واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی تیاریوں اور چین کے ساتھ عالمی تجارت کے حوالے سے اہم پالیسی بیان جاری کر دیا ہے۔
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ نے اپنا بحری بیڑا ایران کی جانب روانہ کر دیا ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، انہوں نے امن کی گنجائش برقرار رکھتے ہوئے کہا "امید ہے کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی، ہتھیاروں کا استعمال نہ کرنا ہی سب سے بہتر ہوگا۔
چین کے بڑھتے ہوئے معاشی قدموں کو روکنے کے لیے صدر ٹرمپ نے اپنے مغربی اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ بیجنگ کے ساتھ کاروبار کرنا مستقبل میں مہنگا پڑ سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات ایک 'خطرناک کھیل' ثابت ہو سکتے ہیں۔ کینیڈا کو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوٹاوا کے لیے چین کے ساتھ لین دین برطانیہ سے بھی زیادہ پرخطر ہے۔
انہوں نے عالمی اتحادیوں کو پیغام دیا کہ وہ چین کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف محتاط رہیں اور باہمی تعاون کو ترجیح دیں۔ امریکی بحری بیڑے کی ایران کی طرف پیش قدمی، مگر جنگ سے گریز کی خواہش ہے، چین کے ساتھ بڑھتے تجارتی تعلقات کو اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ برطانیہ اور کینیڈا کو بیجنگ کے ساتھ کاروبار کرنے پر سنگین تحفظات کا اظہارکیاگیا ہے۔
ٹرمپ کی اتحادیوں کو 'چین' سے دوری اختیار کرنے کی ہدایت، ایران کو بحری بیڑے کی دھمکی
09:20 AM, 30 Jan, 2026