عرفان صدیقی صاحب ....یادیں اورباتیں !

09:03 AM, 30 Dec, 2025

اگلے دن مختصر حلقہ احباب جو برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کی وفات کے بعد مزید مختصر ہو چکا ہے کے ساتھیوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ملا تو جہاں برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی کی کمی شدت سے محسو س ہوئی وہاں اُن کو سب نے مل کر یاد کیا اور اُن کی مغفرت ، بخشش اور بلندی درجات کے لئے خصوصی دعا بھی کی۔ مہینہ، دو مہینے یا اس سے بھی کچھ زیادہ یا کم عرصہ میں احباب مل بیٹھتے تو جہاں قومی سیاست ، حالاتِ حاضرہ اور شعر و شاعری سمیت دنیا جہان کی باتیں ہوتیں وہاں رات کا پُرتکلف کھانا بھی اس نشست کا حصہ ہوتا۔ اس نشست میں حلقہ احباب یا چنڈال چوکڑی کے تاسیسی ارکان جن میں برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفو ر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور اُن کے ساتھ اہم اور بنیادی رُکن عزیزِ گرامی فواد حسن فواد کی شرکت ضروری سمجھی جاتی تھی تو اُن کے علاوہ احباب کے درمیان رابطے کے فرائض سرانجام دینے والے عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام ، اہم رُکن ڈاکٹر جمال ناصر ، مکرم و محترم اسماعیل قریشی اور راقم (ساجد ملک) کو بھی اپنی حاضری کو یقینی بنانا ہوتا تھا۔ کھانے اور مل بیٹھنے کی میزبانی اکثر عزیزِ گرامی فواد حسن فواد کے حصے میں آتی یا پھر عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام کو اس کا اعزاز ملتا۔ کبھی کبھار محترم ڈاکٹر جمال ناصر بھی اس اعزاز کے مستحق گردانے جاتے۔ اسلام آباد کلب میں کھانے وغیرہ کا پروگرام ہوتا تو برادرِ مکرم و محترم عرفان صاحب مرحوم ومغفور اس کے میزبان ہوتے۔ اتنے برسوں کے دوران میں یا محبِ گرامی اسماعیل قریشی میزبانی کے جھنجھٹ سے بچے چلے رہے ہیں۔ ایک آدھ دفعہ میں نے یا اسماعیل قریشی صاحب نے میزبان بننے کی کوشش کی لیکن دیگر احباب نے سختی سے اس کو رَد کر دیا۔ 
ہمارا یہ مختصر حلقہ احباب جس کے کل چھ ارکان کے نام اوپر آئے ہیں اور جس میں برادرِ مکرم ومحترم عرفان صاحب کو مرکزی حیثیت حاصل تھی ، یہ کب وجود میں آیا، میں اپنے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ماضی کے حالات وواقعات کو کریدوں تو کسی حتمی تاریخ یا سال یا مہینے کا تعین کرنا اگرچہ مشکل نظر آتا ہے لیکن اس سے بہت سارے پُرانے حالات و واقعات اور تاریخ ضرور وابستہ نظر آتی ہے۔ میں مختلف مراحل اور ادوار کو سامنے رکھ کر بات کروں تو کہا جاسکتا ہے کہ پچھلی صدی کے آخری برسوں میں 1997 ءمیں جب مسلم لیگ ن کی وفاق میں حکومت قائم ہوئی اور میاں محمد نواز شریف ملک کے دوسری بار وزیرِ اعظم بنے اور بلوچستان میں تعینات چیف سیکریٹری جناب اے زیڈ کے شیر دل وزیرِاعظم 
میاں محمد نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری مقرر ہوئے تو کوئٹہ میں بحیثیت ڈپٹی کمشنر تعینات نوجوان بیوروکریٹ عزیزِ گرامی فواد حسن فواد بھی پرنسپل سیکریٹری اے زیڈ کے شیر دل کے سٹاف افسر کے طور پر وزیرِ اعظم آفس میں آ گئے۔ فواد حسن فواد پچھلی صدی کی ستر کی دہائی میں سرسید کالج راولپنڈی میں زیرِ تعلیم تھے تو اُن کا شمار کالج کے انتہائی ذہین، قابل اور ہر دل عزیز سٹوڈنٹس میں ہوتا تھا۔ عرفان صاحب کی رہنمائی اور سرپرستی میں وہ کتنے ہی تقریری مقابلوں، مباحثوں اور شعر و شاعری کے مقابلوں میں شریک ہوتے رہے اور ہمیشہ ٹرافیاں اور انعامات جیت کر لاتے رہے۔ بعد میں وہ پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو کر سول سروس آف پاکستان کے ڈی ایم جی گروپ میں شامل ہو کر کوئٹہ کے اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے تو 1990 ءمیں عرفان صاحب اور میں اُن کی دعوت پر کوئٹہ گئے اورکئی دنوں تک اُن کی میزبانی و مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ 1994 ءمیں وہ کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر تھے اور لیفٹیننٹ جنرل عمران اللہ خان بلوچستان کے گورنر تھے تو عرفان صاحب کے ساتھ مجھے دوبارہ کوئٹہ جانے کا موقع ملا۔ اب عرفان صاحب کے چھوٹے بھائی مرحوم انعام الحق صدیقی بھی ہمارے ہمراہ تھے ۔ ہم نے تین ، چار دن کوئٹہ میں گزارے، زیارت ریذیڈینسی میں بھی گئے اور عزیزِ گرامی فواد حسن فواد اور گورنر بلوچستان جنرل عمران اللہ خان دونوں کی میزبانی سے لطف اندوز ہوئے۔ خیر جیسے میں نے اُوپر لکھا فواد حسن فواد 1997 ءمیں وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اے زیڈ کے شیر دل کے سٹاف آفیسر کے طور پر بطور ڈپٹی سیکریٹری وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ اسلام آباد میں تعینات ہوئے تو پھر ہماری باہمی میل ملاقاتوں اور شام کو مل بیٹھنے کا سلسلہ دوبارہ قائم ہو گیا۔ 
اکتوبر 1997 ءآرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو پابندِ سلاسل کر کے حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیا تو فواد حسن فواد جو دپٹی کمشنر لاہور کے عہدے پر فائز تھے وہ بھی کمرشل اتاشی بن کر جرمنی چلے گئے۔ اس طرح بیچ میں چھ، سات سال یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ بیت گیا۔ 2008 ءمیں پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی اور میاں شہباز شریف وزیرِ اعلیٰ بنے تو فواد حسن فواد اُن کے انتہائی بااعتماد اور قریبی ساتھی کے طور پر پنجاب سیکریٹریٹ میں یکے بعد دیگرے مختلف وزارتوں میں بطور سیکریٹری تعینات رہے۔ اس دوران اُن کا جب بھی پنڈی آنا ہوتا تو ہم مل بیٹھتے ۔ عرفان صاحب مرحوم و مغفور کی تو مرکزی حیثیت تھی ہی اُن کے ساتھ میرے علاوہ اب عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام ، محب و مکرم ڈاکٹر جمال ناصر اور محترم اسماعیل قریشی پر مشتمل ایک مختصر حلقہ احباب وجود میں آ گیا۔ 2013 ءکے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد میاں محمد نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تو فواد حسن فواد پہلے وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری اور بعد میں پرنسپل سیکریٹری کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس دوران برادرِ مکرم ومحترم عرفان صاحب 2014 ءمیں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بنائے گے ، انہیں اُن کی علمی ، ادبی اور صحافتی خدمات کی بنا پر ہلالِ امتیاز کے اعزاز سے نوازا گیا اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد وہ وزیرِ اعظم کے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے مشیر بدرجہ وفاقی وزیر کے عہدے پر تعینات کر دئیے گئے۔ اب ایوان ِ اقتدار کی غلام گردشوں میں عرفان صاحب اور عزیزِ گرامی فواد حسن فواد جو وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کے عہدے پر فائز تھے کی باہمی قربت اور میل ملاقاتوں میں جہاں اضافہ ہوا وہاں مختصر حلقہ احباب کی شام کی محفلوں کے انعقاد میں بھی کچھ زیادہ تسلسل آ گیا۔ 2018 ءعام انتخابات کے بعد تحریکِ انصاف کی حکومت قائم ہوئی اور جناب عمران خان وزیرِ اعظم بنے تو عزیزِ گرامی فواد حسن فواد کے ساتھ نیب کے ہاتھوں جو کچھ ہوا اور عرفان صاحب مرحوم و مغفور کو زیرِ عتاب لانے کی جو عیاں اور نہاں کوششیں ہوئیں یہ سب تاریخ کا حصہ ہیںاور ان کی زد ہمارے حلقہ احباب کی شام کی محفلوں پر بھی ضرور پڑی لیکن پھر بھی یہ محفلیں کسی نہ کسی صورت میں منعقد ہوتی رہیں۔ 2021 ءمیں عرفان صاحب سینیٹر بنے اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و قومی تاریخ کے چیئرمین کا منصب سنبھالا اور اس سے قبل عزیزِ گرامی فواد حسن فواد بھی نیب عدالت سے اپنے خلاف الزامات سے باعزت بری قرار دئیے گئے تو مختصر حلقہ احباب کی رونقوں میں بھی کچھ اضافہ ہو گیا۔ اُن دنوں ”تذکرہِ خاطر احباب“ کے عنوان سے میں نے روزنامہ ”نئی بات“ میں چھپنے والے اپنے کالموں میں اس مختصر حلقہ احباب کے گرامی قدر ارکان کے تعارفی کلمات میں لکھا تھا،” ان عزیزانِ گرامی میں ہر شخصیت بفضلِ تعالیٰ بذاتِ خود ایک انجمن یا ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان میں سے ہر کسی میں علم و آگاہی ، ہدایت و رہنمائی، عقل و دانش، اعلیٰ اخلاق و کردار، راست گوئی، فرض شناسی، خدمتِ خلق اور اقدار و روایات کی پاسداری کی جہاں خوبیاں پائی جاتی ہیں تو وہاں ان میں گہرا سیاسی ، تمدنی، تہذیبی اور معاشرتی شعور اور وطنِ عزیز کے معاملات و مسائل سے آگاہی اور انہیں حل کرنے کا ادراک بھی پایا جاتا ہے“۔ برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے بارے میں میں نے بطورِ خاص کچھ مزید جملے بھی لکھے۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں