ہمیں اپنے گورننس ماڈل کو ٹھیک کرنا پڑے گا،چیئرمین ایپ سپ پروفیسرڈاکٹر چودھری عبدالرحمان

11:30 AM, 29 Oct, 2025

پشاور : رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ حیات آباد پشاور میں ایپ سپ کے زیر اہتمام ’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر ایک اہم آگاہی سیشن منعقد کیا گیا، جس میں چیئرمین  پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر ایپ سپ کے چیئرمین، پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے پاکستان میں تعلیمی اور صحت کے شعبے میں نجی سیکٹر کے کردار کو اجاگر کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان  نے اپنے خطاب میں کہا آج کا دن خیبرپختونخوا کی تاریخ میں اہم دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیونکہ میاں عامر محمود نے پاکستان کے تعلیمی نظام میں جو اہم کردار ادا کیا ہے، وہ بے مثال ہے۔ ان کی بدولت پاکستان کو 400 سے زائد کالجز اور 3 بہترین یونیورسٹیاں ملی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا پامی ہر سال 11 ہزار میڈیکل گریجویٹس پیدا کر رہا ہے اور 40 ہزار بیڈز پر عوام کو سستی قیمت پر علاج فراہم کر رہا ہے۔ اگر پرائیویٹ سیکٹر نہ ہوتا تو ملک کی حالت اور بھی بدتر ہو چکی ہوتی۔ آج اگر ملک میں کچھ بچا ہے تو وہ پرائیویٹ سیکٹر کی بدولت ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے گورننس ماڈل کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ "اگر ہم اس ملک کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں سچائی، ایمانداری اور قرآن پاک کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "اگر ہمیں ایک اچھا انسان بننا ہے تو ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے سیکھنا ہوگا، کیونکہ ان کی تعلیمات میں کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔"

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے ایپ سپ کی اس اہم کاوش کا بھی ذکر کیا اور کہا، "ایپ سپ نے یہ قدم اٹھایا جس پر ہم شکر گزار ہیں، اور میں امید کرتا ہوں کہ رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کو خیبرپختونخوا کی تاریخ میں اسی طرح یاد رکھا جائے گا جیسے علی گڑھ یونیورسٹی کو یاد کیا جاتا ہے۔"

مزیدخبریں