نجکاری، قومی معیشت اور آپریشن بنیان مرصوص

09:03 AM, 31 Jan, 2026

پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل ہو چکا، لین دین کی دستاویزات پر فریقین کے دستخط ہو چکے۔ حکومت نے خزانے پر ایک بہت بڑے بوجھ سے نجات حاصل کر لی۔ وزیراعظم نے دستخط تقریب میں بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اب قومی ائیرلائنز کی عظمت رفتہ بحال ہو گی۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ ایسا ضرور ہو گا، ہم جس نظم حکمرانی میں جی رہے ہیں اسے سرمایہ دارانہ نظم زندگی یا نظام معیشت کہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ صرف نظم معاش نہیں ہے بلکہ پورا نظم فکر و عمل ہے جس کی فکر آزاد شخصی زندگی اور نفع اندوزی پر چلتی ہے۔ فرد کی آزادی کا تصور سیاسی نظام تشکیل دیتا ہے جس میں ہر شخص کو بلا تفریق رنگ و نسل اور زبان و مکان آزادی فکر و عمل ہوتی ہے۔ ریاستی نظام اس کا محافظ ہوتا ہے۔ کام کرنے، کاروبار کرنے، خرید و فروخت کرنے کی بھی آزادی ہوتی ہے۔ اسی فلسفے پر جو نظام معیشت تشکیل پاتا ہے اسے آزاد میڈیاتی نظام کہتے ہیں۔ اس نظام کی ابتداءبرطانیہ سے ہوئی۔ سکاٹ لینڈ کے آدم سمتھ نے اپنی شہرئہ آفاق تصنیف ”دولت اقوام“ میں اس نظام کے خدوخال بیان کئے۔ برطانیہ میں اس نظام کی تشکیل ہوئی جسے امریکہ نے دوام بخشا۔ آج عالمی نظم معیشت و سیاست اسی نظام کے تحت جاری و ساری ہے۔ اس نظام نے اقوام مغرب کو نوازا لیکن اسی نظام نے دنیا پر جنگیں مسلط کیں۔ کروڑوں انسانوں کو غربت و جہالت میں دھکیلا۔ آج بہ نظام زوال پذیر ہے، دنیا کسی نئے نظام کی طالب نظر آتی ہے۔ ہم بھی اسی نظام کے خوشہ چین ہیں۔ ہمارا آئین اسلامی ہے لیکن نظام معیشت مکمل طور پر غیر اسلامی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظا سود پر چلتا ہے۔ سود اس نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے جبکہ اسلام سود کو مطلقاً حرام قرار دیتا ہے۔ دو عملی کا شکار ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ہم نہ تو اسلامی نظام کی فیوض و برکات حاصل کر پائے ہیں اور نہ ہی سرمایہ دارانہ نظام کے محاسن سے فائدہ اٹھا پائے ہیں۔ ریاست ناکام نظر آرہی ہے۔ ریاست کے زیر سایہ چلنے والا شاید ہی کوئی ادارہ پھل پھول رہا ہو، سوائے مسلح افواج کے، کوئی بھی ریاستی ادارہ کارکردگی نہیں دکھا رہا ہے۔ 
پی آئی اے ہو یا پاکستان ریلویز اور پاکستان سٹیل کوئی بھی ادارہ پھل پھول نہیں رہا ہے۔ نفع اندوزی کے لئے قائم کردہ ایسے ادارے نفع بخش ہونے کی بجائے سرکاری اعانتوں پر زندہ ہیں۔ حکومت کو سالانہ اربوں روپے انہیں زندہ رکھنے کے لئے دینا پڑتے ہیں، ایسے میں پی آئی اے کو نجکاری ایک مستحسن عمل دکھائی دیتا ہے۔ مستقبل میں کیا ہو گا اس کا تو پتہ نہیں لیکن نجکاری کا ایک فوری فائدہ تو ہو گا اور وہ ہے اربوں روپے کی بچت، جو ہر سال پی آئی اے کو قائم رکھنے کے لئے سرکاری خزانے سے دی جاتی تھی۔ جہاں تک نجی شعبے کا تعلق ہے تو ہمارے ہاں نجی شعبے نے کامیابی و کامرانی کی قابل ذکر مثالیں قائم کی ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں، ہم امید کر سکتے ہیں کہ پی آئی اے ایک بار پھر کامیابی و کامرانی کے سفر پر روانہ ہو سکے گی۔ ویسے پی آئی اے ہماری قومی ائیرلائن ہی نہیں ہمارا قومی اثاثہ بھی ہے اور ہماری عالمی سطح پر پہچان بھی ہے۔ پی آئی اے قومی پرچم بردار ہے، جس کے ذریعے ہمارا پرچم، ہماری شناخت دنیا میں جاتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ہماری ائیرلائن دنیا کی جدید ترین و مثالی مانی و جانی جاتی تھی۔ دنیا اس کی کارکردگی کی مثالیں دیتے تھے۔ کئی تعلیمی اداروں میں پی آئی اے کو مثالی ادارے کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔ یہ پی آئی اے سرکاری ادارہ تھی۔ سرکار کی سرپرستی و انتظامی کنٹرول میں رہتے ہوئے اس نے کامیابی و کارکردگی کی مثالیں قائم کی تھیں۔ گورنمنٹ کالج لاہور، سنٹرل ماڈل سکول، گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس اور ایسی کئی اور مثالیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں جس میں سرکاری اداروں نے کامیابی کی درخشاں مثالیں قائم کر دکھائی ہیں۔ عالمی سطح پر دیکھ لیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنے تمام تر محاسن کے ساتھ بھی زوال پذیر ہے اور سرکاری شعبے کی بالادستی کے ساتھ چین ایک عظیم الشان قوم کے طور پر ابھر چکا ہے۔ نجی شعبہ ایک حقیقت ہے لیکن قوم کو، عوام کو، نجی شعبے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ نجی شعبہ نفع اندوزی کے محرک کے تحت چلتا ہے۔ ذاتی منفعت کے حصول کے لئے چلنے والے کاروباری اداروں سے توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ وہ عامة الناس کے مفادات کی حفاظت کریں گے، اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ سرکار متحرک و فعال رہے۔ چین کی مثال دیکھ لیں وہاں جیک ما جیسے عظیم الشان کاروباری لوگ بھی ہیں لیکن ریاست نے انہیں آزاد، کلیہ آزاد نہیں چھوڑا ہے۔ چینی حکومت کی نگرانی میں نجی شعبہ فعال ہے، عالمی سطح پر کارکردگی بھی دکھا رہا ہے لیکن قومی مفادات کا بھی نگہبان ہے۔ حکومت/ریاست ان پر ، ان کی کارکردگی پر کڑی نگہبانی کرتی ہے۔ نجی شعبے کو سہولیات فراہم کرتی ہے، ان کی ترقی کی راہیں کھولتی ہے۔ ہمارے ہاں نہ تو نجی شعبہ اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے نہ ہی حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لئے منظم کاوشیں کرتی دکھاتی دیتی ہے۔ معاملات 78 سال سے ایسے ہی چلتے آرہے ہیں، ایسے ہی چلتے جائیں گے۔ کوئی جوہری تبدیلی واقع نہیں ہو گی۔ ہمارے ہاں فری مارکیٹ اکانومی کا تجربہ بھی ہو چکا ہے۔ ایوبی دور میں نجی شعبے کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا گیا۔ 22 خاندانوں کی صورت میں 
امیر خاندان معرض وجود میں آئے۔ عامة الناس کی زندگیاں تبدیل نہ ہو سکیں۔ بونس ووئچر سکیم نے معیشت میں بہتری پیدا کی لیکن عام شہری کی زندگی بہتر نہ ہو سکی پھر بھٹو دور میں سوشلسٹ معیشت کا تجربہ کیا گیا۔ ایوبی دور کے مثبت اثرات زائل ہو گئے۔ بیروزگاری پھیل گئی۔ ہمارا صنفی ڈھانچہ برباد ہو گیا پھر ضیاءالحق کے دور میں افغان جہاد نے عارضی ریل پیل پیدا کی۔ 1988ءتا 1999ءسیاسی فساد برپا رہا پھر جنرل مشرف کا دور آیا۔ ہم امریکی اتحادی کے طور پر دہشت گردی کی جنگ میں شامل ہوئے اور پھر کچھ نہ پوچھئے کیا ہوا اور ایسا ابھی تک ہو رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت ڈوبتی ہی چلتی جا رہی ہے۔ حکومتی دعوے ایک طرف لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت سنبھل نہیں رہی ہے۔ ہم مسائل میں الجھتے ہی چلتے جا رہے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کا تاثر بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔ معاشی کمزوری و بدحالی ایک حقیقت ہے۔ بھارت سے جنگ جیت کر ہم ایک نئی جنگ کی تیاری پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ ہندوستان اپنی شکست کے زخم چاٹ رہا ہے۔ بدلہ لینے کی تیاری کر رہا ہے، اس نے واضح کیا ہے کہ آپریشن سندور ختم نہیں ہوا ہے جاری ہے، اس لئے ہم بھی آپریشن بنیان مرصوص جاری رکھنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ ہماری معیشت کے پر جنگی تیاریوں کا بوجھ پڑے گا۔

مزیدخبریں