اس سے قبل کہ ہم تفہیم تصوف میں کشف المحجوب کی اہمیت پر بات کریں، ہمیں تصوف کی اہمیت پر مختصراً بات کر لینی چاہیے۔ جاننا چاہیے کہ تصوف کی بنیاد اخلاقیات ہے اور اخلاقیات کی بنیاد احسان ہے۔ اخلاقیات کی عمارت جس بنیاد پر کھڑی ہے وہ برداشت ہے۔ اگر انسانی معاشرے میں برداشت کا عنصر عنقا ہو جائے تو اخلاقیات کی بنیاد زمین بوس ہو جاتی ہے۔ اس قوتِ برداشت ہی کا روحانی نام صبر ہے۔ وہ چیز جو تصوف کو بین الاقوامی بناتی ہے، وہ اس کا اخلاقیات پر اصرار ہے۔ اخلاقیات ایک ایسی چیز ہے جس کی ضرورت سے کسی معاشرے کو، کسی زمانے کو، کسی قوم کو انکار نہیں ہو سکتا۔
اخلاق کیا ہے؟ اخلاق اپنی قوت کی شمشیر کو ضبط اور صبر کے نیام میں رکھنے کا نام ہے۔ اخلاق پردہ پوشی ہے، اپنی قوت کی … اور دوسروں کی کمزوری کی۔ اخلاق دوسروں کی عزتِ نفس کو اپنی عزتِ نفس پر ترجیح دینے کا نام ہے۔ اخلاق بالادست کا زیردست کے سامنے کسی اخلاقی ضابطے کے تحت جھک جانے کا نام ہے۔ اخلاق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر کبھی ننگی طاقت کو، طاقت کے برہنہ اظہار کو بطور دلیل تسلیم نہیں کرے گا، بلکہ ہر جگہ اخلاقی اصول کو مادی اصول پر ترجیح دے گا … یعنی وہ مادی دلیل کو اخلاقی دلیل کے تابع رکھے گا۔ اس مقام پر تصوف اخلاق کے ساتھ ساتھ حریت کا پیام بر بھی بن جاتا ہے۔
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ اخلاق وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے انسان پہلے مرحلے پر دوسروں کے لیے بے ضرر ہو جاتا ہے اور دوسرے مرحلے پر منفعت بخش اور آپؒ نے یہی تعریف فقیری کی بیان کی ہے کہ ’’فقیری شروع ہوتی ہے بے ضرر ہونے سے اور مکمل ہوتی ہے منفعت بخش ہونے پر …‘‘ یہاں ایک لمحے کا توقف کریں اور غور کریں، کہ دینِ اسلام میں مسلمان ہونے کی پہلی شرط بھی یہی ہے۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہیں۔ حدیثِ جبریلؑ میں بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کے تین درجے بتائے گئے ہیں۔ پہلا درجہ اسلام ہے، دوسرا ایمان اور تیسرا احسان۔ اخلاقیات اور تصوف درحقیقت درجہِ احسان پر متمکن لوگوں کا موضوعِ فکر ہے۔
صاحبو! انسان کو صاحبِ ارادہ مخلوق پیدا کیا گیا ہے اور صاحبِ اختیار بنایا گیا ہے۔ اس کی آزادیٔ فکر و عمل چند ضابطوں کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اگر یہ ان ظاہری اور باطنی ضابطوں کی پابندی اختیار نہ کرے تو یہ اپنے بارے میں فرشتوں کے قول کو سچ ثابت کرے گا کہ ابنِ آدم زمین پر فساد برپا کرے گا اور خون ریزیاں کرے گا۔ ظاہری ضابطے قوانین و شریعت ہیں اور باطنی ضابطوں کا شعور اسے تزکیہِ
نفس سے ملتا ہے۔ تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح تصوف کے شعبہ جات ہیں۔
’’رسالہ قشیریہ‘‘ کے بعد ہمیں ’’کشف المحجوب‘‘ تصوف کے موضوع پر قدیم ترین دستاویز ہے۔ کشف المحجوب اپنے زمانہِ تحریر سے چار سو برس قبل تک کے معروف مشاہیر کے فکر کا احاطہ کرتی ہے۔ گویا یہ کتاب ہمیں سلسہ بسلسلہ منبع رشد و ہدایت برائے کل عالمین … عالمین میں تمام جہان اور تمام زمانے شامل ہیں … رحمۃ اللعالمینؐ سے متعلق و منسلک کرتی ہے۔ اس نادرِ روزگار کتاب کے پہلے سات ابواب میں تصوف کو بطور ایک موضوع بھی ڈسکس کیا گیا ہے، اگر کسی ذہن میں تصوف کے متعلق کوئی اشکال موجود ہے تو یہ کتاب بڑے احسن اور مدلل طریقے سے ان تمام اشکالات کو خطاب کرتی ہے۔ صاحبان فہم و فکر! یہ کتاب گزشتہ ایک ہزار برس سے سالکانِ طریقت کے لیے، راہ نوردانِ شوق کے لیے اور عشاقانِ ذات کے لیے ایک فکری نصاب ہے۔
تصوف اور شریعت میں کیا فرق ہے اور کیا تعلق ہے، اس کا اندازہ کشف المحجوب کے اسلوب سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہاں ہر باب اور ہر موضوع قرآنی آیت سے بسم اللہ کرتا ہے، ازاں بعد احادیثِ نبویؐ سے سند پاتا ہے، اصحابِ رسول، اہلِ بیت اور آئمہ کرام کے ملفوظات کی قبائے منقش میں سجتا سنورتا ہے اور اگلے چار سو برس کے معروف صوفیاء کے اقوال کی عبائے دلکش زیبِ جاں کیے ہوئے قارئین کے شعور کے آنگن میں چکا چوند کر رہا ہے۔
مثال کے طور پر علم کی بات تو یہاں بابِ اول ہی ’’اثباتِ علم‘‘ ہے۔ اس باب میں علم کی ضرورت اور اہمیت پر بات ہے، علمِ نافع اور غیر نافع کی وضاحت ہے، علم اور عمل میں کیا تعلق ہے، علم اور عمل میں فوقیت کسے حاصل ہے، اس پر سیر حاصل تذکرہ یہاں موجود ہے۔ ملحدین اور سو فسطائیوں کے غیر منطقی دلائل کا تریاق یہاں اہلِ فکر کے شعور کو شفا بخش رہا ہے۔
درویشی ایک طرزِ فکر ہے، اس کا تعلق مال و اسباب کے ہونے یا نہ ہونے سے نہیں، ’’فقر و صفوت‘‘ کے باب میں اس موضوع پر مکمل تھیسس موجود ہے۔ کیا فقیر کو صاحبِ سیم و زر ہونا چاہیے یا مال و اسباب سے فراغت ہی اس کے لیے سیدھا راستہ ہے۔ آج کی طرح یہ موضوع اس وقت بھی درویشوں کے ہاں زیرِ بحث تھا۔ سیدِ ہجویرؒ کشف المحجوب میں رہنمائی فرماتے ہیں کہ یہاں ایک سالک کو اپنا اختیار استعمال نہیں کرنا چاہیے، اس کا رب اسے جس حال میں رکھے، قبول کرے، اگر اسے غنی کرے تو قبول کرے، اگر مال و اسباب سے دور رکھے تو اسے اپنے لیے بہتر جانے۔ آخر میں صاحبِ کشف المحجوب اپنی رائے پیش کرتے ہیں، اور یہ رائے عین سنتِ نبویؐ کی متابعت و مطابقت میں ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ اگر سالک کو اختیار دیا جائے تو اسے چاہیے کہ مال و اسباب سے فارغ درویشی قبول کرے، کیونکہ نعمت اپنی جانب مشغول کر لیتی ہے اور منعم سے محجوب کر دیتی ہے، جبکہ مال اسباب سے تہی درویش ہر معاملے میں اپنے رب کی طرف نگاہ کرتا ہے اور یوں صاحبِ ثروت درویش سے بہتر ہوتا ہے۔ اس کی سند میں آپؒ ایک معروف حدیثِ پاک پیش کرتے ہیں جس میں تذکرہ ہے کہ رسولِ رحمتؐ کی خدمت میں فرشتہ حاضر ہوا اور کہا رب تعالیٰ پوچھ رہا ہے کہ آپؐ کو بادشاہ نبی بنایا جائے یا فقیر (درویش) نبی؟ اس پر رسولِ کریمؐ نے فرمایا کہ میں بادشاہ نہیں بننا چاہتا بلکہ چاہتا ہوں کہ میرا رب مجھے مسکین رکھے، ایک دن کھانا کھلائے اور ایک دن بھوکا رکھے۔ یہاں سے فقر کا مزاج سمجھ میں آ جاتا ہے۔ نانِ جویں پر پلنے والا فقر ہی ’’الفقر فخری‘‘ کا مخاطب ٹھہرا۔
درویشوں کو کوئی مخصوص لباس یعنی گدڑی پہننا چاہیے یا یہ غیر ضورری ہے؟ یہ بحث بھی کشف المحجوب میں سمیٹ دی گئی ہے۔ گدڑی کب پہننی چاہیے، اس کے لوازمات کیا ہیں، گدڑی پہنانے والے کا کیا مقام ہونا چاہیے، کون لوگ ہیں جو گدڑی پہننے سے ماوراء ہیں … ان سب احکامات پر یہاں ایک مکمل رہنمائی موجود ہے۔
اسی طرح ملامت کے بارے ایک فکری رہنمائی کر دی گئی ہے۔ بتایا گیا کہ ملامت تزکیہ نفس حاصل کرنے کا بہترین راستہ ہے اور یہ امتِ محمدیہ ہی کا خاصا ہے۔ ملامت شریعت کے منافی چلنے کا نام ہرگز نہیں، بلکہ یہ مخلوق میں پذیرائی اور جاہ طلبی سے اعراض کا نام ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص آج ملامت کے راستے پر چلنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنی نمازوں کو ذرا طول دے، شریعت پر سختی سے پابندی اختیار کرے، پھر وہ دیکھے کہ لوگ اس پر کیسے ریاکاری کی تہمت لگاتے ہیں، یوں اسے مقصودِ ملامت حاصل ہو جائے گا۔
تصوف کی حقیقت پر متشکک اور معترض لوگوں کے متعلق، تصوف اور شریعت میں فرق سمجھنے والوں کی بابت سیدِ ہجویرؒ نے ایسا فیصلہ جاری کیا ہے جو اس باب میں حرفِ آخر ہے۔ آپؒ ایسی پُرجمال شخصیت انتہائی پُرجلال انداز میں یوں قلم فرسا ہے: ’’تم تصوف کا انکار کرنے والوں سے پوچھ سکتے ہو کہ آخر تصوف کے اِنکار سے تمہاری کیا مراد ہے؟ اگر وہ محض تصوف کے نام سے انکار کرتے ہیں تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ معانی کی حقیقت لفظوں سے بے نیاز ہوتی ہے، لیکن اگر وہ تصوف کے اصل معنی کا انکار کرتے ہیں تو یہ درحقیقت پیغمبر ِ اِسلامؐ کی شریعت اور آپؐ کے اَوصاف ِ حمیدہ کا اِنکار ہے۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ اِس طریقِ تصوف کے حقوق کی پاسداری کرتے رہنا، اِس کے ساتھ انصاف سے کام لینا، دعویٰ کرنے سے بچتے رہنا اور اہلِ طریقت کے بارے میں نیک اعتقاد پر قائم رہنا‘‘۔
آج کے دور میں تصوف کا محسن وہی ہے جو تصوف اور شریعت میں یکجائی اور یکتائی کو دریافت کرتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے کیا خوب فرمایا: طریقت دراصل شریعت بالمحبت ہے۔
(سہ روزہ رومی انٹرنیشل کانفرنس کے اختتامی سیشن منعقدہ 24 اپریل 2025ء اسلام آباد میں پڑھا گیا)
تفہیم تصوف میں کشف المحجوب کی اہمیت
09:56 AM, 30 Apr, 2025