عمران کی سیاسی و سفارتی بصیرت

09:19 AM, 29 Sep, 2025

سعودی شہزادہ محمد نے اپنے جہاز پر عمران خان کو امریکہ بھیج کر عزت افزائی کی۔ جہاز میں ہونے والی باتیں شہزادے تک پہنچ رہی تھیں۔ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی اقدار و تربیت سے نابلد عمران نے جہاز میں بیٹھتے ہی امریکیوں کو خوش کرنے کیلئے سعودی شہزادے کی برائیاں شروع کر دیں۔ واپسی پر شہزادے نے بے عزت کر کے جہاز سے اتار دیا کہ چلو کسی دوسرے جہاز کی اکانومی کلاس میں آؤ۔ بدلہ لینے کو بشریٰ کے مشورے پر او آئی سی توڑنے کا فیصلہ کیا اور عربوں کے مقابل اسلامی بلاک بنانے کا نعرہ لگا کر ترکیہ اور ملائیشیا کو دعوت دے دی۔ وہ تیار ہو گئے تو شہزادے نے سعودی عرب بلوایا اور دھمکی دی کہ ایسا کیا تو تیل بھی بند کر دونگا اور پاکستانی ورکرز بھی واپس بھیج دونگا۔ گویا حقہ پانی بند۔ بے عزت ہو کر واپس آیا تو اپنی کیبنٹ میٹنگ میں شہزادے کو بُرا بھلا کہا جو اپنوں نے ہی شہزادے تک پہنچا دیا تو شہزادے نے پاکستان کے قومی خزانے میں رکھے اپنے 3 ارب ڈالر واپس مانگ لیے۔ بمشکل 1 ارب ڈالر چین سے ادھار لے کر فوج کے منتوں ترلوں سے شہزادے کو واپس کیے اور شہزادے کا غصہ ٹھنڈا کیا۔ فوج نے شہزادے کو راضی کیا تو شاہ محمود قریشی نے عمران کے کہنے پر یہ اعلان کر دیا ’’اب ہمیں سعودی عرب کے بغیر آگے بڑھنا ہو گا‘‘۔ اسلامی کانفرنس جو عمران کی فرمائش پر بلائی گئی تھی میں شریک ہوا نہ وفد بھیجا۔ اس بد عہدی پر ترکیہ عمران سے اتنا ناراض ہوا کہ اردوان کو منانے عمران کو ترکیہ جانا پڑا۔ترکیہ پہنچا تو اسکے استقبال کیلئے ائرپورٹ پر کوئی بھی موجود نہ تھا۔ پھر اردوان نے تقریر کی کہ عمران سعودی دباؤ پر وعدے سے مکر گیا۔
ملائیشیا نے عمران کی فرمائش پر اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کا فیصلہ کیا، تیاری مکمل کی اور مہاتیر نے قوم سے خطاب بھی کیا لیکن عمران یہاں بھی نہ پہنچا۔ چین سے رازداری کے معاہدے کے باوجود عمران نے سی پیک کی تفصیلات امریکہ کو فراہم 
کیں جس پر چین سخت ناراض ہوا۔ پھر سی پیک کو فریز کر دیا کہ ہم نے معاہدے میں تبدیلیاں کرنا ہیں۔ جس پر چین مزید ناراض ہو گیا۔ چین نے اپنا سرمایہ کاری وفد بھیجا تو مراد سعید نے انکو کمرے سے نکال دیا کہ تم لوگوں نے پرفیوم اچھا نہیں لگایا۔ جس پر چین نے مراد سعید کو بلیک لسٹ کر کے اسے چین کا ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔ یوں وہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا وزیر ثابت ہوا جو چین میں بلیک لسٹ ہوا۔ اس سب کے بعد جب عمران چین پہنچا تو چین نے اسکو بے عزت کرنے استقبال کیلئے میونسپل کمیٹی کی سربراہ کو بھیجا اور صدر شی نے ملاقات کیلئے اسکو تین دن انتظار کرا کر محض چند منٹ کی ملاقات کی۔ یوکرائن پر روسی حملے والے دن روس پہنچ گیا۔ سیاسی و سفارتی اعتبار سے یہ دورے کا بدترین وقت تھا۔ پوتن جیسے کائیاں شخص نے عمران جیسے گھامڑ کو سامنے بٹھا کر یوکرین پر حملہ کر دیا اور امریکہ و مغرب کو پیغام دے دیا کہ یوکرین پر حملے کے وقت تمہارا ایک قریبی دوست میرے ساتھ بیٹھا ہے۔ یوں عمران روس سے خطے کی سب سے بڑی جنگ کا افتتاح کر کے لوٹا۔ یوکرین پر حملہ یورپی یونین کے اتحادی پر حملہ تھا۔ جنگ سے متاثر ملک کے سفیر کوشش کرتے ہیں کہ جنگ میں زیادہ سے زیادہ ممالک کی حمایت حاصل کریں۔ اسی لیے انہوں نے عمران کو خط لکھا کہ روس نے آپ کو ساتھ بٹھا کر ہم پر حملہ کیا ہے کم از کم آپ اس کی مذمت ہی کر دیں۔ اس سفارتی درخواست کا سفارتی جواب دینے کے بجائے عمران نے جلسہ بلوا کر تقریر کی اور مشہور زمانہ جملہ کہا ’’ہم کوئی غلام ہیں کہ تم جو کہو ہم مان لیں؟‘‘ بائیڈن سے عمران کو شکایت ہی رہی کہ وہ اسے کال نہیں کرتا۔ افغانستان سے امریکی انخلا میں مدد کے بدلے کچھ نہ لیا۔ طالبان کا ہمدرد رہا۔ بعد میں انہی طالبان نے افغانستان میں چھوڑے گئے اسلحے کو ہمارے خلاف ہی استعمال کیا۔ لاکھوں افغانیوں کو پاکستان لا بسایا۔ پھر بھی امریکی لفٹ نہ ملی تو ایک پلانٹڈ انٹرویو میں کہا کہ میں ایٹمی ہتھیار رکھنے کے خلاف ہوں۔ یوں پیغام دیا کہ میں یہ بھی کر سکتا ہوں۔ جب پوچھا گیا کہ امریکہ اڈے مانگے تو دینگے تو جواب میں ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کا ڈرامہ رچا دیا۔ ایران پہنچا تو کہہ دیا ’’ایران میں دہشت گردی پاکستان سے ہو رہی ہے‘‘۔ اس پر پاکستانی وفد بھی حیران رہ گیا کیونکہ کوئی سربراہ ایسے نہیں کہتا۔ اس وقت جنرل عاصم منیر بطور ڈی جی آئی ایس آئی ہمراہ تھے اس بات پر ان دونوں میں پہلا اختلاف ہوا۔ جنرل عاصم منیر کا موقف تھا کہ یہ کہہ کر آپ نے ایسا تاثر دیا ہے جیسے پاکستان ایران میں دہشت گردی کرا رہا ہے اور ایران جو کچھ بلوچستان میں کر رہا ہے اور جیسے ہم نے ایران سے آپریٹ کرنے والے کلبھوشن کو پکڑا ہے اس پر آپ نے بات کیوں نہیں کی؟ افغانستان سے امریکی انخلا شروع ہوا تو عمران نے افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی نہ ہونے دینے کی کوئی ضمانت نہ لی۔ افغانستان کی جیلوں میں موجود خوارج کی پاکستان کو حوالگی کیلئے نہیں کہا۔ نہ ہی پاکستان میں موجود افغانیوں کو وطن واپس بھیجنے کا طریقہ طے کیا لیکن جونہی طالبان کی حکومت بنی تو ان کی فرمائش پر عمران خود ہی چالیس ہزار دہشت گردوں اور انکی فیملیوں کو پاکستان لے آیا۔ افغانستان کی جیلوں میں قید خارجیوں کو پاکستان کے حوالے کرنا تو درکنار جب طالبان نے انکو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ بھی رکوانے کی کوشش نہیں کی۔ یہی دہشت گرد اس وقت وزیرستان اور باجوڑ میں آگ لگا رہے ہیں۔ 2019 میں جنرل باجوہ نے بزدلانہ بیان دیا کہ پاکستان کے پاس تو اپنے ٹینکوں کیلئے پٹرول تک نہیں۔ بطور وزیراعظم اس شکست خوردہ بیان پر باجوہ سے وضاحت نہ مانگی۔ الٹا 2019 میں بھارت نے کشمیر ہڑپ کر لیا اور آزاد کشمیر پر قبضے کی دھمکی دے دی۔ بزدل عمران نے اس پر ایوان میں کہا ’’میں کیا کروں؟ کیا انڈیا پر حملہ کر دوں؟‘‘۔ ابھی نندن اپنے مگ سمیت پاکستان میں گرا دیا گیا تو اگلے ہی دن ابھی نندن کو واپس کر دیا۔ کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کو عمران کا ایک دورہ ہی کافی رہتا۔ ایک ملک سے تعلقات ٹھیک کرنے جاتا تو دو سے بگاڑ آتا۔

مزیدخبریں