زبیر احمد! کالعدم تنظیم بی ایل ایف کا سرگرم کارکن تھا

09:19 AM, 29 Sep, 2025

گذشتہ دنوں بلوچستان کے شہر دالبندین میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس دوران فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کا اہم رکن زبیر احمد عرف شاہ جی ساتھی نثار سمیت واصل جہنم ہوا جبکہ تیسرے ساتھی جہانزیب نے ہتھیار ڈال دئیے۔ زبیر بلوچ کون تھا؟ زبیر بلوچ، بلوچستان میں تمام شدت پسند، عسکریت پسند اور کالعدم تنظیموں کی نرسری ’’بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘‘ (بی ایس او) سے منسلک تھا، اس نے اپنی اشتعال انگیز تقاریر اور کذب بیانی کے ذریعے دہشت گردی کو بلوچ آزادی کی جنگ سے جوڑ کر تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کیا اور ان کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کر انہیں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اکسایا۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو دہشت گردوں کی ماں کی حیثیت حاصل ہے۔ 1961ء میں بلوچستان میں بظاہر تعلیمی شعور کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مختلف بلوچ سٹوڈنٹس تنظیموںکا قیام عمل میں آیا، بعد ازاں 25 نومبر 1967ء کو ان تمام تنظیموں کا انضمام ہوا اور اس سے پیدا ہونے والی تنظیم کی نئی پہچان ’’بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘‘ کے طور پر ہوئی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اختلافات پیدا ہونا شروع ہوئے۔ جس سے بی ایس او آزاد، بی ایس او پجار، بی ایس او مینگل، بی ایس او سٹار، بی ایس او متحدہ سمیت متعدد کا وجود عمل میں آیا اور یوں یہ نام نہاد بلوچ طلبا کے حقوق کی تنظیم مختلف سیاسی و دہشت گرد تنظیموں کا ونگ بن گئی۔ بی ایس او (آزاد) جو سب سے بڑا دھڑا تھا، فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ونگ بن گیا، 2009ء میں سب سے زیادہ سرگرم ہوا، بشیر زیب، زاہد بلوچ اور کریمہ بلوچ جیسے عالمی دہشت گرد اس سے منسلک رہے جنہوں نے بیرونی دشمنوں کی آشیر باد اور معاونت سے بلوچستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا اور یوں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر 15 مارچ 2013ء میں اس تنظیم کو کالعدم قرار دیدیا گیا۔ بی ایس او کا دوسرا بڑا دھڑا (پجار) تھا۔ زبیر بلوچ، بی ایس او (پجار) سے منسلک رہا، بعد ازاں وکالت جیسے مقدس پیشے کا لبادہ اوڑھ کر کالعدم تنظیموں کی سہولت کاری کرتا رہا۔ جس کی نشاندہی فتنہ الہندوستان کے گرفتار دہشت گردوں نے دوران تفتیش کی کہ زبیر بلوچ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے جس کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز نے دوماہ تک زبیر بلوچ کی تکنیکی نگرانی کی۔ جس دوران یہ حقائق کھل کر سامنے آئے کہ زبیر بلوچ بھارتی سپانسرڈ تنظیم بی ایل ایف کا اہم رکن اور ان کا نیٹ ورک چلانے میں بھی براہ راست ملوث ہے۔ مزید یہ بی ایل اے کے انٹیلی جنس نیٹ ورک ’’زراب‘‘ سے منسلک اور قیادت بھی کر رہا ہے۔ دوران نگرانی یہ بھی ثابت ہوا کہ زبیر بلوچ عرف شاہ جی مئی 2025ء میں ضلع چاغی میں پاک فضائیہ کے دو جوانوں کی شہادت میں براہ راست شامل تھا۔ اس کے علاوہ تفتان میں فوجی تنصیبات، ریکوڈک، سیندک منصوبوں اور چینی عملے کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات، ملک دشمنوں کو دینے میں بھی پیش پیش رہا۔ 23 اور 24 ستمبر کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز کو زبیر بلوچ عرف شاہ جی کے خفیہ ٹھکانے کی مصدقہ اطلاع ملی۔ جس پر علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور بذریعہ لاؤڈ سپیکر انہیں ہتھیار ڈالنے کے لیے بار بار کہا گیا مگر انہوں نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شرو ع کر دی جو مسلسل دو گھنٹوں تک جاری رہی، اس دوران سکیورٹی فورسز کا ایک جوان بھی زخمی ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے مؤثر اور ٹارگٹڈ جوابی کارروائی کی اور اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ آخر کار جب زبیر بلوچ عرف شاہ جی حصار میں پھنس گیا اور فرار کا کوئی راستہ نہ بچا تو اس نے اپنی گردن میں خود گولی مار کر جان دیدی۔ واضح رہے کہ پکڑے جانے کے خوف سے خود کو گولی مارنا دہشت گرد تنظیموں کا مخصوص طریقہ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کا سہولت کار اور ساتھی تھا۔ کارروائی کے دوران ان سے اسلحہ اور حساس نوعیت کا تکنیکی سامان بھی برآمد ہوا، جس کی بنیاد پر مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ سوچیے کہ اس زبیر بلوچ کی وجہ سے کتنے نوجوان گمراہی کا شکار ہو کر راہ راست سے بھٹکے ہونگے۔؟ کتنی مائوں کے لال دہشت گردی کی آگ میں جھونکے گئے ہونگے۔؟ زبیر بلوچ، بلوچستان کی خوشحالی کا کھلا دشمن تھا جس نے اپنی تقاریر میں ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں کھل کر زہر اگلا۔ ایسے افراد کی موت خس کم جہاں پاک کے مترادف ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ زبیر بلوچ، کوئی بلوچ عوام کا خیر خواہ یا کوئی ہیرو نہیں تھا بلکہ دہشت گردوں کا سہولت کار اور ساتھی تھا، ریاست سے بات کرنے کی بجائے ہتھیار اٹھانا، عوام کو بغاوت پر اکسانا حقوق یا آزادی کی جنگ نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے اور دہشت گردی ہر صورت میں قابل مذمت ہے۔ دہشت گردی کا بنیادی مقصد سماجی ڈھانچے کو توڑنا، جبکہ پس منظر میں اس کا مقصد ریاست کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ گرفتار دہشت گرد جہانزیب نے اپنے اعترافی بیان میں ہوشربا انکشافات کیے۔ اس نے بتایا کہ اس کا اصلی نام جہانزیب علی ہے اور تنظیمی نام علی جان تھا۔ جہانزیب نے بتایا کہ وہ پچھلے دو سال سے تنظیم کے ساتھ منسلک تھا اور اس نے زبیر احمد کے ساتھ مل کر سرگرمیاں کیں۔ جہانزیب نے اعتراف کیا کہ زبیر تخریبی منصوبہ بندی کرتا تھا اور دونوں مل کر بلوچستان کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے، مزید کہا کہ قریبی ساتھیوں کے ہلاک ہونے کے بعد اسے احساس ہوا کہ مسئلے کا حل تشدد میں نہیں۔ جہانزیب نے بتایا کہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) جیسی تنظیموں کا کردار گمراہ کن ہے۔ یہ تنظیمیں نوجوانوں کو لڑانے کا باعث بن رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بی ایس او اور بی وائی سی اپنے تربیت یافتہ سہولت کاروں کے ذریعے تعلیمی اداروں میں تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو بیرون ممالک میں پُرتعیش زندگی کے جھوٹے خواب دکھا کر گمراہ کرتے ہیں اور پھر انہیں پہاڑوں پر لیجا کر نشے پر لگا دیا جاتا ہے۔ وہاں انہیں ذہنی اور جسمانی ٹریننگ دیکر انسان سے حیوان اور درندہ بنا دیا جاتا ہے۔ قومی دھارے میں شامل ہونے والے طلعت عزیز، نجیب اللہ اور چنگیز خان جیسے کئی جوان اس کی زندہ مثال ہیں۔

مزیدخبریں