خیبر پختونخوا کی سیاست اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف سے ملاقات کی کوشش کی، لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق وزیر اعلیٰ نے مختصر اور مؤثر کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ سیاسی اور انتظامی استحکام برقرار رہے۔
ابتدائی طور پر کابینہ میں شامل افراد میں مینا خان، شکیل خان، فیصل ترکئی، عاقب اللہ، فخر جہاں اور فضل شکور شامل ہیں، جبکہ مزمل اسلم مشیرِ خزانہ مقرر ہوں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، کابینہ کی تشکیل میں تاخیر ایمرجنسی کے امکانات پیدا کر سکتی ہے، جس سے صوبے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
اسی دوران، شبلی فراز کی خالی نشست پر ہونے والے سینیٹ انتخابات اور اپوزیشن لیڈر کی تقرری جیسے معاملات صوبائی اور قومی سیاست میں نئے توازن کے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان مذاکرات سے پتہ چلتا ہے کہ قومی سطح پر بھی سیاسی معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ مرحلہ صوبے کے سیاسی استحکام کے لیے اہم ہے، کیونکہ کابینہ کی تشکیل اور انتخابات کے نتائج مستقبل میں خیبر پختونخوا کی ترقی اور حکومتی کارکردگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
اب صوبے کے عوام اور سیاسی حلقے یہ دیکھ رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کب کابینہ کی حتمی تشکیل کرتے ہیں اور صوبائی معاملات کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔
مجموعی طور پر، خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال ایک نازک اور حساس مرحلے میں ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر اپنی کابینہ کی تشکیل کا دباؤ ہے، جبکہ پارٹی کی داخلی حکمت عملی اور بانی پی ٹی آئی کے مشورے کی بنیاد پر فیصلے مؤخر ہو رہے ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں کابینہ کی حتمی تشکیل، سینیٹ انتخابات کے نتائج اور اپوزیشن لیڈر کی تقرری صوبے کے سیاسی استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی ٹیم کے انتخاب اور کابینہ کی ساخت صوبے میں حکومت کی کارکردگی، عوامی خدمات کی فراہمی، اور سیاسی کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس وقت خیبر پختونخوا کے سیاسی منظرنامے پر نظر رکھنے والے حلقے ہر قدم کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ آئندہ چند دن صوبے کی سیاسی سمت کے لیے نکتہ عروج ثابت ہو سکتے ہیں۔