ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
غالب نے اس شعر میں جو بات کہی ہے، پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے شاید وہی بات خیبرپختوںخوا کے وزیر اعلیٰ اور ان کے ساتھیوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اب غالب کا اپنا انداز ہے، انھوں نے نرم، شگفتہ اور شاعرانہ انداز اختیار کیا ہے جبکہ عظمیٰ بخاری صاحبہ نے یہ بات ذرا زیادہ واضح انداز میں کہہ دی۔
حال ہی میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اپنے وزرا کے ہمراہ نجی دورے پر لاہور تشریف لائے تو پنجاب میں مختلف مقامات پر اپنے وفد کے ساتھ نامناسب رویئے کا شکوہ کیا۔ انھوں نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری صاحبہ کی جانب سے اپنے ساتھیوں کے لیے استعمال کیے گئے لفظ جنگلی پر بھی اعتراض کیا۔ سہیل آفریدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور میں مہمان نوازی کی روایات کا بھرم نہیں رکھا گیا۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے اپنی جوابی پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی کےساتھ لاہورآنے والے لوگوں کی چکری میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے خلاف گفتگو اور پنجاب اسمبلی میں تلخ نوائی کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت پیش کی کہ ان کیلئے میرے پاس ”جنگلی“ سے زیادہ مہذب لفظ کوئی نہیں ورنہ کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن وہ پنجاب میں مہمان ہیں اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
سہیل آفریدی صاحب کے گلے شکوے اصولی طور پرتو بالکل بجا ہیں۔ ان کے وفد کے ساتھ پنجاب میں اگر کہیں نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تو وہ نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے ساتھیوں کے لیے "جنگلی" جیسا سخت لفظ بھی استعمال نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اور ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ وہ پنجاب میں مہمان تھے اور خاص طور پر لاہور جو پنجاب کا دارالحکومت اور دل ہے اور یہاں کے لوگوں کی زندہ دلی اور مہمان نوازی کی دنیا میں مثالیں دی جاتی ہیں۔ یہاں تو کسی دوسرے صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ بالکل ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا جس پر گلے شکوے کی نوبت آتی۔ ہمیں ہر حال میں انہیں سر آنکھوں پر بٹھانا چاہیے تھا تاکہ وہ ہمیشہ ہماری مہمان نوازی اور عزت افزائی کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے۔ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ مہمان وفد کو اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے اور مفت کی ہمدردیاں سمیٹنے کا موقع بھی نہ ملتا لیکن جو ہوا اس کی وضاحت عظمیٰ بخاری صاحبہ دے چکی ہیں۔
یوں تو جنگلی کوئی اتنا برا لفظ نہیں۔ اس کا تعلق جنگل سے متعلق چیزوں کے ساتھ ہے۔ جنگل میں رہنے والے جانوروں کو جنگلی جانور کہا جاتا ہے۔ جنگل میں اگنے والی نباتات کو جنگلی پودے کہا جاتا ہے اور ان سب کو مجموعی طور پرجنگلی حیات کہا جاتا ہے جس کے تحفظ کا باقاعدہ اہتمام بھی کیا جاتا ہے لیکن جب یہی لفظ کسی انسان کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں جنگلی سے مراد تہذیب اور اخلاقیات سے عاری انسان ہوتا ہے۔
اگر کوئی آپ کو جنگلی کہے تو واقعی اچھا نہیں لگتا۔ بہت غصہ آتا ہے کہنے والے پر۔ جی چاہتا ہے کہ آدمی اس کا منہ نوچ لے۔ اس لیے بہتر ہے کہ آدمی خود کو جنگلی کہے جانے سے بچانے کی پوری کی پوری کوشش کرے اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ایسی کوئی حرکت نہ کرے جو چیخ چیخ کر اس کے جنگلی ہونے کا اعلان کرے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اپنے رفقا کو یہ بات سمجھانی چاہیے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ وہ دوسروں سے جس بات کی توقع رکھتے ہیں، انھیں اور ان کے ساتھیوں کو خود بھی دوسروں اور خاص طور پر اپنے مخالفین کے لیے ویسا ہی رویہ اپنانا چاہیے۔ اگر وہ میزبان صوبے سے نامناسب رویئے پر شکوہ کناں ہیں تو انھیں خود بھی آداب مہمانی کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ اگر انھیں اپنے ساتھیوں کو جنگلی قرار دیئے جانے پر اعتراض ہے تو اپنے ساتھیوں کو بھی جنگلی پن کے مظاہرے سے اجتناب کی ہدایت کرنی چاہیے تھی۔
خیبرپختونخوا کے ایک وزیر کی پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ یہ ایسی گفتگو ہے جو گفتگو جیسے شائستہ لفظ کے دائرے میں بھی نہیں آتی۔ انھوں نے ایک ایسی بات کا حوالہ دیا جس کا ان کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں حالانکہ ایسی باتیں خود ان کے اپنے قائد اور ان کی جماعت کے بانی کے حوالے سے بھی زبان زدِ عام ہیں۔ نہ صرف زبانِ زد عام ہیں بلکہ ان کے پختہ ثبوت بھی موجود ہیں، حتیٰ کہ ان کے حوالے کئی کتابوں میں بھی موجود ہیں لیکن ان باتوں کا کوئی مخالف اگر حوالہ دینے کی جسارت کر بیٹھے تو پی ٹی آئی والے اس کی جان کو آ جاتے ہیں اور ان واقعات کو بانی کی نجی زندگی قرار دیتے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھیوں کی پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی ویڈیو بھی وائرل ہے، لاہور پریس کلب میں بھی ان کے ساتھیوں نے اپنے اسی روایتی رویئے کا مظاہرہ کیا جس کی پریس کلب کی قیادت کی طرف سے مذمت بھی جاری کی گئی۔ کیا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے ساتھیوں کے اس طرز عمل کا کوئی جواز پیش کر سکتے ہیں۔ دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی لاہور آتے ہیں، کیا کبھی ان میں سے کسی نے ایسے طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔ پنجاب کے وزرا اور وزیر اعلیٰ بھی دوسرے صوبوں میں جاتے ہیں، ان کے ساتھیوں کی طرف سے کبھی ایسا کوئی واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پی ٹی آئی حکومت کے لوگ ہی ہمیشہ ایسے طرز عمل کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں۔
مسجد نبوی ہو یا پارلیمنٹ ہاو¿س تک، جی ایچ کیو ہو یا پنجاب اسمبلی، لاہور کا کور کمانڈر ہاو¿س ہو یا پریس کلب، کسی بھی مقدس مقام یا قومی ادارے کے تقدس پامال کرنے میں کوئی ملوث نظر آتا ہے تو وہ صرف پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکن ہیں۔ کیا یہ طور طریقے جنگلی ہونے کی دلیل نہیں؟
آپ ہی اپنی اداو¿ں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
جنگلی
09:02 AM, 30 Dec, 2025