی جگہ ایک سپاٹ اور منشیانہ قسم کا کھردرا انداز اخباری مضامین میں رواج پا گیا۔ یک بیک
عرفان صاحب اُردو صحافت کے میدان میں نمودار ہوئے تو ایک بہت بڑے طبقے کو خوشگوار سر خوشی کا احساس ہوا۔ عرفان صاحب نے راہوارِ قلم کو کچھ اس طرح استعمال کیا کہ تجزیہ کے ساتھ ساتھ وہ خوبصورت اسلوب ، تشبیہات و استعارات کا ذخیرہ لیے کالم نگاری کی دُنیا میں جلوہ گر ہوئے۔ انہوں نے حالات و اقعات کو خوبصورت الفاظ کے گلدستے میں سجا کر پیش کیا۔ عرفان صاحب کے قلم نے کیفیات و واقعات ، حادثات و تجربات کو اس انداز سے بیان کیا کہ سب کچھ مرقع تصویر بن گیا۔“
”عرفان صاحب کے ہاں یہ بھی نہیں کہ اسلوب کی تنگنائیوں میں متن پیچھے رہ گیا ہو یا تشبیہات و استعارات کی بھیڑ میں مدعا عنقا ہو گیا ہو۔ انہوں نے صحافتی اور ادبی لوازمات کے مابین ایک متناسب توازن قائم کیا۔ عرفان صاحب نے طعنہ و دُشنام سے کام نہیں لیا۔ چٹکی لی بھی تو کچھ اس انداز میں کہا کہ اُن کا ہدف اس پر تلملا تو شاید جائے لیکن چیخنے چلانے کی نوبت نہ آئے۔ کسی کی تعریف بھی کی تو حقیقت پسندانہ ۔ جو کچھ کہا اس کو خوبصورت لفظوں کی مالا میں پرو کر پیش کیا۔ زیادہ تعریف کے مستحق قرار پانے والے وہ تھے جو زمین کی چادر اوڑھ چکے لہٰذا شکریہ ادا کرنے یا فائدہ پہنچانے کے قابل نہیں تھے۔ یادِ رفتگاں کے حوالے سے اُن کی کتاب” جو بچھڑ گئے “یادگار رہے گی“۔
”عرفان صاحب کی تحریروں میں ”انشائی ادب“ کے نمونے بکھرے پڑے ہیں ۔ مشتے نمونہ از خروارے ، عرفان صاحب کے کالموں میں سے چند منتخب حصے حاضر ہیں۔ (واضح رہے کہ متن عرفان صاحب کا ہے لیکن سُر خیوں سے اُن کا کچھ تعلق نہیں ہے) “۔
اسمِ محمد ”اسمِ محمد کی آب و تاب میں کمی نہیں آئی۔ دہر میں اس کااُجالا بکھرتا جا رہا ہے۔ عشق کی لوتیز تر ہوئی جاری ہے ۔ عقیدت کی سَر مستیاں بڑھ رہی ہیں۔ مدینہ کی کشش فزوں تر ہو رہی ہے۔ سبز گنبد کی آغوش اُفق تا اُفق پھیلتی جا رہی ہے۔ اسلام دنیا میں انتہائی سرعت سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے ۔ مغرب کی تمام تر مکروہات کا واحد نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام سے وابستگی بڑھ رہی ہے اور محمد عربی کی محبت و عقیدت کا رنگ گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے۔“
دائروں میں سفر ”خواہش کی ڈوری سے بندھے لوگوں کی منزلیں کیا اور سفر کیا۔ ہم لوگ سفر کے زعم میں عمر بھر دائرہ میں چلتے رہتے ہیں اور اسی کو فتح سے تعبیر کر کے خوش ہوتے رہتے ہیں۔ منزل سے پیار کرنے کے بجائے انہیں سَر کر کے پھر کسی نئی معرکے کے لئے کسی نئے سفر کی کٹھن راہوں پر نکل جانے کا خیال رکھنے والے بھی کیا کمال کے لوگ ہیں۔ منزل سَر کرنے اور پیہم سفر کرنے والے ۔ جد و جہد ، انتھک محنت اور بے پناہ لگن کے لوگ“۔
خود غرضی کا سفر ”خواہشوں کے بندے، تمناﺅں کے جنگل میں بھٹکتے، آرزوﺅں کے آزار میں مبتلا ، کثرت کی طلب میںہلکان ، لالچ میں لَت پَت ، نام و نمود کے صحراﺅں میں سر گرداں، دُنیا کی چکا چوندھ کے اسیر، عہدہ و منصب کے پجاری، دوسروں کو کہنی مار کے نکل جانے کے لئے سر گرم ، جمع جتھ کے آرزو مند، خود پرستی کے مرض کے شکار ، اپنے قد اور کاٹھ کے لئے سب کچھ کر گزرنے پر تیار اپنی بے ثمر راہوں میں بھٹکتے عمریں تمام کر دیتے ہیں۔“
قربانی ”سُنتے چلے آئے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ روا ہے۔ پتہ نہیں یہ قول کس کارگاہِ فکر میں ڈھلا لیکن نہ محبت میں سب کچھ روا ہوتا ہے نہ جنگ میں۔ سچی اور بے لاگ محبت کرنے والا خود ہی اپنے لئے روا اور ناروا کی کڑی حدوں کو تعین کر لیتا ہے اور اکثر اوقات عمر بھر اپنی لاش کندھے پر اُٹھائے پھرتا ہے۔ کبھی کسی موڑ پر فیصلے کی گھڑی آ بھی جائے تو وہ گمان اور شک کے فائدے بھی دوسروں کی جھولی میں ڈال دیتا ہے اور خود مجرموں کے کٹہرے میں جا کھڑا ہوتا ہے۔ “
آمدِ بہار ”ہلکی پھلکی لطیف ، ٹھنڈی ہواﺅں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہار کا قافلہ قریب کی کسی سرائے میں اُتر چکا ہے اور آنے والے چند دنوں میں رنگ و خوشبو سے لدا یہ کارواں ہمارے خزاں رسیدہ چمن میں خیمہ زن ہونے والا ہے۔ اس کے قدموں کی چاپ سُن کر بُلبلیں بھی چہچہانے لگی ہیں جو اب تک اپنی چونچیں پروں میں دبائے،آنکھے موندے، دم سادھے بیٹھی تھیں۔ وہ قمریاں بھی پھڑ پھڑانے لگی ہیں جو لذتِ پرواز بھولتی جا رہی تھیں۔ وہ طوطیا ں بھی اُجاڑ درختوں کی شاخوں پر بیٹھی ایک دوسرے سے اٹھکیلیاں کرنے لگی ہیں جن کے دل بجھ چکے تھے اور جو انجمن کے لطف سے کنارہ کر چکی تھیں۔“
کالم کی تنگ دامانی کی بنا پر ڈاکٹر ندیم اکرام کے مضمون کے اقتباسات کو اسی پر تمام کرتے ہیں۔
عرفان صدیقی صاحب یادیں اور باتیں ....!
09:04 AM, 31 Jan, 2026