مشکِ واصفؒ!

09:03 AM, 31 Jan, 2026

حضرت واصف علی واصفؒ برصغیر کے ان اہلِ فکر و دانش میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں اور گفتگو کے ذریعے انسان کو خود آگاہی، اخلاقی تربیت اور روحانی بلندی کی طرف متوجہ کیا۔ ان کی شخصیت محض ایک ادیب یا مفکر کی نہیں تھی بلکہ وہ ایک ایسے معلمِ باطن تھے جو انسان کو اس کے اندر جھانکنے کا سلیقہ سکھاتے تھے۔ ان کی فکر کی خوشبو مشک کی مانند ہے خاموش، گہری اور دیرپاجو وقت گزرنے کے ساتھ مدھم ہونے کے بجائے مزید واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔حضرت واصف علی واصف کی زندگی سادگی، مشاہدے اور غور و فکر سے عبارت تھی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے استاد تھے، انگریزی ادب پڑھایا کرتے تھے۔ 1954ءمیں مقابلے کا امتحان پاس کیا، اچھی پوزیشن لی مگر بیوروکریسی کا حصہ نہ بنے، درس و تدریس اور انسان سازی روح و باطن منور کرنے کا لامتناہی سلسلہ بنے، دراصل وہ انسانوں کے دلوں اور اذہان کے معلم تھے۔ ان کی گفتگو میں تصنع تھا اور نہ لفظی کرتب۔ بات سادہ ہوتی، مگر اثر ایسا کہ سننے والا خود کو اس میں شامل محسوس کرتا۔ وہ فلسفے کے بھاری بوجھ کے بجائے روزمرہ زندگی کی مثالوں سے ایسی حقیقت بیان کرتے تھے جو سیدھی دل میں اتر جاتی۔ ان کے نزدیک علم وہی معتبر تھا جو انسان کے رویے کو سنوار دے اور اس کے اخلاق میں بہتری پیدا کر دے۔ حضرت واصف علی واصف کی تحریروں میں مشرقی حکمت، اسلامی فکر اور صوفیانہ بصیرت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ انسان کو اس کی کمزوریوں کا احساس ضرور دلاتے ہیں، مگر اسے مایوسی کے اندھیرے میں نہیں چھوڑتے۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ اصل کامیابی خود کو پہچاننے میں ہے اور اصل ناکامی خود سے غافل ہو جانا ہے۔ وہ انسان کو خود احتسابی کی دعوت دیتے تھے، مگر فیصلے مسلط نہیں کرتے تھے۔ سوال پیدا کرنا ان کا اسلوب تھا اور سوچ کی آزادی ان کا تحفہ۔ ان کی سوانحِ حیات اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انہوں نے شہرت، منصب یا ظاہری مقبولیت کے پیچھے دوڑنے کے بجائے خاموشی سے اپنا فکری اور روحانی کام جاری رکھا۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ شاگردوں، قارئین اور متلاشیِ حق افراد کے ساتھ 
مکالمے میں گزرا۔ وہ مجلس کو درس گاہ بنانے کے بجائے ایک ایسا ماحول قائم کرتے تھے جہاں ہر شخص خود سوچنے، خود پرکھنے اور خود سنورنے پر آمادہ ہو جائے۔ حضرت واصف علی واصفؒ کی کتابیں اردو ادب میں فکری، اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا ایک روشن باب ہیں۔ ان کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ قاری کو مشکل فلسفے میں الجھانے کے بجائے سادہ انداز میں گہری بات سمجھا دیتی ہیں۔ ”کرن کرن سورج“ حکمت سے بھرپور مختصر اقوال کا مجموعہ ہے جو زندگی کے مختلف پہلوو¿ں پر روشنی ڈالتا ہے۔ ”دل دریا سمندر“ انسان کے باطن، دل کی وسعت اور روحانی ارتقا کو صوفیانہ رنگ میں پیش کرتی ہے۔ بات سے بات میں، روزمرہ گفتگو سے ایسے فکری نکات اخذ کیے گئے ہیں جو قاری کو رک کر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی طرح ”قطرہ قطرہ قلزم“ مختصر تحریروں میں بڑے اخلاقی اور روحانی حقائق بیان کرتی ہے، ”خواب در خواب“ شعور اور لاشعور کی علامتی دنیا کا در وا کرتی ہے، جبکہ ”مولا کیا چاہتا ہے؟“ بندے اور اللہ کے تعلق کو نہایت سادگی اور اثر کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ ان کے علاوہ ”گفتگو!“ ایک ایسی تصنیف ہے جس میں حضرت واصف علی واصفؒ کی مجالس اور سوال و جواب محفوظ کر دئیے گئے ہیں، اور قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف سامنے بیٹھ کر بات کر رہے ہوں۔ حضرت واصف علی واصفؒ کی فکر پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حکمت و دانائی کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔ عدل، خود شناسی، صبر اور باطنی بصیرت جیسے علوی اوصاف ان کے اسلوب میں واضح طور پر جھلکتے ہیں۔ اس کے ساتھ حضرت امام غزالیؒ کی اصلاحِ نفس کی فکر، مولانا جلال الدین رومیؒ کا پیغامِ عشق و معرفت اور حضرت داتا گنج بخشؒ کی صوفیانہ تعلیمات بھی ان کی تحریروں میں رچی بسی محسوس ہوتی ہیں۔ قرآنِ حکیم اور سیرتِ نبویﷺ ان تمام فکری اثرات کی اساس ہیں، جنہیں انہوں نے جذب کر کے ایک ایسا منفرد اسلوب اختیار کیا جو سادگی میں گہرائی اور لفظوں میں حکمت رکھتا ہے۔ آج کے پُرہنگام، بے چین اور مادی دور میں حضرت واصف علی واصف کی فکر ایک خاموش مگر مو¿ثر آواز بن کر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل سکون باہر نہیں، انسان کے اندر ہے۔ اگر انسان خود کو سنوار لے تو معاشرہ خود بخود سنورنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وہ خوشبو ہے جو مشکِ واصف کی صورت میں آج بھی دلوں کو معطر کر رہی ہے، اور شاید آنے والے وقتوں تک کرتی رہے گی۔
ان کے پیروکار ان کے مکالمے اور افکار ازبر کیے ہوئے معاشرت میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو میری ذاتی تعلق داری میں واصف علی واصفؒ کے اقوال اور طرز زندگی یوں بیان کرتے ہیں جیسے حضرت کو کوئی اپنے سامنے موجود پائے۔ حضرت واصف علی واصفؒ کا تعارف مجھ سے میرے بڑے پاجی محمد اعظم بٹ صاحب نے کرایا، عمر اکرام ان کے اشعار روانی سے گاتے، گوجرانوالہ سے مصطفی الیاس ہوں یا لاہور کے عثمان رضا واصفی سب کی سوچ ان کے دیگر پیروکاروں کی طرح ایک یگانگت اور صحبت کے رنگ میں رچی بسی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولنے اور تصوف سے رغبت رکھنے والے موجود ہیں، واصف علی واصفؒ کو پڑھا اور چاہا جاتا ہے۔ ان کا سالانہ عرس ان کے بیٹے کاشف کراتے ہیں جبکہ گوجرانوالہ میں باوقار، درویش منش محمد جہانگیر میر تو ہر ہفتے واصف خیال سنگت کے نام سے محفل کرتے ہیں جس میں سیکڑوں لوگ جمع ہوتے ہیں اور واصف علیؒ کے افکار کی روشنی میں زندگی کو سنوارنے، سمجھنے، دین کی روح کو پہچاننے کی سعی کرتے ہیں۔ اعظم بھائی اکثر ان کے اقوال دہراتے، مثلاً ”جو دل تم سے خوش ہے وہ دل دعا ہے اور جو دل تم سے ناراض ہے وہ بددعا ہے“۔ مجھے ذاتی طور پر ان کا قول کہ ”شکر کرنے سے پہلے سوچ لو معاملہ استغفار کا تو نہیں تھا“ بہت پسند ہے ۔ مصطفی الیاس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے ”معاف کرو تاکہ معاف کر دیئے جاﺅ“ گویا جتنے پیروکار اتنے اقوال اور اس پر عمل کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ حضرت واصف علی واصفؒ ایک درس گاہ کا نام ہے جو 15 جنوری 1929ءکو اس دنیا سے متعارف ہوئی اور 18 جنوری 1993ءکو وصال ہوا، میانی صاحب میں آرام فرما ہیں۔ مگر ان کا سفر ان کے افکار، کام اور پیروکاروں کی صورت آج بھی جاری ہے اور جاری رہے گا۔ایک دفعہ معروف دانشور اور کالم نگار منو بھائی نے ان سے سوال کیا کہ خوش نصیب کون ہے؟ واصف صاحب نے جواب میں فرمایا ”خوش نصیب وہ جو اپنے نصیب پر خوش ہے“۔ 

مزیدخبریں