پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل ایک ایسی بحث ہے جو ہمیشہ ہر حکومت کے دورِ اقتدار کے اختتام سے پہلے شروع ہوتی ہے یا پھر یہ الیکشن میں تقاریر کیلئے ایک بہترین موضوع ہوتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس ایشو کو سیاستدانوں نے خود ایک معمہ بنا رکھا ہے جو کہیں انتظامی،کہیں شناختی،کہیں طاقتی اورکہیں سیاسی ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔الیکشن ختم ہونے کے بعد نئے صوبوں کی تقسیم صرف قوم پرست گروپس کا سوشل میڈیا پر ایشو رہ جاتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو زیادہ سے زیادہ لوگوں پر اپناحقِ حکمرانی قائم رکھنے کیلئے پاکستان کی بڑی اکثریت کو انگنت عذابوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کیا 1947ءمیں برصغیر کا نقشہ تبدیل نہیں ہوا ؟یہ پاکستان جہاں ہم رہ رہے ہیں 71ءمیں تو خود اس کا جغرافیہ بدل گیا۔ کیا ہندوستان اور پاکستان انہیں صوبوں کے ساتھ چل رہے ہیں جو 1947ءمیں تھے تویقینا اس کا جواب نفی میں ہو گا ۔خود بنگلہ دیش کی 1971-72میں چار انتظامی یونٹس تھے لیکن آج آٹھ ہیں ۔ یقینا اِس کی وجہ یہی ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک ہی زبان اور کلچر کے لو گ تھے اوروہا ں شناخت کی کوئی لڑائی نہیں تھی لیکن پاکستان کے چاروں صوبوں میں الگ زبانیں اور الگ کلچر ہیں جس کی وجہ سے جب بھی صوبوں کی تقسیم کی بات ہوتی ہے تو وفاقی اور صوبائی سیاستدان اپنے بنائے ہوئے صوبائی اور لسانی گروپ آگے کرکے نئے صوبوں کی مخالفت کرنا شروع کردیتے ہیں اور پھر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنے ہی بیانیے کو عوام کا بیانیہ بنا کر صوبوں کی تقسیم کو تاخیر کا شکار کردیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں موجود پنجابی شاونسٹ آج بھی مشرقی اورمغربی پنجاب ایک ہونے کا خوا ب دیکھ رہے ہیں اور اِس کیلئے وہ کسی بھی ایسی سیاسی جماعت کا ساتھ دینے کیلئے تیارہو جاتے ہیں جو براہ راست بھارت سے پاکستان کے خلاف مدد بھی مانگ رہی ہو۔ کے پی کے میں بھی یہی معاملہ ہے کہ افغان اٹک تک افغانستان کے دعویدار ہیں اور ہمارے کچھ پختون بھی اُن کے معاون و مدد گار ہیں اورچاہتے ہیں کہ کے پی کے افغانستان کا حصہ بن جائے کیونکہ یہاں بھی زبان اور کلچر ایک ہونے کی وجہ سے وہی خواب مچل رہا ہے جو پنجابی شاونسٹوں کی آنکھوں میں ہے ۔بلوچستان پر ایک طرف ایران اوردوسری طرف افغان نظریں گاڑے بیٹھے ہیں اور بلوچستان میں بسنے والوں کے قبائل افغانستان میں بھی بستے ہیں ۔جہا ں تک سندھ کی بات ہے تو اُس کے ایک طرف سمندر اور دوسری طرف دریائے سندھ ہے اور بلاول جان تودے سکتا ہے لیکن سندھ نہیں دے گا ایسا اُس نے خود ہی سندھی میں کہا ۔ کے پی کے میں گزشتہ تیرہ سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اُس سے زیادہ عرصہ سے پیپلز پارٹی سندھ میں بیٹھی ہے لیکن بیڈ گورنس کا یہ عالم ہے کہ اُسے بُری حکومتیں نہیں بدترین حکومتیں کہا جا سکتا ہے ۔بلوچستان میں حکومت بس چل رہی ہے یا چلائی جا رہی ہے لیکن انتظامی حالت انتہائی ناقص ہے اور امن و امان کا مسئلہ تو اس حد تک ہے کہ بھارتی جاسوس وہاں دندناتے پھر رہے ہیں ۔پنجاب آباد ی کے حوالے سے زیادہ ہونے کی وجہ سے طاقت کا مرکز ہے اور پنجاب ہی مرکزی طاقت کا فیصلہ کرتا ہے سو پنجابی ایلیٹ اسے تقسیم کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن جب تک آپ نئے صوبے نہیں بنائیں گے آپ سے موجودہ صوبوں کا انتظام چلانا تو دور کی بات سنبھالا بھی نہیں جانا کہ چھوٹے صوبو ں میں گورنس آسان اورعوام کو ریلیف زیادہ آسانی اور برق رفتاری سے میسر آ جاتا ہے ۔ صحت ¾ تعلیم ¾ روز گار اور امن و امان کو کنٹرول کرنا بھی ا ٓسان ہوتا ہے ۔ چھوٹے شہروں سے صوبائی درالخلافے کی طرف لوگوں کی نقل مکانیاں کم ہوجاتی ہیں کیونکہ انہیں اپنا دارلخلافہ نصیب ہو جاتا ہے ۔صرف پنجاب کی آبادی دنیا کے بہت سے ممالک سے کہیں زیادہ ہے اب ان حالات میں ایک صوبائی حکومت کہاں تک بھاگ دوڑ کرسکتی ہے ؟بڑے صوبوں میں اکثر دوردراز کے علاقے نظر انداز ہو جاتے ہیں جس سے مرکز اور اداروں کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے ۔جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ بُری طرح نظر انداز ہو رہے ہیں لیکن اقتدار کا لالچ ہے کہ جان نہیں چھوڑتا ۔ نئے صوبے مقامی بجٹ کو یونیورسٹیاں، ہسپتالوں اور روز گار کے منصوبوں میں استعمال کرسکتے ہیں ۔یہ نئے صوبے ہی ہیں جو آپ کومقامی قیادتیں ¾ اسمبلیوں میں زیادہ نمائندگی اور بڑے شہروں کے تسلط سے جان چھڑوا سکتا ہے۔مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی علامت ہوتے ہیں لیکن ہم نے صوبوں کوبھی مضبوط نہیں کیا اورنئے صوبے نہ بنا کر وفاق کو بھی مزید کمزور کر رہے ہیں ۔یقینا اس کیلئے آئینی رکاوٹیں بھی ہیں لیکن سیاست اور اسمبلی ہوتی ہی رکاوٹیں دورکرنے کیلئے ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلی میں 2/3 اکثریت ضروری ہے لیکن ایسا افہام و تفہیم سے ہو سکتی ہے اگر عام آدمی کی زندگی بہتر بنانا پیش ِنظر ہو ۔ اس وقت صرف عبد العلیم خان واحد ایسے وفاقی لیڈر ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر نہ صرف صوبوں کی تقسیم کی بات کر رہے ہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے لوگوں کے مسائل اور اُن کے طویل سفر تک کاذکر اپنی تقاریر میں کر رہے ہیں۔ میں عبد العلیم خان کی اس صائب رائے سے متفق ہوں کہ اگر آپ صوبوں کے نام نہیں بدلنا چاہتے تو مت بدلیں ¾ آپ انہیں مشرقی ¾ مغربی ¾ شمالی اور جنوبی کی بنیاد پر بھی انتظامی بنیادوں پر تقسیم
کرسکتے ہیں ۔ اس سے صوبے کانام بھی نہیں بدلے گا اور کوئی لسانی مسئلہ بھی پیدا نہیں ہو گا لیکن عبد العلیم خان اُن کا کیا کریں جن کو زیادہ سے زیادہ لوگوں پر حق ِ حکمرانی کی عادت پڑ چکی ہے ؟جن کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ راجن پور اور صادق آباد سے لاہور آنے والے بزرگوں کو کن مصیبتوں سے گزرنا پڑتا ہے یا پھر لیسبیلہ سے کوئٹہ پہنچنے والے کیسے پہنچتے ہیں ؟ وفاقی وزیر برائے مواصلات و صدر آئی پی پی عبد العلیم خان کا ویژن اس حوالے سے صاف شفاف ہے اور جب کبھی بھی اُن سے صوبوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی یا اُن کی تقاریر سنی تو اس حوالے سے عبد العلیم خا ن کسی ابہام کا شکار نہیں ہیں کہ صوبوں کو زیادہ اور رقبوں کو کم کرکے آبادی کو اختیارات کے سرچشموں کے نزدیک لا کر اُن کی بہترین خدمت کی جائے ۔ استحکام ِ پاکستان پارٹی کے موقف کو تقویت ملنی چاہیے اور عام آدمی کو اس کی حمایت بھی کیونکہ صوبائی دارالخلافہ کے پاس بیٹھے لوگوں کو اس سے یقینا سہولت مل رہی ہو گی لیکن دور دراز کے لوگ دکھ اور تکلیف میں ہیں لیکن صوبوں کی تقسیم پر برہم ہونے والے شاید انہیں صوبوں سے وطن بنانا چاہتے ہیں کہ عوامی دکھوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ دکھی ہو کر ریاست مخالف ہو جاتے ہیں۔ جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا ۔
بڑے صوبے نفرت کو ہوا دیتے ہیں
09:04 AM, 30 Jan, 2026