افغان طالبان کی انگور اڈہ میں شہری آبادی پر گولہ باری، ایک ہی گھر کے 5 افراد زخمی

12:40 PM, 30 Apr, 2026

جنوبی وزیرستان: جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغان طالبان رجیم کی جانب سے سول آبادی پر بزدلانہ حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ 29 اپریل کو ہونے والے اس حملے نے ایک بار پھر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی اور جارحیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
حملے کے وقت گھر میں موجود ایک شخص نے خوفناک منظر کشی کرتے ہوئے بتایا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ہمارا پورا گھر لرز اٹھا، ہمیں یوں لگا جیسے سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ سرحد پار سے آنے والے گولے براہِ راست معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور ان سے وابستہ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے دانستہ طور پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حالیہ حملوں میں عام شہریوں، خصوصاً بچوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حملہ آور کسی انسانی یا اخلاقی ضابطے کے قائل نہیں ہیں۔
افغان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی اور براہِ راست گولہ باری سرحد پر امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
انگور اڈہ اور گردونواح کے مکینوں نے اس بزدلانہ حملے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ سرحد پار سے بلا اشتعال اشتعال انگیزی اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ مقامی عمائدین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے سویلین آبادی پر ان حملوں کا نوٹس لیں۔

مزیدخبریں