پہلگام: چوتھی باری کا لانچنگ پیڈ

10:00 AM, 30 Apr, 2025

کریمینل لاء کا ایک اہم مفروضہ ہے کہ واقعات خود شہادت دیتے ہیں جس سے تحقیقات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر 2008ء میں ممبئی پارلیمنٹ حملہ کیس میں انڈیا کے وزیراعظم من موہن سنگھ تھے۔ا تنے بڑے سکیورٹی Failure پر من موہن سنگھ حکومت نے جو سب سے پہلا اور فوری ردعمل ظاہر کیا وہ یہ تھا کہ اس بات کی انکوائری کی جائے کہ دہشت گردوں کو پارلیمنٹ جیسے حساس ادارے تک پہنچنے سے روکا کیوں نہیں جا سکا۔ اس میں اعلیٰ ترین سطح پر بہت سے ذمہ داروں پر کیس بنائے گئے۔ آخر میں معاملہ کو سفارتی سطح پر اٹھایا گیا کہ دہشت گرد کون تھے اور کہاں سے آئے تھے۔ من موہن سنگھ کی حکومت کا کچھ نہ کچھ اخلاقی لیول تھا مگر اس کے برعکس جب 2019ء میں پلوامہ واقعہ ہوا تو نریندر مودی اقتدار کے سنگھاسن پر تھے انہوں نے سکیورٹی کی ناکامی پر کوئی انکوائری نہیں کی سیدھا سیدھا پاکستان پر الزام لگایا پھر بالا کوٹ میں سرجیکل سٹرائیکس کا ڈرامہ کیا اس کے بعد ابھی نندن کے ذریعے اپنا ایک مگ 29 طیارہ پاکستان کے ہاتھوں تباہ کروایا لیکن انہیں فائدہ یہ ہوا کہ وہ ہندو بنیاد پرستی کو ہوا دے کر دوسری بار الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔ 
پہلگام واقعہ بھی دراصل مودی کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جسے روبہ عمل لا کر وہ تین الیکشن جیت چکے ہیں اس واقعہ سے انہوں نے اپنی چوتھی بار منتخب ہونے کی مہم کا آغاکر دیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو آزاد جموں کشمیر کے حالات میں اس وقت کسی کی کوئی شورش نہیں چل رہی تھی دوسری جانب پاکستان اپنے معاملات میں مصروف ہے اور جعفر ایکسپریس جیسے واقعہ کے بعد دہشت گردوں کے خاتمے کا کام جاری ہے یہ کسی خواب و خیال والی بات ہے کہ پاکستان اپنے دہشت گردوں کو چھوڑ کر کوئی اور ایڈونچر کرنے کا رسک لے سکتا ہے۔ 
مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ واقعہ کے فوراًبعد انڈین میڈیا نیء ایک لمحہ ضائع کیے بغیر الزام 
پاکستان پر لگادیا۔ جس کے بعد مودی حکومت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا یہ سارا کھیل سیاست کے محود کے گرد گھوم رہا ہے یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی تمام تر سفارتی کوشش کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف بیان نہیں دیا بلکہ پاکستان کو امریکا کا دوست ملک کہا دوسری طرف سکیورٹی کونسل کی مذمتی قرار داد کے الفاظ کسی طرح بھی پاکستان کو الزام نہیں دیتے۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ تو منسوخ کرنے کی بات کی مگر لائن آف کنٹرول پر جاری سیز فائر معاہدے کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ کیونکہ انڈیا کو پتہ ہے کہ یہ معاہدہ ایک تو انڈیا کی درخواست پر ہوا تھا دوسرا اس کو ختم کرنا انڈیا کے لیے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ انڈین آرمی جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انڈیا آرمی کا 65 فیصد Equipments فرسودہ ہیں جو جنگ کے قابل نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ انڈیا پاکستان کے خلاف سیاسی اور سفارتی محاذوں پر تو بہت متحرک ہے لیکن کسی فوجی مہم کا ذکر نہیں کرتا۔ کیونکہ جنگ کی صورت میں انڈیا عرصے سے دہشت گردی کے خلاف مصروف عمل ہونے کی وجہ سے Combat proven ہے جو جنگی تجربوں میں کندن بن چکے ہیں جبکہ انڈین فوج کی فائیٹنگ صلاحیت پاکستان کے مقابلے میں بہت پست ہے۔ 
لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر بات کریں تو یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ مودی کے ایجنڈے پر نہیں ہے اس کا اصل مقصد اگلا الیکشن جیتنا ہے البتہ اس دفعہ الیکن میں ابھی 4 سال باقی ہیں مودی نے بڑی طویل کمپین شروع کر دیا ہے۔ 
پانی بند کرنے کی بات محض ایک گیدڑ بھبھکی ہے انڈیا بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا اس معاہدے میں ورلڈ بینک اس کا ضامن ہے۔ البتہ اگر انڈیا عملاً ایسا کرے گا تو چونکہ انڈیا کے سارے دریا چائنا سے آتے ہیں چائنا نے پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ وہ انڈیا کا پانی بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر دنیا میں کہیں بھی upper riparian کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ملک کے پانی کو روکے۔ 
ہاں ایک بات یقینی ہے پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے و اقعات میں اضافہ ہو گا کیونکہ ہمارے مغربی بارڈر پر افغانستان سرحد پار سے ہونے والی ساری دہشت گردی کی فنڈنگ انڈیا سالہا سال سے کر رہا ہے اب وہ اس پر مزید سرمایہ کاری کرے گا۔ 
آپ انڈیا کی سرکاری حکمت عملی دیکھیں ایک طرف امریکی نائب صدر انڈیا کے دورے پر تھا دوسری طرف مودی نے منت سماجت کر کے سعودی عرب کا دورہ کیا اس دن ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ مودی کا ڈنر تھا اس نے show کیا کہ وہ اپنا دورہ منسوخ کرکے واپس انڈیا جا رہے ہیں یہ سارا کچھ پہلے سے طے شدہ تھا ۔
یہ واقعہ کے موقع پر کوئی نہ کوئی ہیرو ابھر کر سامنے آتا ہے اس واقعہ کا ہیرو سیدعابد حسین شہید ہے یہ 26 سدالہ کشمیری مسلمان پہلگام میں سیاحوں کو تھوڑے پرسواری کروایا کرتا تھا اس دن جب دہشت گر د سیاحوں کا قتل عام کر رہے تھے تو اس نے انہیں ہلکارا کہ آپ کیوں ان کو مار رہے ہو۔ پھر سید عابد حسین نے ایک دہشت گرد سے بندوق چھیننے کی کوشش کی جس پر اس کے ساتھیوں نے عابد حسین کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس کے جنازے میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی شرکت کی اور اس کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔ عابد حسین نے ثابت کر دیا کہ کشمیری ایک ظالم حکومت کے خلاف ضرور تھیں لیکن وہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں ان کی لڑائی ریاست سے ہے۔ سید عابد حسین نے ہندو سیاحوں کو بچاتے ہوئے اپنی جان دی ہے یہ کشمیر کا اصل چہرہ ہے جسے مقامی لوگ کشمیریت کا نام دے رہے ہیں سید عابد حسین اس قتل عام کا واحد مسلمان ہے جسے نشانہ بنایا گیا لیکن مودی حکومت کی طرف سے اس کے لیے کوئی الفاظ کوئی ایوارڈ کوئی انعام نہیں ہے۔ 

مزیدخبریں