چوپال سجی ہوئی تھی،چپ سائیں کے علاوہ سب براجمان تھے۔۔نتھو اور پھتو میں خوب بحث ہورہی تھی، موضوع بحث تو ہوم منسٹر یعنی اہلیہ محترمہ تھی۔۔پھتو، نتھو کو سمجھانے کی کوشش کررہا تھا کہ بھائی دنیا بھر میں وہی گھر اور مرد کامیاب ہے جس میں ”ہوم منسٹر“ یعنی اہلیہ خوش ہو۔۔۔پر نتھو ٹھہرا تھوڑا اکڑ والا مرد۔۔وہ پھتو کی بات ماننے کوتیار ہی نہیں تھا۔۔۔ پھتو تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ بولا بھائی۔۔۔گھر کے باہر لوگ قاعدہ قانون کو بھی تو مانتے ہیں توگھر میں ”ہوم منسٹر“ یعنی اہلیہ کی بات سے انکار تو ممکن ہی نہیں۔۔۔اس پر نتھو بولا بھائی۔۔۔نہ جی ناں میں تو اپنی منواتا ہوں اور کبھی کبھار”ان“ کی بھی سن لیتا ہوں۔۔۔ اس پر تو چوپال میں سب کھل کر ہنس دیے۔۔۔ چاچا عبد الرشید نے کہا کہ بچوں۔۔۔ میں تو آپ سے عمر میں کچھ بڑا ہوں، یہ تو ماننا پڑے گا کہ گھر میں تو ہم عام عوام ہیں اور کبھی کبھار اپنی رائے دینے کی اجازت ہوتی ہے اور گھر سے باہر ایسے ہوتے ہیں جیسے۔۔۔گھر میں بھی ہماری ہی چلتی ہو۔۔۔ اسی اثنا میں چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔۔۔ سب احتراما کھڑے ہوگئے۔۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ سب اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔۔۔ چاچا عبدالرشید نے کہاکہ سائیں جی۔۔۔۔ آج تو چوپال میں بڑی دلچسپ گفتگو ہورہی ہے۔۔۔ نتھو اور پھتو کے درمیان”ہوم منسٹر“ یعنی اہلیہ کے بارے میں بات ہورہی ہے۔ چپ سائیں زیر لب مسکرائے۔۔۔۔
توقف کے بعد گویا ہوئے۔۔۔ نتھو، پھتو اور چاچا عبدالرشید جو بات کررہے ہیں کیا کہو گے اس بارے میں؟۔۔ اس پر نتھوبولا۔۔۔سائیں جی۔۔۔ میں ہوں تھوڑا دیہاتی ٹائپ کا تھوڑا سا اکھڑ اور تھوڑا ضدی۔۔۔ اسی وجہ سے ان کی بات سے انکار ہوں۔۔۔ چپ سائیں خاموش ہوگئے۔۔۔۔
چپ سائیں بولے۔۔۔ بھائیو اور بچوں۔۔۔ میں آپ کو اکبر الہ آبادی کا شعر سناتا ہوں اور پھر اس بارے میں بات کرتا ہوں
اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے
چپ سائیں زیر لب مسکرائے تو چوپال میں بھی دھیمی سرگوشیاں ہوئیں اور مسکراہٹیں بکھر گئیں۔۔ چپ سائیں نے کہا۔۔۔ دوستو! مشہور شاعر نے ازراہ تفنن نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اکبر جو کسی سلطان کے جاہ وجلا ل اوراس کی فوج سے نہیں گھبرایا۔۔۔ وہ بیوی کی ڈانٹ ڈپٹ سے چپ کر گیا۔۔۔ اس پر سب دوبارہ مسکرانے لگے۔۔۔ چپ سائیں نے کہا کہ صاحبو!۔۔۔ ازراہ تفنن یہ شعر ہنسی مذاق کے انداز میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بعض اوقات گھر میں بیوی کا رعب و دباؤ بڑے سے بڑے جنگی خطرے سے بھی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
چپ سائیں بولے بھائیو! شادی شدہ مرد کی زندگی میں اہلیہ محترمہ گھر کی اصل ہوم منسٹر ہوتی ہیں۔ گھر کے تمام اہم فیصلوں میں ہوم منسٹر کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ گھر میں کیا پکانا ہے،بچوں کی تربیت، ان کے کام،کپڑے کہاں رکھنے ہیں۔ان تمام معاملات پر حتمی اختیارعام طور پر اہلیہ کا ہی ہوتا ہے۔ ان معاملات میں خریداری کا معاملہ بھی آتا ہے۔ ان تمام کاموں کو بہترین طریقے سے انجام دینا ہی بہترین ہوم منسٹر یعنی اہلیہ کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ شوہر چاہے جتنی کوشش کر لے کہ اس مہینے کچھ پیسے بچ جائیں، لیکن دیگرضروریات بجٹ کو ایسی شکل دے دیتی ہیں کہ بچت صرف ایک سہانا خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ہوم منسٹر صرف گھر کے معاملات نہیں سنبھالتیں بلکہ اگر شوہر اگر کوئی چیز بھول جائے تو فوراً یاد دلایا جاتا ہے کہ“میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا۔ دوستو! حقیقت یہ ہے کہ ایک اچھی اہلیہ گھر کو محبت، نظم و ضبط اور قربت کے ساتھ جوڑ کر رکھتی ہے۔ ہم یاردوست تو بات کا مزاح کا رنگ دے دیتے ہیں کہ فلاں شخص اپنی اہلیہ کی بات بہت مانتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر میں اچھی بیوی ہوتو گھر جنت سے کم نہیں ہوتا دوسری صورت انتہائی تلخ ہوتی ہے اس بارے میں دوستو بات نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔۔۔۔خیر ہوم منسٹریعنی اہلیہ کی خدمات کو سراہنا چاہئے اور یہ تک کہہ دینا چاہئے کہ اگر آپ نہ ہوں تو یہ گھر صرف مکان رہ جائے۔
صاحبو! شادی شدہ زندگی اچھی طرح گزارنے کابہترین اصول یہ ہے کہ چڑچڑے ہوکر تنقید کی بجائے بیگم صاحبہ یعنی ”ہوم منسٹر“ کی تعریف بھی کردی چاہئے اس سے گھر کا ماحول بھی بہتر رہتا ہے اور زندگی بھی بہتر ین گزرتی رہتی ہے۔
چپ سائیں نے کہاکہ بعض اوقات شوہر صرف اتنا پوچھ لیتا ہے کیا ہوا؟”جواب آتا ہے“کچھ نہیں، یہ کافی نہیں ہے۔۔ دوستو!۔۔۔
شادی شدہ مرد جانتے ہیں کہ ”کچھ نہیں“کا مطلب اکثر یہ ہوتا ہے کہ بہت کچھ ہے، لیکن ابھی آپ کو خود سمجھنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔اگر شوہر سمجھ جائے توخیر ورنہ۔۔۔آپ خود سمجھ جائیں۔دوستو! ہوم منسٹر کے پاس مزید شواہد موجود ہوتے ہیں۔تاہم اس تمام مزاح کے پیچھے ایک حقیقت بھی ہے۔ گھر کی ہوم منسٹر ہونا کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے۔ سب کام سنبھالنا ایک ایسا انتظامی کام ہے جس کی کوئی چھٹی نہیں ہوتی، اور تنخواہ صرف یہ ہے کہ ضروریات پوری کی جائیں، یہ حق بھی ہے۔نتھو اور پھتوشوہر دفتر سے تھک کر جب واپس آتا ہے تو اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ہوم منسٹر اکثر اس وقت بھی کئی محاذ سنبھالے ہوتی ہے لیکن حرف شکایت نہیں کرتی۔ اس میں فرق صرف یہ ہے کہ دفتر کی تھکن کی تنخواہ ملتی ہے، گھر کی تھکن پر صرف ایک مسکراہٹ اور حال احوال۔اسی لیے اگر کبھی گھر کی ہوم منسٹر ناراض ہو جائیں تو شوہر کو یہ سوچنے کے بجائے کہ“میرا قصور کیا ہے؟”پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ“آج انہیں کس چیز نے تھکادیا ہ؟۔کیونکہ کامیاب شادی میں ہر بحث جیتنا ضروری نہیں ہوتا، کبھی کبھی رشتہ بچانا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
صاحبو! گھر محبت، برداشت، تعاون اور سمجھ داری سے چلتا ہے۔ اگر گھر کی ہوم منسٹر خوش ہوں تو شوہر کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی زندگی میں مہنگائی کم، بجلی کا بل کم اور مسائل آدھے ہو گئے ہوں۔اسی لیے دانا شوہراکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ہوم منسٹر کو خوش رکھنا کوئی خوشامد نہیں ہے، یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔دوستو! میں یہ ضرورکہوں گا کہ اگر کسی بھی انسان کو گھر میں سکون ہوگا تووہ گھر کے باہر کے کام بھی احسن طریقے سے انجام دے سکے گا۔
دوستو!موجودہ دور میں خاتون خانہ صرف گھر تک محدود نہیں رہتی بلکہ اپنی تعلیم، ملازمت یا دیگر مصروفیات کے ساتھ بھی خاندان کی ذمہ داریاں نبھاتی ہے۔ اس لیے شوہر اور اہلیہ دونوں کو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے گھریلو ذمہ داریاں باہمی تعاون سے ادا کرنی چاہئیں۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔
”اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے“
09:43 AM, 31 Aug, 2026