لاہور کے اندرون شہرکو سنوارنے کا خواب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے دیکھا جس کے بعد مریم نواز شریف نے اندرون شہر کو بدلنے کا پختہ ارادہ کیا اور ترقیاتی منصوبے کو پایہ تکمیل پر پہنچانے کے لئے تجاوزات سمیت تمام رکاوٹیں ہٹا دی اور ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرا یاگیا ۔ اندرون شہر جہاں تاریخ کے اوراق بکھرے ہیں وہیں بھاٹی گیٹ کھلا مین ہول ماں اور بیٹی کو نگل گیا مگر اس سانحے سے بھی زیادہ لرزہ خیز بات وہ رویہ ہے جو اس کے بعد ریاستی مشینری اور خاص طور پر بیوروکریسی نے اختیار کی۔
حکومتی مشینری اس سفاک نظام کا سب سے خوبصورت چہرہ ہوتے ہیں۔ ان کا کام سچ بولنا ہوتا ہے نہ کہ سچ کو موڑنا ان کے نزدیک انسانی جان ایک ”نیوز مینجمنٹ “کا مسئلہ ہے اگر خبر پھیل گئی تو نقصان، اگر دب گئی تو سب ٹھیک۔ اس سوچ میں ماں ،بیٹی کی لاشیں اورخاندان کا کرب کہیں فٹ نہیں بیٹھتا۔یہ بھی کمال ہے کہ واقعہ پیش آتا ہے تو فوراً الزام میڈیا افواہوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جیسے یہ ملک افواہوں سے چلتا ہو، ناکہ ناقص منصوبہ بندی، بدعنوان ٹھیکیداری، اور مجرمانہ غفلت سے۔ سوال یہ نہیں کہ واقعہ جھوٹا ہے یا سچا!سوال یہ ہے کہ اگر یہ جھوٹا بھی ہوتا تو کیا شہروں میں ترقیاتی کاموں کے دوران حفاظتی ایس او پیز کواختیار نہ کرنا جرم سمجھا جاتا ہے اگر ایسا ہے تو اس کے ذمہ داران ماں، بیٹی کے مجرم ہیں؟آخری بار کب ان کا آڈٹ کیا؟کس افسر کو سزا ملی؟کس وزیر نے ذمہ داری لی؟مہذب ریاستیں حادثے کے بعد متاثرین کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں، تحقیقات کرتی ہیں، اصلاحات لاتی ہیں۔ ہماری ریاست پہلے انکار کرتی ہے، پھر الزام لگاتی ہے اور آخر میں خاموشی اوڑھ لیتی ہے۔بھاٹی گیٹ کا یہ سانحہ صرف ایک ماں بیٹی کی کہانی نہیں، یہ اس نظام کا پوسٹ مارٹم ہے جو شہریوں کو نہیں، اپنی کرسیوں کو عزیز رکھتا ہے۔ اگر آج بھی اس پر شرمندگی محسوس نہ کی گئی، اگر آج بھی سچ بولنے والوں کو دبانے کی کوشش کی گئی، تو کل کسی اور گلی، کسی اور شہر میں کوئی اور ماں، کوئی اور بچی اسی طرح گٹر میں گرے گی اوربے حس بیوروکریٹ پھر یہی کہیں گے ”واقعہ جھوٹا ہے“۔اصل جھوٹ یہ بیانات ہیں۔ اور اصل سچ یہ لاشیں۔
داتا دربار کے مین ہول کا واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، یہ ایک فیصلہ کن ثبوت تھا کہ ہماری بیوروکریسی کس حد تک بے حس ہو چکی ہے۔جہاں روزانہ ہزاروں لوگ حاضری دیتے ہیں۔ جہاں سکیورٹی، صفائی اور انتظام کے دعوے کیے جاتے ہیں، وہیں ایک کھلا مین ہول انسان کو نگل جائے اور پھر بھی نظام نہ کانپے، نہ شرمندہ ہوتو یہ محض غفلت نہیں، مجرمانہ بے حسی ہے۔افسر فائلوں میں مصروف رہے، محکمے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہے، اور دیگر ذمہ داران حسبِ روایت سچ کو غلط فہمی قرار دینے میں لگے رہے۔بیوروکریسی کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ نہیں جانتی، مسئلہ یہ ہے کہ وہ محسوس نہیں کرتی۔ان کے لیے داتا دربار بھی ایک لوکیشن ہے، انسان بھی ایک عدد،اور موت بھی ایک انسیڈنٹ۔جب تک لاش میز پر نہ آ جائے، تب تک ضمیر حرکت میں نہیں آتااور اکثر تب بھی نہیں۔داتا دربار کا مین ہول چیخ چیخ کر کہہ گیا۔یہ نظام عوام کے لیے نہیں، عوام اس نظام کے لیے قربانی ہیں۔یہ کیسی سفاکیت ہے کہ لاشیں تلاش کرنے سے پہلے بیانات کی صفائی شروع ہو جائے؟ اور یہ کیسی اخلاقی پستی ہے کہ متاثرین کے دکھ کو تسلیم کرنے کے بجائے، سوال اٹھانے والوں کو دھمکیاں دی جائیں کہ کارروائی ہو گی؟
یہ بیوروکریسی واقعی سفاک ہے،لیکن مسئلہ صرف سفاکیت کا نہیں، جواب دہی (Accountability) کے مکمل فقدان کا ہے۔ برسوں سے شہری انفراسٹرکچر بوسیدہ رہا اب ترقیاتی منصوبے کے دوران حفاظتی اقدمات اور جانچ پڑتال نہ کرنا سنگین اور خطرناک کے ساتھ ماں بیٹی کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔ یہ کھلے مین ہول کا واقعہ آئندہ دنوں میں فائلوں میں دب جانا ہے اور پہلے بھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔نہ کوئی معافی، نہ کوئی استعفیٰ، نہ کوئی اصلاح۔
کھلے مین ہول اس صوبے میں کسی ایک ادارے کی کوتاہی نہیں، بلکہ اجتماعی انتظامی ناکامی کی علامت ہیں، جس میں بلدیاتی ادارے، واسا، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی نگرانی سب شریکِ جرم نظر آتے ہیں۔کیا شہر میں فیلڈ انسپیکشن کا کوئی نظام موجود ہے؟کیا کسی بڑے سرکاری افسر کی نوکری کبھی واقعی اس غفلت پر گئی؟یا پھر ہر بار ایک ذمہ دارکو معطل کر کے اصل مسئلے کو دفن کر دیا جاتا ہے؟صرف دفاتر میں بیٹھ کر دستاویزات پر سائن کرنا نہیں بلکہ مانیڑنگ بھی یقینی ہونا چاہئے ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوامی تشویش کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری اجلاس بلا کر ثابت کر دیا کہ وہ مسئلے کے حل کے لئے سنجیدہ ہی نہیں بلکہ تمام ذمہ داران کو جواب دہ کیا ، آخر اتنا بڑا حادثہ کیوں پیش آیا،کوئی کچھ کہہ رہا کوئی ادھر ادھر کی بات کر رہا اور کسی نے کہا جہاں سوریج کا کام ہو رہا وہاں لائٹ نہیں تھی اس لئے یہ حادثہ پیش آیا تو واسا،ایل ڈی اے اور دیگر محکموں کے بڑوں کو بھی فارغ کیا جائے۔ اجلاس میں رپورٹس اور بریفنگز ضرور، مگر عوام کا غصہ بھی جائز ہے کسی بھی سرکاری منصوبہ بندی میں ایس او پیز کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ اگر سڑک پر چلتے ہوئے بھی جان محفوظ نہیں تو پھر ریاست کس کام کی؟ترقیاتی منصوبوں کے بڑے بڑے بورڈز، خوبصورت اشتہارات اور افتتاحی تقاریب اپنی جگہ، مگر جب بنیادی شہری تحفظ ہی غائب ہو تو یہ سب نمائشی کامیابیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے واقعات میں اکثر نچلے درجے کے اہلکار قربانی کا بکرا بنتے ہیں، جبکہ پالیسی، نگرانی اور بجٹ کے فیصلے کرنے والے محفوظ رہتے ہیں۔ جب تک اوپر تک جواب دہی نہیں ہوگی، نیچے کچھ نہیں بدلے گا۔ کھلے مین ہول بند کرنے کے لیے صرف ڈھکن نہیں، ارادے بھی چاہیے۔یہ سانحہ حکومت کے لیے محض ایک ایجنڈا آئٹم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اس واقعے کے بعد بھی واضح ٹائم لائن، فیلڈ لیول مانیٹرنگ، ذمہ دار افسران کے نام اور سزا سامنے نہ آئی تو یہ اجلاس بھی ا±ن درجنوں اجلاسوں میں شامل ہو جائے گا جن کی فائلیں تو موٹی ہوئیں، مگر سڑکیں محفوظ نہ ہو سکیں۔
اصل جھوٹ بیانات اور اصل سچ یہ لاشیں
09:05 AM, 30 Jan, 2026