سانحہ پمز، اسلام آباد کے ایکسپریس وے پر واقع بڑے سرکاری ہسپتال کی نومولود بچوں کی نرسری میں 12 ربیع الاول کی صبح اچانک آگ بھڑک اٹھی، 14 معصوم بچے جنہوں نے ابھی آنکھیں کھول کر دنیا نہیں دیکھی تھی، جان سے گئے۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے والدین کی بخشش کی سفارش کریں گے۔ دلخراش خبر، استعفوں کا شور، کمیٹیاں، رپورٹ، سزائیں، معطلی، مگر اصل مسئلہ برقرار، بدانتظامی، غفلت بلکہ مجرمانہ غفلت، وزیر اعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی رپورٹ ملنے پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت عملے کے سینئر ارکان کو معطل کردیا، بچوں کی چوری کا موقف بجا لیکن کمرے کو تالا لگا کر معصوم جانوں کو کس کے آسرے پر چھوڑ دیا گیا، کمرے میں 15 بچے تھے ایک کو اس کی خالہ نے بروقت بچا لیا، باقی بچوں کے ماں باپ آکسیجن ہٹنے اور ڈسچارج کیے جانے کے منتظر رہے۔ آگ کی اطلاع ملنے پر پہنچے تو انہیں لفافوں میں بچوں کے سوختہ اعضاء تھما دیے گئے، بین ڈالتی ماؤں اور والدین نے لفافے وصول کیے اور اپنے جگر گوشوں کو دفن کر دیا۔ عملے کی معطلی کے علاوہ مزید کارروائی کی توقع ہے، تیزی سے گزرتا وقت ہر زخم کا مرہم۔ لوگ کراچی کے گل پلازہ کی طرح اس سانحہ کو بھی بھول جائیں گے لیکن جن کے پھول کھلنے سے پہلے مرجھا گئے ان کے زخم تا دیر تازہ رہیں گے۔ میڈیا پر ان گنت سوالات، انکشافات، انتظامی غفلت، ایمرجنسی راستوں کی تالہ بندی، بندش، یار لوگ کیا کیا باتیں بنانے لگے، کہانیاں سنانے لگے، اصل مجرم کا سراغ لگانے کی باتیں، بچوں کی تعداد 15 نہیں 50 تھی، ایک بھگوڑے نے 100 بتائی، سانحہ کو سازش بنانے والوں کے دلائل اور ان خواہشات کا اظہار کہ خان کو آئندہ علاج کے لیے اس ہسپتال میں نہیں لایا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف انتہائی برہم اور رنجیدہ دکھائی دیے، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے غیرجانبدارانہ تحقیقات کی قراردادیں منظور کر لیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال حادثہ کے وقت کراچی میں تھے، اطلاع ملنے پر بعد دوپہر اسلام آباد پہنچے، اس وقت تک تدفین کے مراحل طے ہوچکے تھے، انہوں نے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کر دیا۔ احتساب کا رواج ہے نہ روایت، مبینہ طور پر استعفیٰ پیش کیا جو تا حال منظور نہ ہو سکا، بدانتظامی، مجرمانہ غفلت کی ذمہ داری وفاقی سیکرٹری صحت پر ڈال کر معطل کر دیا گیا، 22 گریڈ کے افسر کی معطلی سے کیا فرق پڑے گا؟ کچھ ہوگا؟ کچھ ہوا تو ینگ اور اولڈ ڈاکٹرز ہڑتال کر دیں گے، ہڑتال سے علاج کے لیے آنے والے 9 ہزار سے زائد مریضوں اور ان کے لواحقین کو جانوں کے لالے پڑ جائیں گے۔ سالہا سال سے یہی کچھ ہوتا آ رہا ہے۔ ہڑتالوں اور دھرنوں نے یہ دن دکھائے، گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے۔
اگست گزر گیا، ستمگر، ستمبر سر پر ہے۔ ظالم اکتوبر آنے والا ہے۔ مرچ مصالحے لگا کر چورن بیچنے والوں نے اس دوران کئی سیاسی تھیوریاں تیار کر لیں۔ اگست میں خانوں کے خان کی صحت پر سیاست کی تھیوری نا تجربہ کاری کی نذر ہو گئی۔ خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نے بھائی کو صحت مند اور بھلا چنگا قرار دے کر کتنی افواہوں کو جنم دیا، بعد ازاں عدالت میں دائر توہینِ عدالت کی درخواست میں ان کی صحت پر اچھے خاصے خدشات کا اظہار کر دیا۔ سپریم کورٹ، پی ٹی آئی اور حکومت کی درخواستوں کی سماعت 16 ستمبر کو کرے گی۔ چھوڑو گروپ آف انڈسٹری (یہ نام ممتاز ویلا گر حسن ایوب نے دیا ہے) نے ان درخواستوں سے بھی امیدیں لگالی ہیں اور آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت وزیراعظم کی نااہلی اور حکومت کے خاتمے کے نعرے لگانا شروع کر دئیے ہیں، ضمانتوں اور رہائی کے امکانات ختم کرنے کے لیے 9 مئی کے تین ماسٹر مائنڈ کرداروں خان، ان کی اہلیہ اور فیض حمید کے خلاف 17 گواہیوں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی روشنی میں فیلڈ کورٹ مارشل کا اشارہ بھی دیا جا رہا ہے، ایسا ہوا تو تینوں کردارِ عدالتِ عظمیٰ کے دائرہ کار سے نکل جائیں گے۔ علاوہ ازیں مقدمات اور اپیلوں کا رخ وفاقی آئینی عدالت کی جانب مڑ گیا تو نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تھیوریاں بن اور بگڑ بلکہ دفن ہو رہی ہیں، انقلابِ پسند اہل یوتھ ستمبر میں بہت کچھ کرنے کی تیاری کیے بیٹھے ہیں، 6 ستمبر کراچی میں جلسہ، دوسرے ہفتے میں پھر الشفاء انٹرنیشنل منتقلی کی کوشش اور 27 ستمبر کو 40 لاکھ یوتھیوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ اسلام آباد پر حملہ کا شیڈول، لیکن خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی رابطوں اور مبینہ خفیہ ملاقاتوں نے لشکر کشی کے منصوبہ کو مشکوک بنا دیا ہے، حضرت مولانا اب تک سیاست میں ہیوی ویٹ مانے جاتے تھے۔ ان کا بھرم قائم ہے، پی ٹی آئی کے ری کنڈیشن گروپ نے انہیں گلے لگانے کے بعد خواہ مخواہ ان سے امید لگا لی ہے اور پارلیمانی متحدہ اپوزیشن کے نام سے حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کی جدوجہد شروع کر دی ہے۔ صد حیف اپوزیشن لیڈر کے لیے خان کے نامزد سارے مہرے ناکام ہو گئے، قائد اپوزیشن محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس نقوی نے اشتعال انگیز تقریروں کے سوا خان کی رہائی کے لیے کیا کیا، جو حضرت مولانا کر لیں گے، حضرت کو ایک ہی گلہ ہے مجھے بھی ایک بار پیار سے دیکھ لو، جس دن دعوت مل گئی، سورج دھوپ چھاؤں کے موسم میں اپنے لیے راستہ نکال لیں گے۔ ری کنڈیشن پارٹی کی جھولی خالی، تب مائنس خان کے فارمولے پر اکبر ایس بابر سے رابطہ کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا، انہیں 31 میں سے 30 ارکان نے ووٹ دئیے، جبکہ 88 کے امیدوار کو 14 ووٹ ملے، وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ن لیگ کے شاہ غلام قادر نے ووٹ نہیں دیا، 44 سالہ افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم نامزدگی کا فیصلہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی منظوری سے ہوا، جس پر شور مچ گیا کہ ن لیگ میں بغاوت ہو گئی، 31 ارکان میں سے 30 نے نامزد وزیراعظم کی حمایت کی، بغاوت کہاں ہوئی؟ راجہ فاروق حیدر بھی مخالف تھے لیکن بیرسٹر افتخار گوہر نے اپنے سیاسی محسن کو کسی نہ کسی طرح منا لیا۔ راجہ فاروق حیدر نے 15 سولہ سال پہلے جس پودے کی آبیاری کی تھی، آج وہ اتنا تن آور درخت بن گیا کہ اس نے اس بوڑھے برگد کی جڑیں کاٹ دیں جو اسے سایہ فراہم کرتا رہا۔ راجہ فاروق حیدر نے یہ حقیقت تسلیم کر لی، لیکن دو کشتیوں میں سوار شاہ غلام قادر توازن برقرار نہ رکھ سکے اور ایک طفلِ مکتب سمجھے والے شخص نے انہیں ڈبو دیا، وزارتِ عظمیٰ کی پری شاہ صاحب کے گال کو چھو کر چلی گئی، شاہ غلام قادر بھول گئے کہ ہاتھ کی لکیروں میں اقتدار کی لکیر مدھم یا مٹ جائے تو جغرافیہ بدلنے سے تقدیر کے فیصلے نہیں بدلتے، خبر یہ ہے کہ نئے وزیراعظم نے راولا کوٹ والوں کو مذاکرات کی دعوت دے دی ہے، توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے، کیا ہو گا دیکھا جائے گا۔
سانحہ پمز، سیاسی تھیوریاں، ری کنڈیشن پارٹی
09:42 AM, 31 Aug, 2026