ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ جیت لیا، لیکن اس کامیابی کے باوجود کھیل کی روح شدید زخمی ہوئی۔ بھارت نے صرف کرکٹ کا مقابلہ نہیں جیتا بلکہ کھیل کو سیاست کی زہریلی کھال میں لپیٹ کر جینٹل مین گیم کی عزت کو بری طرح مجروح کیا۔ دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں اختتامی تقریب میں تاخیر ہوئی اور بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر کے کھیل کے اصل اخلاقی معیار کو پامال کیا۔
دوسری جانب پاکستانی ٹیم نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی فیس سات مئی کو بھارت کی جانب سے کیے گئے حملے میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے نام کردی، جن میں بچے اور عام لوگ شامل ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس اقدام کی تائید کی اور کہا کہ یہ رقم متاثرہ خاندانوں کو دی جائے گی۔
ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی نے بھارت کی اس حرکت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کھیل اور جنگ کو یکجا کر کے کھیل کی پاکیزگی کو خاک میں ملا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ تمہارا فخر ہے تو تمہیں ذلت آمیز شکست ہوئی ہے، اور تاریخ پاکستان کی فتح کو یاد رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کشیدگی نے جیت کے موقع کو بھی سیاہ کر دیا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اس صورت حال میں سخت تنقید کی گئی ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے کھیل کو جنگی بیانیے میں تبدیل کرنے پر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سوال اٹھایا گیا کہ کیا مودی کو سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کا کچھ شعور ہے؟ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ مودی ہر جگہ سیاست گھسا دیتے ہیں، چاہے کھیل ہو، ہوا ہو یا پانی۔ ان کی سیاست نے بھارتی ٹیم کے رویے کو بھی بدنام کیا، کیونکہ انہوں نے کرکٹ کی جیت کو ایک عسکری مہم 'آپریشن سندور' سے جوڑا۔
پاکستانی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ فائنل میں مڈل آرڈر بیٹنگ بری طرح ناکام ہوئی، اہم کھلاڑی کم اسکور کر سکے، اور ٹیم آخری اوور میں ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ یہ ناکامی مستقبل کے لیے ایک سنجیدہ تشویش ہے۔
فائنل کے بعد بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات سے بچتے رہے۔ ان کی گھبراہٹ واضح تھی جب انہوں نے میڈیا مینیجر سے مشورہ لیا کہ بولنا ہے یا نہیں۔ یادو نے سیاسی بیانات دیے اور اپنے میچز کی فیس بھارتی فوج کو دینے کا اعلان کیا۔ بھارتی میڈیا منیجر نے ایک پاکستانی صحافی کے سوال کو بھی مسترد کر دیا، جس سے تنازع مزید بڑھ گیا۔
بھارتی ٹیم نے ٹرافی لینے سے انکار کر کے اسٹیڈیم بغیر انعامات کے چھوڑ دیا، جو کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ بھارتی کھلاڑیوں نے فرضی ٹرافی کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جو ٹیم کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچانے کا سبب بنی۔
بھارتی فاسٹ بولر جسپریت بمراہ نے پاکستانی کھلاڑی حارث رؤف کے "پلین ڈاؤن" ایکشن کی نقل کرتے ہوئے وکٹ حاصل کرنے کے بعد وہی حرکت دہرائی، جو خود بھارتی کرکٹ بورڈ کی شکایت کا موضوع بنی تھی۔ یہ سیاست کی مداخلت کی تلخ مثال ہے، جس سے کھیل کے حقیقی جذبے کو شدید دھچکا لگا۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ کھیل کو کھیل ہی تک محدود رکھنا چاہیے۔ سیاست اور نفرت کو کھیل کے میدان میں گھسنے نہیں دینا چاہیے، کیونکہ کھیل کی اصل روح عزت، اخلاقیات اور جینٹل مین گیم کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ پاکستانی ٹیم کو چاہیے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو دور کرے اور آئندہ میچز میں نہ صرف جیت کے لیے بلکہ عزت و وقار کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار ہو۔