وادی تیراہ میں آپریشن کے حوالے سے آج کل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سرگرم ہیں اور مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ عوام کو ساتھ ملا کر احتجاج کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے آفریدی قبائل کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی۔ سہیل آفریدی کچھ اس طرح منظر کشی کر رہے ہیں کہ جیسے سب کچھ اچانک ہو رہا ہے اور سہیل آفریدی کچھ بھی نہیں جانتے۔ وادی تیراہ میں آپریشن کی کہانی جاننے سے پہلے کچھ حقائق سمجھ لینے چاہئیں۔ وادی تیراہ کی مقامی آبادی میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کی وجہ سے بے چینی تھی جو گھروں اور کمپاو¿نڈز میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ مقامی آبادی نے اس مسئلے کے حل کے لیے سکیورٹی فورسز سے خود رابطہ کیا تھا اور صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد عمائدین کو آگاہ کیا گیا کہ سکیورٹی فورسز ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کر رہی ہیں جو آبادی اور کمپاو¿نڈز میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز بھی آپریشنز کا خاتمہ چاہتی ہیں، لیکن اس کے لیے مقامی آبادی کو درج ذیل میں سے ایک قدم اٹھانا ہوگااور یہی مناسب اقدامات تھے جس کو کوئی بھی پاکستانی غلط نہیں کہہ سکتا۔ یعنی وہ خود اپنے کمپاو¿نڈز اور دیہات کو آبادی میں پناہ لینے والے خارجیوں سے پاک کریں ان کو یہاں سے جانے سے مجبور کر دیں۔ اسی طرح اگر یہ ممکن نہ ہو، تو دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے IBOs میں سہولت کاری کریں۔۔۔ یا اگر دونوں آپشنز ممکن نہ ہوں، تو علاقہ خالی کر دیں تاکہ سکیورٹی فورسز آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کا صفایا کر سکیں اور عام شہریوں کے نقصان سے بچا جا سکے۔ستمبر 2025 میں تیراہ کے مقامی مشران نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور سے موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی (جو اس وقت ایم پی اے تھے) کی موجودگی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی دہشت گردوں کے انخلا یا ممکنہ نقل مکانی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ 28 اکتوبر 2025 کو ڈی سی خیبر نے موجودہ وزیر اعلیٰ کے پی کی موجودگی میں ممکنہ نقل مکانی اور اس کے لیے ضروری تیاریوں کے حوالے سے پی ڈی ایم اے کو پہلا خط لکھا۔
اسی دوران 14 نومبر 2025 کو صوبائی کابینہ نے اصولی طور پر تیراہ کے بے گھر افراد کی آباد کاری کے لیے 4 ارب روپے کی رقم منظور کی۔ تین ماہ بعد (11 دسمبر 2025 کو) تیراہ کے مقامی مشران نے ضلع انتظامیہ خیبر سے رابطہ کیا اور بتایا کہ دہشت گردوں کو علاقہ چھوڑنے پر قائل کرنے کی ان کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور وہ رضاکارانہ/ عارضی نقل مکانی کے لیے تیار ہیں۔17 دسمبر 2025 کو علاقے کے 26 معززین پر مشتمل ایک جرگے نے ضلع انتظامیہ خیبر سے ملاقات کی اور نقل مکانی کے لیے اپنے مطالبات پیش کیے۔ اسی طرح کی ملاقاتیں 18 اور 19 دسمبر 2025 کو بھی جاری رہیں۔ 26 دسمبر 2025 کو چیف سیکرٹری نے تیراہ کے بے گھر افراد کی دوبارہ آباد کاری کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی۔31 دسمبر 2025 کو جرگے نے چیف سیکرٹری سے ملاقات کی جس میں نقل مکانی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی اور جرگے کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔ رجسٹریشن کے عمل کے بعد، جو صوبائی حکومت نے کرنا تھا، نقل مکانی 14 جنوری 2026 تک مکمل ہونا تھی، جسے بعد میں 26 جنوری 2026 تک بڑھا دیا گیا۔ تیراہ کے باغ میدان سے کل 19,000 خاندانوں (90,000 افراد) کو منتقل ہونا تھا۔ اب تک صرف 60 سے 65 فیصد خاندان منتقل ہوئے ہیں۔ ایسے میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں جس کا جواب آنا چاہیے۔ پی ٹی آئی حکومت یہ دعویٰ کیسے کر سکتی ہے کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ صوبائی کابینہ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن اور نقل مکانی کے فیصلے سے کافی پہلے اصولی طور پر چارارب روپے کی منظوری دی تھی؟ 90,000 لوگوں کے لیے باغ اور دواتوئی میں صرف 2 رجسٹریشن پوائنٹس کیوں بنائے گئے؟ کیا یہ کے پی حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر کی گئی بدانتظامی نہیں تاکہ لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوں اور پھر اسے ایک سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کیا جائے؟چارارب روپے کی تقسیم کے طریقہ کار پر صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان شدید اختلافات کی اطلاعات ہیں۔ کیا پی ٹی آئی رجسٹریشن پوائنٹس کی ناقص کارکردگی اور چار ارب روپے کی شفاف تقسیم پر 24 رکنی جرگے کے تحفظات کا جواب دے گی؟کیا پی ٹی آئی رجسٹریشن کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی وضاحت کرے گی جہاں 14,000 خاندانوں کو رجسٹریشن سلپس دی گئی ہیں، جن میں سے 6,000 ایسے لوگوں کو جاری کی گئی ہیں جو تیراہ کے رہائشی ہی نہیں (بلکہ پی ٹی آئی کے کارکن بتائے جاتے ہیں)؟ اگر بے گھر افراد کی آباد کاری کے لیے صوبائی منظوری 14 نومبر 2025 کو دی گئی تھی، تو اس عمل کو جنوری 2026 کے آخر تک کیوں لٹکایا گیا؟غیر مقامی افراد میں فنڈز کی متنازع تقسیم کیا اس خدشے کو تقویت نہیں دیتی کہ پی ٹی آئی اس رقم کو اپنے 8 فروری کے احتجاج کے لیے لوگ اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟ یہی ہے وہ پراپیگنڈے کا کلچر جو پی ٹی آئی نے متعارف کرایا ہے اور پوری پی ٹی آئی اسی بیانیہ پر چل رہی ہے۔ سہیل آفریدی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا جانتے ہیں اور جان بوجھ کر حالات انتشار کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں تاکہ عوام میں بے چینی پیدا ہو اور پھر وہ اپنے نام نہاد قائد کی رہائی کے لئے پھر سڑکوں پر آنے کا جواز بنا سکیں۔
تیراہ آپریشن پر سہیل آفریدی کا پراپیگنڈا !
09:03 AM, 30 Jan, 2026