واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری حالیہ کشیدگی کے حوالے سے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو اب یہ حقیقت مان لینی چاہیے کہ وہ ہار چکا ہے، کیونکہ امریکہ جنگ میں اپنے مطلوبہ مقاصد تقریباً حاصل کر چکا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ ٹیلی فون پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم انہوں نے ایرانی حکام کی جانب سے دی گئی نئی تجاویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط ناکافی ہیں اور جب تک ایک نیا اور جامع جوہری معاہدہ طے نہیں پا جاتا، تب تک کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک ختم نہیں کی جائے گی جب تک ایران جوہری پروگرام پر امریکی مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا۔صدر کے مطابق، امریکی دباؤ کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے اور ایران اس وقت شدید دفاعی و معاشی دباؤ کا شکار ہے۔وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں نتیجہ خیز ہوں گے جب ایران اپنی علاقائی مداخلت اور جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے کا پابند ہوگا۔
ایران ہار تسلیم کرے، ہم جنگی مقاصد حاصل کر چکے ہیں: صدر ٹرمپ
09:29 AM, 30 Apr, 2026