وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزرا کے ہمراہ چین پہنچ گئے، شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت

08:21 PM, 30 Aug, 2025

بیجنگ: وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف 25ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے 6 روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، اور مشیر طارق فاطمی بھی موجود ہیں، جنہیں چین پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔ وزیرِاعظم نے اپنے دورے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے اور عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم بات چیت کریں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "چین کے تاریخی دورے کے دوران میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت کروں گا اور علاقائی و عالمی مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کروں گا۔"

وزیراعظم شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ (سی ایچ ایس) اور ایس سی او ایس ایچ ایس پلس اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے علاوہ چین، بھارت، روس، قازقستان، کرغزستان، ایران، بیلاروس، تاجکستان اور ازبکستان کے سربراہان مملکت و حکومت شریک ہوں گے۔ ان اجلاسوں میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کے داخلی ترقیاتی منصوبوں اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم بات چیت کریں گے۔

ایس سی او ایس ایچ ایس اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف عالمی چیلنجز جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی ترقی اور سیکیورٹی کے معاملات پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ، سی ایچ ایس پلس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے علاقائی سلامتی میں اضافے اور پائیدار ترقی کے لیے عالمی سطح پر کثیرالجہتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔

وزیراعظم بیجنگ میں دوسری جنگ عظیم کی فتح کی 80ویں سالگرہ کی تقاریب میں شرکت کریں گے اور چینی صدر شی جن پنگ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، جس دوران دو طرفہ تعلقات اور عالمی سطح پر امن و ترقی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اس دورے کے دوران چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا عہد کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورے کے حوالے سے کہا کہ "ہم خطے کے دیگر اہم ممالک سے تعلقات کے فروغ اور کثیرالجہتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے جامع مذاکرات کریں گے۔ ہم امن، استحکام، اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔"

دفتر خارجہ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم 30 اگست سے 4 ستمبر تک چین کے دورے پر ہوں گے اور اس دوران وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ وزیراعظم کی چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیرِاعظم لی چیانگ سے ملاقاتوں کا بھی شیڈول ترتیب دیا گیا ہے، جن میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سٹریٹجک تعلقات پر بات چیت کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی چینی تاجروں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی، اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی جائے گی۔ وزیراعظم بیجنگ میں پاک-چین ’بی ٹو بی‘ انویسٹمنٹ کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کا یہ دورہ پاک-چین اعلیٰ سطحی تعلقات کے تسلسل کا حصہ ہے اور اس دورے میں سی پیک فیز-ٹو کے تحت منصوبوں کی پیشرفت اور نئے اقتصادی مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

 
 

مزیدخبریں