بعثت مصطفیؐ کا مقصد اور امت کی ذمہ داریاں 

09:44 AM, 31 Aug, 2026


قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا: اور بیشک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔ (سورۃ القلم) یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کر تی ہے کہ نبوی شخصیت کا کمال صرف تعلیم دینے میں نہیں بلکہ تعلیم کو کردار میں ڈھال دینے میں تھا۔ آپ ﷺ جو کہتے تھے اسے جیتے تھے۔ آپ ؐ نے رحم کی تعلیم دی تو اپنے اور پرائے کے درمیان انصاف کیا، عفو کا درس دیا تو فتح کے دن ماضی کے مظالم کا بدلہ لینے کے بجائے عمومی معافی کا راستہ اختیار کیا۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب رسول اللہ ؐ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ ؐ کا اخلاق قرآن تھا۔ اس ایک جواب میں ہی سیرت اور قرآن کا باہمی تعلق سمٹ آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومنوں میں کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔ یہ حدیث مسلمانوں کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اگر مذہبی شناخت مضبوط ہو مگر زبان دوسروں کو زخم دیتی ہو، اگر عبادت کے باوجود کاروبار میں خیانت جاری ہو، اگر نعت و درود سے محبت ہو مگر گھر میں کمزور افراد کے ساتھ سختی کی جائے تو ہمیں اپنے ایمان کے ظاہری مظاہر کے ساتھ اپنے اخلاق کا بھی جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلامی معاشرے کی تشکیل میں عدل ایک بنیادی ستون ہے۔ قرآن کریم کا حکم ہے: بیشک اللہ عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔ (سورۃ النحل)نبوی معاشرے میں عدل کسی خاص طبقے کے لیے مخصوص نہ تھا۔ قانون کی نگاہ میں کمزور اور طاقتور کی قدر ایک سی تھی۔ یہی وہ اصول تھا جس نے ریاست کو شخصیات کی جاگیر بننے سے روکا اور قانون کو اخلاقی ذمہ داری سے جوڑا۔ عدل کا مفہوم آج ہمارے معاشرے میں صرف عدالتوں تک محدود ہے۔ استاد کا طالب علم کے ساتھ عدل، والدین کا اولاد کے ساتھ عدل، افسر کا ماتحت کے ساتھ عدل، تاجر کا گاہک کے ساتھ عدل، شوہر کا بیوی کے ساتھ عدل، آجر کا مزدور کے ساتھ عدل سب اسی نبوی تعلیم کے دائرے میں شامل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (صحیح بخاری) اس حدیث میں معاشرتی امن کی ایک بنیادی شرط بیان کی گئی ہے۔ آج جب زبان کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ذرائع بھی انسان کی عزت کو چند لمحوں میں مجروح کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اخلاق کی یہ تعلیم اور زیادہ اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے۔ کسی کی تضحیک، جھوٹی خبر،کردارکشی یا تحقیر کو صرف اس لیے معمولی نہیں سمجھا جا سکتا کہ وہ اسکرین پر ہوئی ہے۔ بیشک آج زبان کی جگہ انگلیوں نے لے لی ہے مگر اخلاقی ذمہ داری آج بھی وہی ہے۔ قرآن کریم نے آپﷺ کے مقام کو عالمگیریت عطا کرتے ہوئے فرمایا: اور ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ (الانبیاء 107) یہ رحمت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ نبوی سیرت میں انسان، حیوان، کمزور، یتیم، عورت، غلام، مسافر، پڑوسی اور حتیٰ کہ مخالف کے ساتھ بھی اخلاقی حدود قائم نظر آتی ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر وہ لوگ سامنے تھے جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ ؐ کے ساتھیوں کو برسوں اذیت دی، گھر چھوڑنے پر مجبورکیا، جنگیں مسلط کیں اور بے حساب ظلم ڈھائے لیکن فتح مکہ کے بعد ذاتی انتقام کو ریاستی طاقت کا اصول نہیں بنایا گیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اقتدار کی اصل آزمائش انتقام لینے کی قدرت نہیں بلکہ عدل و رحمت کے ساتھ طاقت کا استعمال کرنا ہے۔ آج امت کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کی نمائندگی صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے کرے۔ اگر ہمارا پڑوسی ہم سے خوف زدہ ہے، ملازم ہمارے رویے سے پریشان ہے، کمزور ہماری مجلس میں خود کو بے قدر سمجھتا ہے اور اختلاف رکھنے والا ہماری زبان سے محفوظ نہیں تو ہمارے پاس اسلام کے نام کی نسبت تو ہو سکتی ہے مگر رحمتِ مصطفی ﷺ کے فیض سے محرومی ہے۔ قرآن کریم نے انسانی مساوات کا ایک ایسا اصول دیا جو کسی خاص قوم، خطے یا زمانے تک محدود نہیں ہے۔ اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمھیں قوموں او ر قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔(سورۃ الحجرات) یہاں انسانی تنوع کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ اسے تعارف اور باہمی پہچان کا ذریعہ بنایا گیا۔ رنگ، زبان، نسل، علاقہ، اور قبیلہ انسان کی شناخت تو ہو سکتے ہیں مگر فضیلت کا آخری معیار نہیں۔ نبوی معاشرے میں حضرت بلال ؓ، حضرت سلمان ؓ، حضرت صہیبؓ اور دیگر صحابہ کا مقام اس اصول کی عملی تفسیر تھا۔اسلام نے انسان کو اس کے پیدائشی یس منظر کے قید خانے سے نکال کر تقویٰ اور کردار کے میدان میں لا کھڑا کیا۔امت کی ذمہ داری ہے کہ یہ مساوات صرف کتابی اصول تک محدود نہ کرے بلکہ ذات، برادری، زبان،علاقہ، دولت اور سماجی مرتبے کی بنیاد پر انسان کی قدر و قیمت متعین کرنا بعثت محمدی ﷺکی پیدا کی گئی روح سے متصادم ہے۔ مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے جس معاشرے کی تشکیل کی اس کی اہمیت یہ نہیں کہ وہاں صرف نئی سیاسی وحدت قائم ہوئی بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ ایمان کو اجتماعی اخلاق میں تبدیل کیا گیا۔ مہاجرین مکہ سے ہجرت کر کے آئے تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ انصار نے ان کے لیے اپنے گھروں اور وسائل کے دروازے کھول دیے مواخات کا یہ عمل محض جذباتی بھائی چارہ نہیں تھا بلکہ سماجی اور معاشی ذمہ داری کا ایک عملی نمونہ تھا۔ آج ہمارے معاشرے میں ایک شخص کے پاس ضرورت سے زیادہ ہے اور دوسرا بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہے۔ ایسی صورت میں صدقہ و خیرات اپنی جگہ اہم ہیں مگر نبوی مزاج اس سے آگے بڑھ کر ذمہ داری، کفالت اور اجتماعی نظم کا تقاضا کرتا ہے۔ اس طرح میثاقِ مدینہ نے مختلف گروہوں کو ایک اجتماعی معاہدے کے تحت حقوق و ذمہ داریوں کے ساتھ جوڑا۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرت اپنے شہری نظم میں عہد، ذمہ داری، انصاف اور باہمی تحفظ کو اہمیت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت ِ نبوی ﷺ کو صرف واقعات کی کتاب سمجھنا اس کے عملی پیغام کو محدود کرتا ہے۔ سیرت ِ نبوی ﷺ دراصل اصولوں کی ایک زندہ تاریخ ہے بعثت محمدیﷺ کے بعد قرآن کریم امت کی رہنمائی کا بنیادی سر چشمہ ہے مگر قرآن سے تعلق صرف تلاوت تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ تلاوت دل کو نور دیتی ہے لیکن تدبر زندگی کی سمت درست کرتا ہے۔ قرآن کریم ہمیں یہ سیکھاتا ہے کہ وحی انسان کو دنیا سے کاٹنے کے لیے نہیں بلکہ دنیا کو درست کرنے کے لیے آتی تھی اس لیے قرآن سے زندہ تعلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے فیصلوں، معاملات، اخلاق اور ترجیحات کو قرآن کے سامنے رکھے۔ اگر ہم نے قرآن کریم میں عدل کی آیات پڑھیں مگر کاروبار میں نا انصافی کی، امانت کی آیات پڑھیں مگر ذمہ داری میں خیانت کی، غیبت سے بچنے کی تعلیم لی مگر مجلس میں دوسروں کی عزت اچھالی تو مسئلہ یہاں تعلیمات میں نہیں بلکہ ہمارے تعلق کی نوعیت میں ہے۔ امت کو قرآن خوانی کے ساتھ قرآن فہمی، قرآن فہمی کے ساتھ تدبر اور تدبر کے ساتھ عملی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ رسول اللہﷺ کی سنت صرف ظاہری وضع قطع کا نام نہیں بلکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں آپﷺ کے طریقہ عمل کا نام ہے۔ یہ عبادات کا طریقہ بھی سکھاتی ہے اور معاملات کا ادب بھی۔ سنتِ نبویﷺ کی حقیقی پیروی یہ ہے کہ انسان سچ بولے، اپنا کیا گیا وعدہ پورا کرے، امانت ادا کرے، کمزور پر ہمیشہ رحم کرے، اختلاف میں بھی حدود نہ توڑے، اہلِ خانہ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اپنے اختیار کو ظلم کا ذریعہ نہ بنائے۔ معاشرہ افراد سے اور افراد خاندانوں سے بنتے ہیں اس لیے خاندان کی اصلاح کے بغیر معاشرتی اصلاح کا خواب ادھورا ہے۔ رسول اللہﷺ نے گھر کے اندر بھی اخلاق کا وہی معیار قائم کیا جو باہر تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہترین ہو۔ اسی تعلیم کی روشنی میں گھر صرف انسان کے رہنے کی جگہ نہیں بلکہ کردار سازی کا پہلا مدرسہ ہے۔ رسول اللہﷺ کی بعثت نے انسان کو تین بڑی سطحوں پر بدلا، اس کے عقیدے کوتو حید سے روشن کیا، اس کے باطن کو تزکیہ سے سنوارا اور اس کی اجتماعی زندگی کو علم، اخلاق، عدل، رحمت اور ذمہ داری کے اصول دئیے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ نبوی انقلاب مسجد کے محراب تک محدود نہیں رہا۔ اس نے گھر کے تعلقات، بازار کی دیانت، عدالت کے انصاف، ریاست کی ذمہ داری، علم کی قدر اور انسان کی عزت تک اپنا دائرہ پھیلایا۔ اگر قرآن کریم ہماری کتاب ہے تو سنتِ محمدیﷺ ہمارا راستہ ہے اور محمدﷺ ہمارے رہبر ہیں تو پھر ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ ہماری زندگی اس رہنمائی کی گواہی دے۔ جس دن ایک مسلمان کی دیانت اس کی عبادت کی طرح پہچانی جائے گی، اس کا انصاف اس کے ایمان کی طرح معتبر ہو گا، اس کی زبان سے دوسروں کو امن ملے گا، اس کے گھر میں رحمت ہو گی، اس کے علم سے معاشرہ فائدہ اٹھائے گا اور اس کے اختیار سے کمزور محفوظ ہو گا اس دن بعثتِ محمدیﷺ کا پیغام محض مقالہ کا موضوع نہیں رہے گا بلکہ وہ ایک زندہ حقیقت بن کر ہمارے درمیان نظر آئے گا اور شاید یہی بطور امت ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

مزیدخبریں