اسلام آباد:ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پہلگام حملے کے فوری بعد پاکستان پر الزام تراشی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان الزامات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر بات کرتا ہے۔
اسلام آباد میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پہلگام کا علاقہ لائن آف کنٹرول سے 230 کلومیٹر دور واقع ہے، اور اس دشوار گزار علاقے میں کسی کا 10 منٹ میں پہنچ جانا ممکن نہیں۔ ایف آئی آر میں درج وقت اور ردعمل کی رفتار سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی اور بغیر کسی ثبوت کے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس طرح کے بیانات خطے میں نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ بھارتی سوشل میڈیا نیٹ ورکس منظم انداز میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں میانوالی، کراچی اور جعفر ایکسپریس جیسے حملوں سے قبل بھی انہی ذرائع سے پیشگی اشارے دیے گئے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے اقدامات غیر قانونی ہیں، اور پاکستان اس پر عالمی فورمز پر مؤقف واضح کرے گا۔