حماس کا غزہ میں امن کے لیے عالمی اقدامات کا مطالبہ

06:43 PM, 30 Jan, 2026

غزہ: غزہ سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق، حماس نے غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو فوری طور پر دونوں طرف سے کھولنے کی درخواست کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ کراسنگ کے کھلنے سے انسانی امداد کی فراہمی میں مدد ملے گی اور غزہ میں محصور افراد کی مشکلات کم ہوں گی۔

حماس نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے فوری نفاذ کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس کے تحت مزید جنگی کارروائیاں روکنے اور فائر بندی کو مستقل طور پر قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ذریعے حماس نے نہ صرف اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے بلکہ غزہ کے عوام کی بہتر زندگی کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

حماس نے غزہ کے انتظام کے لیے ایک تکنیکی فلسطینی کمیٹی کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس کا مقصد غزہ کے انتظامی امور کو بہتر طور پر چلانا اور بین الاقوامی امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا ہوگا۔ یہ کمیٹی غزہ کے مالیاتی، سماجی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ غزہ سے یرغمالیوں کی واپسی میں حماس کا اہم کردار تھا، اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حماس اب غیر مسلح ہونے والی ہے۔ اس بیان سے یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ آیا حماس اپنے عسکری طاقت کو کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ تمام مطالبات اور بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ غزہ کی موجودہ صورتحال میں ایک نیا سیاسی رخ آ سکتا ہے، اور عالمی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ جنگ بندی کے عمل کو پائیدار بنایا جا سکے اور علاقے میں امن کے قیام کی کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔
 
 

مزیدخبریں