معرکہ حق میں تاریخی کامیابی حاصل کر کے افواج پاکستان نے ساری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ اس جنگ میں ہمارا سامنا بھارت سے تھا۔ پاک بھارت کرکٹ میچ بھی ہوتا ہے تو قوم جذباتی ہو جاتی ہے۔ یہ تو بہرحال ایک جنگ تھی، جس نے ساری پاکستانی قوم کو متحد کر دیا۔ پاکستانی ائیر فورس نے جس جواں مردی سے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، اس کے چھ جنگی طیارے مار گرائے۔ اس کاروائی کے اثرات ہمیں عالمی سطح پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان قطر جاتے ہیں تو ان کا شاندار استقبال ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں انہیں شاہی پروٹوکول ملتا ہے اور سعودی طیارے سلامی پیش کرتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈمارشل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے۔ اس عزت افزائی کا کریڈٹ فیلڈ مارشل اور ہماری افواج کو جاتا ہے۔
چند دن پہلے ا فواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی۔ ایس ۔ پی۔ آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری جامعہ پنجاب میں طالب علموں سے گفتگو کیلئے تشریف لائے تو نوجوانوں کا جوش دیدنی تھا۔رئیس الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے خوش آمدیدی تقریر میں معرکہ حق میں شاندار کامیابی پر خراج تحسین پیش کیا تو فیصل آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھا۔ جنرل صاحب ڈائس پر آئے۔ جامعہ پنجاب کی تاریخی اہمیت پر چند جملے کہے۔ بتایا کہ اس درسگاہ سے ان کا ایک خاص تعلق ہے۔ کسی زمانے میں ان کی والدہ محترمہ یہاں زیر تعلیم تھیں۔ کہنے لگے کہ ہمارے بچپن میں جب بھی والدہ کا جامعہ پنجاب سے گزر ہوتا تووہ ہم بچوں کو نہایت فخر سے بتاتیں کہ یہ میری یونیورسٹی ہے۔ ان کی مختصر گفتگو کے بعد سوال جواب کا طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔
بر سبیل تذکرہ، چند ہفتے قبل مجھے جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ) میں ڈی۔ جی آئی۔ ایس ۔ پی۔ آر سے مکالمے کا موقع ملا تھا ۔ یہ ایک فکر انگیز نشست تھی۔ مکالمے کے موضوعات سے قطع نظر، مجھے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا انداز گفتگو اور بدن بولی یعنی باڈی لینگویج نہایت متاثر کن لگی۔ یوں جیسے ابلاغیات کا کوئی ماہر پروفیسر بات کر رہا ہے۔ ان کے پاس دلائل اور حقائق کا انبار تھا۔ تاہم وہاں حاضرین کی تعداد نسبتاً محدود تھی۔ بیشتر کا تعلق میڈیا اور صحافت سے تھا۔ جی۔ ایچ ۔ کیو کے سنجیدہ ماحول میں ، میچور حاضرین سے گفتگو کرنا ایک اور بات ہے ۔ جبکہ مختلف علاقائی اور ذہنی پس منظر کے حامل نوجوانوں کے سامنے آن کھڑے ہونا ایک دوسری بات ہے ۔آج کے دور میں ایسا خطرہ کوئی بڑا سیاست دان بھی کم ہی مول لیتا ہے۔ ڈی۔ جی آئی ۔ ایس۔ پی۔آر کو داد دیجئے کہ وہ براہ راست مکالمے کے لئے ایک ایسے پنڈال میں چلے آئے جہاں پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان موجود تھے۔ وہ بلوچ نوجوان بھی جو اپنی محرومیوں (اور بسا اوقات غلط فہمیوں ) کا تذکرہ کرتے کسی بھی صوبے، ادارے یا شخصیت کو مورد الزام ٹھہراتے نہیں چوکتے۔ مختلف سیاسی نکتہ ہائے نگاہ کے حامل ایسے نوجوان بھی جو اپنی فہم اور دانست کے مطابق سامنے والے پر کوئی بھی سوال داغ دیتے ہیں۔ اگرچہ جی۔ ایچ ۔ کیو میں ہمیں سوال کرنے کی کھلی چھوٹ تھی ، البتہ حاضرین کو موڈریٹ کرنے کیلئے میجر جنرل رضا اور بریگیڈئیر قاسم موجود تھے ۔ تاہم جامعہ پنجاب میں رضا کار طالب علم ہر اس شخص کو مائیک تھما دیتے، جو سوال کے لئے ہاتھ بلند کرتا۔ سوال جواب کا یہ سلسلہ بغیر کسی روک ٹوک کے کم و بیش دو گھنٹے تک جاری رہا۔
طالب علموں کو مکالمے کے آغاز میں بتا دیا گیا تھا کہ سوال پر کسی قسم کی قدغن نہیں ہے۔نشست کا مقصد حاضرین کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش کرنا ہے، نہ کہ اسے تسلیم کروانا۔ آپ کی مرضی ہے، آپ اتفاق کریں یا اختلاف ۔شرکاء نے کھل کر سوال کئے۔ جو جس کے دل (اور منہ) میں آیا پوچھ لیا۔ دہشت گردی، عدلیہ اورمیڈیا جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ ایجنسیوں کے کردار ، نیشنل ایکشن پلان اور بلوچستان کے حالات پر بات ہوئی۔ اسمگلنگ ، گوررننس ، تعلیم سمیت دیگر معاملات پر گفتگو رہی ۔اس سارے مکالمے کا اہم نکتہ یہ تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے زمانے میں سچ اور جھوٹ کی تمیز ختم ہو گئی ہے۔ جھوٹی اور غلط معلومات تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ نوجوان تیزی سے جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار ہو رہے ہیں۔ سنی سنائی باتیں ان کے دماغوں میں جگہ بنا رہی ہیں۔ اس صورتحال میں نوجوانوں کو چاہیے کہ تحقیق اور تصدیق کا راستہ اختیار کریں۔ جیسا کہ قرآن پاک کی سورہ حجرات میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔اس تناظر میںلازم ہے کہ نوجوان فیک نیوز سے بچنے کے لئے حقائق اور سچ کی کھوج لگائیں ۔ اس کے بعد اپنی رائے قائم کریں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو بطور استاد ہم برسوں سے پڑھ اور پڑھا رہے ہیں۔تاہم جنرل صاحب کے سمجھانے کا انداز مختلف تھا۔ ان کی مثالیں منفرد تھیں۔وہ بے تکان بولتے رہے۔ فیصل آڈیٹوریم بار بار تالیوں سے گونجتا رہا۔
بطور استاد ہم صحافت اور ابلاغیات کے طالب علموں کو سکھاتے ہیں کہ اگر آپ نے اچھی ریسرچ کر رکھی ہے۔ آپ کے پاس مستند معلومات ہیں۔آپ کو الفاظ کے چناؤ کا سلیقہ آتا ہے۔ تو آپ کو کوئی لاجواب نہیں کر سکتا۔ ڈی۔ جی صاحب نے اس تھیوری کا عملی مظاہرہ کیا۔ طالب علموں کے ہر سوال کے جواب میں ان کے پاس اعداد و شمار تھے ۔بیان کرنے کو مختلف مثالیں تھیں۔ بلوچستان میں فروغ تعلیم کا سوال ہوا تو انہوں نے 1947ء سے بات شروع کی۔ بتایا کہ تب کیا صورتحال تھی اور اب کتنے سکول، کالج ، میڈیکل کالج، یونیورسٹیاں صوبے میں موجود ہیں۔ کتنے کلومیٹر سڑکیں کب کب بنی ہیں۔ کتنے ہسپتال، ہیلتھ سنٹرز اور ڈائیلیسز سنٹرز قائم ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ اور میڈیا کے کردار پر بات ہوئی تو انہوں نے معلوماتی اعداد و شمار پیش کر کے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ بنگلہ دیش کا ذکر چلا تو انہوں نے اس کا تاریخی پس منظر اور تازہ ترین حالات بیان کر کے اپنا مؤقف واضح کیا۔
ہم میں سے بیشتر نے ڈی۔ جی آئی۔ ایس۔ پی۔آر کو ٹیلی ویژن پر میڈیا سے گفتگو کرتے سن رکھا ہے۔ وہ نہایت نپے تلے فوجی انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ تاہم طالبعلموں کیساتھ انہوں نے غیر رسمی ،غیر روائتی اور بے تکلف انداز میں بات چیت کی۔ طالبعلموں کے سوالوں کو غور سے سنا۔ ان کی نفسیات اور ذہنی استعداد کو مدنظر رکھ کر جواب دئیے۔ جنرل صاحب کی گفتگو میں جامعیت، توازن اور دلیل کی جھلک تھی۔ انہوں نے کسی سوال پر ٹال مٹول نہیں کی۔ شرکاء کا نقطہ نظر سنا اور اپنے ادارے کا نقطہ نظر پیش کر دیا۔ اپنا مؤقف تسلیم کروانے یا اسے درست سمجھنے پر اصرار نہیں کیا۔ تکرار سے کہتے رہے کہ آپ تحقیق اور تصدیق کی روش اپنائیں۔ حاضرین نے بھی تالیاں پیٹ کر انہیں داد دی اور ان کی حوصلہ افزائی کی ۔میرا تاثر ہے کہ اس گفتگو کو حاضرین نے پسند کیا۔ نوجوانوں کو ان سوالوں کے جواب ملے جو ان کے ذہنوں میں موجود تھے۔مجھے یقین ہے کہ یہ نشست نوجوانوں کے ذہنی افق کو وسعت بخشے گی اور انہیں سوچنے پر مجبور کرئے گی۔
ڈی ۔جی آئی ۔ایس ۔پی۔ آر جامعہ پنجاب میں !!
09:22 AM, 29 Sep, 2025