گزرے چند دنوں میں تین اہم شخصیات نے تین اہم غیرملکی دورے کئے ہیں۔ تینوں دوروں کے بعد تینوں ممالک کی طرف سے محتاط اور سفارتی زبان میں مختصراً احوال بیان کیا گیا ہے۔ ان میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران ہے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ امریکی صدر کے کہنے پر ان کا کوئی پیغام لے کر ایران نہیں گئے لیکن یہ بات قابل فہم ہے کہ وہ ان حالات میں پاک ایران تجارت اور حجم طے کرنے کیلئے ایران نہیں گئے تھے بلکہ بات جس انداز میں بھی ہوئی ہو گی اس کا مرکزی نکتہ جاری جنگ کے حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچنا ہی ہو سکتا ہے۔ دورے کے بارے میں سرکاری طور پر بتایا گیا کہ یہ دورہ بہت کامیاب رہا۔ ایران کی طرف سے مختلف موقعوں پر ایک ہی موقف سامنے آرہا ہے کہ وہ جنگ بندی کی پاکستانی اور دوسرے ممالک کی کوششوں کا معترف ہے۔ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے ایم او یو پر عمل درآمد کا خواہاں ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بعد قطر کے وزیراعظم بھی ہنگامی طور پر ایران پہنچے جس کے بعد قطر کی طرف سے بھی اس قسم کا ایک ملفوف بیان سامنے آیا جو گزشتہ کئی ماہ سے قطری قیادت کی ایرانی لیڈروں سے ملاقات کے بعد سامنے آتا ہے۔ دنیا کو اندازہ ہے کہ قطری وزیراعظم کا یہ دورہ ایران دو معاملات سے جڑا ہے۔ اول جنگ بندی دوئم آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے کے معاملات ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایم او یو کے مطابق اپنا لائحہ عمل طے کر چکا ہے، جس کا ایک فقرے میں مطلب یہ ہے کہ وہ کسی کو ”فری لنچ“ نہیں کرائے گا بلکہ ان ممالک کے جہازوں کو تو بالکل نہیں گزرنے دے گا جنہوں نے جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی عملی معاونت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض دوست ممالک کی طرف سے امریکی منصوبے کے مطابق ایران کو امریکی ایٹم بم سے ڈرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موقعہ پر ایرانی قیادت نہایت سکون سے انہیں ایک ہی جواب دیتی ہے کہ اگر امریکہ اپنی بحری بری اور فضائی شکست کے بعد ایٹمی حملہ کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنا یہ شوق بھی پورا کرے۔ ہم اس حملے کے بعد بھی انشاء اللہ باقی رہیں گے اور زبردست جوابی حملہ کریں گے۔ دوست ممالک یہ جواب سن کر انگلیاں دانتوں تلے داب لیتے ہیں اور یہی پیغام امریکی صدر تک پہنچا دیتے ہیں جس کے بعد امریکی صدر کی پریشانی میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر انہیں سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کریں وہ نئی دھمکی کی تیاری شروع کر دیتے ہیں لیکن ایران پر کسی دھمکی کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ ہر نئی دھمکی کے بعد ایران خطے کے مسلمان ملکوں سے کہتا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کیلئے امریکہ پر انحصار چھوڑ دیں اور اس کے ساتھ معاملات طے کریں۔ خطے کے اسلامی ممالک اس خیال کی جانب راغب ہوتے نظر آتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں اگر وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں آتے ہیں تو اس کے پیچھے روس اور چین کی خوشنودی یقینا ہو گی۔
تیسری شخصیت سی آئی اے کے ڈائریکٹر ریڈکلف کا ہنگامی اور مختصر دورہ روس ہے جسے حالات کے تناظر میں اہم ترین قرار دیا جا رہا ہے اور عالمی میڈیا اسے مختلف انداز میں دیکھ رہا ہے۔ کہنے کو یہ انتہائی خفیہ دورہ تھا لیکن ٹھیک چندگھنٹوں میں اس کی کچھ جذبات دنیا کے سامنے آگئیں۔ دورے کی تفصیلات طشت ازبام کیسے ہوئیں، اسے سمجھنے کیلئے ایک واقعہ کافی ہے۔ 1970ء کا زمانہ ہے۔ جنرل آغا محمد یحییٰ خان پاکستان کے صدر ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر پاکستان کے تین روزہ دورے پر پاکستان آتے ہیں اور پہلے روز کی مصروفیات کے بعد خبر آتی ہے کہ وہ علیل ہو گئے ہیں اور مری میں ریسٹ کر رہے ہیں۔ ہنری کسنجر ہٹے کٹے مشٹنڈے تھے، انہیں ایک خاص جہاز میں راتوں رات اسلام آباد سے بیجنگ پہنچایا گیا جہاں انہوں نے ٹاپ لیول چینی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ وہ ایک روز چین گئے اور اگلے روز واپس اسلام آباد پہنچ گئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ امریکہ نے جب مناسب سمجھا اس دورے اور اس میں پاکستان کے کردار کو دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ پاکستان کی اعانت سے امریکہ اور چین میں تعلقات کا آغاز ہوا جو بعدازاں کئی ہزار ارب ڈالر سالانہ کی تجارت کی شکل اختیار کر گیا۔ پاک بھارت تعلقات کی طرح امریکہ چین تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں لیکن چین اور امریکہ آج جہاں بھی ہیں ان کے پیچھے امریکی وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورہ ہے جب انہیں انتہائی خفیہ انداز میں اسلام آباد سے بیجنگ پہنچایا گیا۔
سی اے اے کے مشن بھی اسی طرح خفیہ ہوتے ہیں۔ کچھ لیک نہیں ہوتا البتہ جو چیز وہ دنیا کو اور اپنے مخالفین کو بتانا چاہتے ہیں۔ وہ ازخود لیک کرتے ہیں۔ اپنے اور بین الاقوامی میڈیا میں ان کے سہولت کار یا ایجنٹ ان کے منتظر رہتے ہیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ریڈکلف کا دورہ اسی حکمت عملی کے تحت بذریعہ لیک دنیا تک پہنچایا گیا۔ گمان ہے ریڈکلف نے نظریہ ضرورت کے تحت دو اہم معاملات پر بات کی ہو گی۔ امریکہ چاہتا ہے یوکرین جنگ بند کرا کے اس کا کریڈٹ لے سکے۔ امریکہ اس کے بدلے میں روس سے چاہتا ہے کہ وہ اپنا اثر استعمال کر کے آبنائے ہر مز کھلوا دے اور امریکی صدر ان دو کامیابیوں کے ساتھ اپنے مڈٹرم الیکشن میں اتر سکیں جہاں سیاسی پھسلن اس قدر زیادہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرم کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے۔ ابتدا میں کہا گیا کہ ریڈکلف نے روسی صدر سے بھی ملاقات کی۔ روسی ذرائع نے اس کی تردید کر دی اور واضح کیا کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن اتنے بھی ویلے نہیں روس نے یہ بھی واضح کر دیا کہ روس ایک عالمی طاقت ہے۔ کوئی چاچو نہیں جسے امریکہ دانہ ڈالر کر رام کر لے۔ ڈائریکٹر سی آئی اے ریڈکلف روس سے خالی ہاتھ واپس آئے ہیں۔ انہیں خیر نہیں ڈالی گئی۔ روس نے اپنے میزائلوں کا منہ برطانیہ کی طرف کر لیا ہے اور یورپ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
ریڈکلف خالی ہاتھ واپس
09:48 AM, 31 Aug, 2026